سرورق مضمون

دُلت کی کتاب منظر عام پر / سنسنی خیز انکشافات /سیاسی حلقوں میں بھونچال

ڈیسک رپورٹ
سابق ’را‘ چیف نے کشمیر کے حوالے سے کتاب لکھ کر نیا محاذ کھول دیا ہے۔ ان کی اس کتاب نے صحافتی حلقوں میں تہلکہ مچادیا اور کئی سیاسی رہنمائوں کو عوام کے سامنے برہنہ کردیا۔اس کتاب میں کشمیر کے حوالے سے کئی ایسے انکشافات کئے گئے ہیں جو اب تک صیغہ راز میں تھے۔ ان کے منظر عام پر آنے سے کئی حلقے پریشان ہوگئے ہیں۔ ان حلقوں نے اگرچہ دلت کے بیانات کی بڑے پیمانے پر تردید کی اور انہیں سفید جھوٹ سے تعبیر کیا ۔ لیکن کتاب بڑے پیمانے پر فروخت ہورہی ہے اور اس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ کتاب میں اٹل بہاری واجپائی کی وزارت عظمیٰ کے دوران کشمیر کے حوالے سے پردے کے پیچھے ہورہی سرگرمیوں کو سامنے لایا گیا ہے ۔ مصنف اس دوران وزیراعظم ہائوس میں کشمیر معاملات کے انچارج تھے اور کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم کے خصوصی مشیر تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران کشمیر مسئلے پر جو بھی سرگرمیاں جاری تھیں وہ ان کے چشم دید گواہ ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے اپنی کتاب میں ان تمام سرگرمیوں کا ذکر کیا اور ان کی تفصیل سامنے لائی ہے ۔
دلت نے اپنی کتاب میں جن باتوں کا ذکر کیا ہے ان میں بیشتر باتیں علاحدگی پسندوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کشمیر جہاد کونسل  اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے بارے میں کئی انکشافات کئے ۔ انہوں نے کہا کہ سید صلاح الدین کا وزیراعظم ہائوس کے ساتھ رابطہ  میںتھا اور وہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر سے واپس آنا چاہتے تھے ۔ اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے رابطہ کرکے اپنے بیٹے کئے لئے میڈیکل سیٹ حاصل کی۔ ان کے اس بیان کی سید صلاح الدین کے علاوہ ان کے بیٹے جو آج کل ڈ کٹری کی تربیت حاصل کررہے ہیں تردید کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں ضابطے کے تحت امتحان پاس کئے اور میرٹ کی بنیاد پر یہ سیٹ حاصل کی ۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ جموں میڈیکل کالج سے سرینگر منتقل ہونے میں انہوں نے ریاستی حکومت سے مدد حاصل کی۔ اپنے بیان میں انہوں نے مسٹر دلت کے بیان کی سخت الفاط میں تردید کی اور اس پر دلت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس بیان کے باوجود دلت کا کہنا ہے کہ علاحدگی پسندوں کا حکومت سے رابطہ ہے اور وہ حکومت سے پیسے وصول کرتے رہے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے حریت(م) کے سربراہ اور میرواعظ کشمیر ڈاکٹر عمر فاروق کے بارے میں کہا ہے کہ آپ ریاستی حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ پاکستان اور وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے خوف سے ایسا نہیں کررہے ہیں ۔ مرحوم عبدالغنی لون کے بارے میں انہو ں نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ وہ 2002 کے الیکشن کے وقت مرکز کے بہت نزدیک تھے ۔ دلت کا کہنا ہے کہ لون نے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ البتہ انہوں نے انتخابات میں مدد دینے کی یقین دہانی کی۔ اس کے عوض لون چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے سجاد لون کی مدد کی جائے۔ لون خاندان کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے کہ لون کی ہلاکت کے بعد ان کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ بلال لون حریت کانفرنس میں شامل ہوگا جبکہ سجاد مین اسٹریم میں آئے گا۔ اسی طرح کتا ب میں پی ڈی پی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کو بنانے میں حریت کے کٹر پنتھی لیڈر سید علی گیلانی نے مدد کی۔ محبوبہ مفتی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو شک تھا کہ ان کا جہادی رہنمائوں کے ساتھ رابطہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوںنے کشمیر میں ان کو اپنے ساتھ ڈائس پر لانے کی اجازت نہ دی ۔ فاروق عبداللہ کے بارے میں دلت نے کافی بہتر خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ سابق صدر جنرل مشرف نے حریت کانفرنس رہنمائوں کو الیکشن میں حصہ لینے کے لئے کہا تھا۔ دلت کا کہنا ہے کہ مشرف چار نکاتی فارمولہ کے تحت کشمیر مسئلے کو حل کرنے کے لئے تیار تھے۔