اداریہ

دوسری اننگ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟

پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی یعنی اقتدار کی دوسری اننگ رواں مہینے کی 4 تاریخ کو کھیلنی شروع کی۔ اس کے لئے مرحوم مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی کو مخلوط سرکارکے سربراہ یعنی وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب پر براجمان کیا گیا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اگر چہ وزیراعلیٰ کا حلف لینے کے فوراً بعد جموں میں سیول سیکریٹریٹ جا کر افسروں کی میٹنگ بلائی اور افسروں سے تاکید کی کہ وہ ریاست میں صاف شفاف نظام کو یقینی بنائیں، دوسرے لفظوں میں محبوبہ مفتی نے افسروں سے باندھ باندھ کی کہ ریاست میں رشوت ستانی کا قلع قمع کیا جائے اور عوام کی راحت رسانی کے لئے وہ ہر وقت تیار رہیں۔ محبوبہ مفتی کا یہ فرمان اس وقت جاری ہوا جب وہ راج بھون جموں میں حلف برداری کی تقریب سے فارغ ہو کر سیول سیکریٹریٹ جموں میں انتظامی سیکریٹریوں سے ایک میٹنگ کررہی تھیں۔

وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا بطور وزیراعلیٰ حلف لینے کے بعد پہلے ہی روز رشوت ستانی کے خلاف فرمان جاری کرنابجا مگر یہ فرمان خالص فرمان تک ہی محدودرہنے والے ہیں یا محبوبہ مفتی رشوت ستانی کے خلاف جاری کئے گئے فرمان سے کار بند رہنے والی ہیں۔ اس بات کی طرف دھیان دینے کی بھی ضرورت ہے کہ محبوبہ مفتی اپنے اس فرمان سے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ریاست رشوت خوری کی دلدل میں ڈھوبی ہوئی ہے اور اس لئے اس فرمان کو اولین فرمانوں میں شامل کیا گیا۔ محبوبہ مفتی نے اگر چہ فی الحال اقتدار کو ترجیح دی تاہم اسے اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگر وہ اس وقت ایسا کچھ نہیں کرتی اور اگر ریاست میں اُس وقت الیکشن کرانے پڑتے تو ظاہر سی بات ہے کہ پی ڈی پی کی شبہہ بہت خراب ہو گئی تھی جس کو مد نظر رکھ کر پی ڈی پی کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے، یہی مد نظر رکھ کر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ دوبارہ الائنس کر کے دوسری اننگ کھیلنے کی کوشش کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی پی صدر اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کچھ ایسا کرتی ہیں جس سے وہ عوام کے دل لبھانے میں کامیابی حاصل کرتی ہے کہ نہیں، جس سے پھر سے اُن کے اور پارٹی کے تئیں پزیرائی مل سکے گی۔ ساری نظریں اب دوسری اننگ پر ہے۔ اور ہر خاص و عام اس بات کو سنجیدگی سے پرکھ رہیںہیں کہ دوسری اننگ کا کیا نتیجہ نکلے گا؟