سرورق مضمون

دودن کی بارش نے پھر قیامت بپا کی / ہائی وے زیرآب ، سیلاب کا الارم/ لوگوں کی چیخ وپکار ، انتظامیہ مفلوج

ڈیسک رپورٹ
انتھک بارش کی وجہ سے ایک بار پھر وادی میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ دودن تک لگاتا ر بارش نے پوری وادی میں سخت خوف و ہراس پیدا کیا۔ ندی نالوں میں پانی کا بہائو بڑھ گیا اور دریا ئے جہلم خطرے کی سطح کے نزدیک بہنے لگا ۔ سڑکیں زیرآب آگئیں اور جگہ جگہ بستیوں میں پانی بھر گیا ۔ نچلے علاقوں میں بسنے والے لوگ کئی طرح کی پریشانیوں میں پھنس گئے ۔ سب سے پہلے بالائی علاقوں کے ندی نالے گرجنے لگے۔ قاضی گنڈ سے بارھمولہ تک ہر جگہ سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ایک طرف پانی کا قہر دوسری طرف لگاتار بارش کی وجہ سے لوگ پریشانیوں سے دوچار ہوگئے۔ گھروں میںپانی بھر گیا ، میوہ باغات تباہ ہوگئے اور کھیت کھلیان تالابوں میں بدل گئے ۔ لوگوں کو سخت قسم کے نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ اس مرحلے پر انتظامیہ گدھے کے سینگ کی طرح غائب اور حکومت کا کہیں نام و نشان نہ تھا ۔ لوگ بے بسی سے تماشہ دیکھنے پر مجبور ہوگئے ۔
سیلابی صورتحال اس وقت پیدا ہوگئی جب بدھ کی صبح کو بارش شروع ہوئی اور لگاتار چوبیس گھنٹے برستی رہی ۔ موسلا دھار بارش کی وجہ سے لوگ اندازہ لگارہے تھے کہ ایک بار پھر آسمان سے آفت آنے والی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی وارننگ دی تھی کہ جمعہ تک موسلا دھار بارش ہونے کا امکان ہے ۔ بارش پیشن گوئی کے عین مطابق کئی گھنٹے جاری رہی اور جمعرات کی صبح کچھ وقفہ ملنے کی وجہ سے تھوڑی بہت راحت میسر آگئی ۔ اس کے باوجود کئی علاقوں میں پانی بھر گیا اور کافی مالی نقصان ہوا ۔سنگم اننت ناگ سے اطلاع ملی کہ محکمہ اری گیشن اور فلڈ نے جنوبی کشمیر میں سیلاب کا اعلان کردیا ہے ۔ بعد میں جب موسم قدرے بہتر ہوا اور محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کے آنے سے انکار کیا تو فلڈ ڈیپارٹمنٹ نے یہ وارننگ واپس لی۔ اس کے باوجود کئی علاقے زیرآب آگئے اور بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال کاسامنا کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ سرینگر میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں گلی کوچوں میں پانی بھر گیا اور لوگوں کا چلنا پھرنا دوبھر ہوگیا۔ اسی طرح دوسرے کئی علاقوں جن میں پانپور ، لسجن ، اننت ناگ اور دوسرے کئی علاقے شامل ہیں سیلاب کی زد میں آگئے۔ یہاں سے ملی اطلاعات کے مطابق کئی گھروں میں پانی بھر گیا اور لوگوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ سیلابی صورتحال سے معلوم ہوا کہ پچھلے سال کے سیلاب سے لوگوں اور حکومت میں سے کسی ایک نے بھی سبق نہیں سیکھا ہے۔ سیلاب اچانک نہیں آیا ۔ بلکہ اس طرح کی بارش کے حوالے سے پہلے ہی اطلاعات لوگوں تک پہنچائی گئی تھیں۔ لیکن حکومت نے اس حوالے سے کوئی خاص تیاری نہ کی تھی۔ انتظامیہ بالکل مفلوج نظر آئی ۔ بجلی بحالی اور پانی کی نکاسی کے علاوہ حکومت کے پاس کچھ کرنے کو کچھ بھی باقی نہیں ہے ۔ انتظامی مشنری تیار بہ تیار نہ تھی بلکہ اس مشنری کو سامنے لانے میں کئی دن لگے ۔ اکثر لوگ محض تماشہ دیکھنا ہی کافی سمجھتے تھے۔ ان کے لئے عملی طور کچھ کرگزرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس کے بجائے عام لوگ اور عام کارکن بڑی دل لگی سے کام کرتے تھے ۔ ادھر روزوں کے ایام بھی ہیں ۔ لوگوں کو بنیادی سہولیات میسر رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔ لیکن حکومت کا کہیں پتہ نہیں۔ اسی طرح انتظامیہ پوری طرح سے مفلوج ہے۔ اس طرح سے صرف دو دن کی بارش نے حکومت کا پول کھول دیا اور لوگ حیران رہ گئے کہ مفتی سعید کی سربراہی میں اہلکار حکومتی احکامات لینے سے انکار کررہے ہیں ۔