نقطہ نظر

دھان کی پنیری کے موسم کی رعنائیاں نہیں رہیں
امدادِ با ہمی اور ایک دوسرے کی مدد کا جزبہ بھی ما ند پڑ گیا

دھان کی پنیری کے موسم کی رعنائیاں نہیں رہیں<br>امدادِ با ہمی اور ایک دوسرے کی مدد کا جزبہ بھی ما ند پڑ گیا

تجمل احمد
جون کا مہینہ کئی برس پہلے تک وادی ٔ کشمیر میں کسی تہواری سیزن سے کم نہیں ہوا کر تا تھا کیونکہ اس ما ہ کے اندر وادی میں دھا ن کی پنیری بہت ہی روایتی انداز میں لگا ئی جا تی تھی ۔دھان کی پنیری لگا نے کے لئے کسانوں کو نہ ہی مزدوروں اور نا ہی کسی مشینری کی ضرورت ہوا کرتی تھی کیو نکہ زمینوں میں کسان بیلوں کی مدد سے حل جو تا کر تے تھے اور پنیری لگا نے کے وقت لوگ ایک دوسرے کی مدد کر کے ’امدادباہمی‘ کی ایک حسین اور خوبصورت مثال قائم کر تے تھے ۔یہ سیزن کئی لوگوں کے لئے کسی اعلیٰ درجے کے سیر سپاٹے سے بھی کم نہیں ہوا کر تا تھا کیو نکہ دھان کے وسیع و عریض کھیتوں کے بیچ کسی پیڑ کی چھا ئوں میں چائے نو شی یا کھانا کھا نے کا جو لطف اور مزہ ہوا کر تا تھا وہ شائد کشمیر کے مشہور و معروف مغل باغات کی سیر کے دوران چناروں کے سائے میں بیٹھ کر کھا نے پینے کا نہ ہوتا ہے۔مگر افسوس اب یہ خوبصورت روایت قصۂ پارینہ بن کر رہ گئی ہے اور مالی آسودگی و زرعی زمین کے سکڑائو نے ان امداد باہمی اور سادگی کی ان خوبصورت روایات کو تاریخ کا ایک حصہ بنا دیا ہے ۔سرینگر ٹوڈے نمائندے کے ساتھ با ت کرتے ہو ئے کولگام کے سوپر نامی علا قے کے رہا ئشی ایک 70سالہ بزرگ عبد المجید نے کہا کہ ترقی کے نام پر کشمیری قوم تنزل کاشکار ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے بچپن میں ان کے چھو ٹے سے گا ئوں کے گرد و نواح میں وسیع و عریض کھیت ہوا کر تے تھے جن میں صرف دھان کی بھوائی ہی ہوا کر تی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ان کے بچپن میں ہر طرف غربت ہی غربت تھی اور لوگوں کے پا س پیسہ بہت کم ہوا کر تا تھا۔عبدالمجید کے مطابق اس زما نے میں لوگ ایک دوسرے کی کا فی مدد کیا کر تے تھے اور دھان کی پنیری لگا نے کے سیزن میں ہر طرف جشن کا سماں ہوا کر تا تھا اور یہ منظر اس قدر حسین ہوا کر تا تھا کہ آج کے اس نام نہاد تر قی یا فتہ دور میں انہیں اپنے بچپن کے دنوںکی یاد اکثر و بیشتر جزباتی کر دیتی ہے ۔کولگام ضلع میں تعینا ت محکمہ ٔ مال کے ایک افسر نے سرینگر ٹوڈے کے ساتھ نام مخفی رکھنے کی شرط پر بات کر تے ہو ئے کہاکہ کو لگام ضلع ،جس کو کبھی ’رائس باول آف کشمیر‘ کے نام سے جا نا جا تا تھا ،میں پچھلے تیس سال کے دوران دھان کی کھیتی میں 70سے 75فیصد کی کمی ہو ئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے لئے حکو مت کی ناقص پا لیسی اور کرپشن کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی ذمہ دار ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ لینڈ ریو نیو ایکٹ جو جموں وکشمیر میں ساٹھ کی دہا ئی میں متعارف ہوا تھا ،کی روسے زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لئے استعما ل کر نا ایک جرم تھا حتیٰ کہ جن کھیتو ں میں دھا ن کی فصل کی کا شت ہوا کر تی ہے ان پر سیب یا دیگر میوہ جا ت کے با غات لگا نا بھی غیر قانونی تھا ۔انہوں نے کہا کہ مگر ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ وادی میں اس ایکٹ کی خلا ف ورزی جس پیما نے پر ہو ئی اتنا کسی اور چیز کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی ہو گی ۔مذکو رہ آفیسر کا کہنا تھا کہ لوگوں نے ذرعی اراضی کو غیر ذرعی مقاصد جن میں رہائشی مکا نا ت ،شاپنگ کمپلیکس وغیر ہ کی تعمیر شامل ہے کیلئے بے ہنگم طور استعمال کیا اور حکو مت نے اس خلاف ورزی کو روکنے کے لئے کبھی بھی کو ئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں پر محکمہ ٔ ما ل کے اہلکاروں نے کسی معاملے کی نشاندہی کی تو اس میں رشوت لے دے کر معاملہ کو رفع دفع کیا گیا اور یوں کشمیر کے اندر قابل کا شت اراضی تشویشناک رفتار سے کم ہو تی جا رہی ہے اور اس کو کنکریٹ کے جنگلا ت یعنی رہائشی کا لونیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ولگام کے ایک معروف سماجی کا رکُن عبدالاحد واحد نے سرینگر ٹوڈے نما ئندے کے ساتھ اس مسئلہ پر با ت کر تے ہو ئے کہا کہ کولگام ضلع کی اراضی دھا ن کی پیداوار کیلئے سب سے مو زون و معروف تھی اور شائد اسی وجہ سے کولگام کو’رائس باول آف کشمیر‘ کہا جا تا تھا ۔انہوں نے کہا کہ علا قے میں دھان کی جو پیداوار ہو تی تھی وہ وادی کے کسی بھی علا قے میں نہیں ہوا کر تی تھی اور آج اگر اس سارے زمینی رقبے پر دھان کی کاشت ہوتی جس پر آج سے بیس یا تیس سال قبل ہوا کر تی تھی تو یہ با ت یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم دھان کو دیگر ریا ستوں میں درآمد کر نے کے اہل ہو تے ۔ان کا کہنا تھا کہ ذرعی اراضی کے سُکڑائو سے جہاں ہم اپنی حسین و خوبصورت سماجی روایا ت سے محروم ہوئے ہیں وہیں اس سے ہما رے ما حول پر بھی انتہا ئی تشویشناک اثرات مر تب ہو ئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ دھان کی پنیری لگا نے کے سیزن میں وادی بھر میں لو گ ان کے کھیتوں کے اغل بغل میں موجود چھوٹے چھوٹے تالاب نما سروں سے ملبہ نکا ل کر اُسے کھیتوں میں بحیثیت کھا د استعما ل کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے یہ سر یا تالاب پانی کو فلٹر کیا کر تے تھے اور اس طرح سے ہمارے گا ئوں دیہات میں لوگوں کو صاف و شفا ف پا نی مہیا ہو تا تھا جبکہ یہ سر کئی طرح کی آبی حیات کے لئے رہائش گا ہوں کا کام بھی دیتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں نے بھی ذرعی اراضی کو غیر ذرعی مقاصد کیلئے استعما ل کر نے میں ایک دوسرے سے سبقت لی اور نتیجہ یہ ہوا کہ آج کل وہی کھیت جن میں کل لہلہاتی فصلیں ہوا کر تی تھیں ،سیمنٹ کے جنگلا ت اور بستیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ذرعی اراضی کو غیر ذرعی مقاصد کے لئے استعمال کر نے کا سلسلہ یو ں ہی جا ری رہا تو ہماری آئندہ نسلوں کو یہ ہی اپنے کھیتوں کی فصلیں اور نا ہی تازہ ہوا نصیب ہو گی جس کے لئے وہ ہم کو کوسیں گے ۔
وادی کے دیگر علاقوں کا حال بھی کو لگا م سے کسی طرح مختلف نہیں ہے اور ان علا قوں میں بھی دھان کے کھیتوں کو ایک تو با غات یا پھر رہائشی کا لونیوں میں تبدیل کر نے کا سلسلہ جا ری ہے ۔اب وادی کے کچھ نشیبی علاقے ہی ایسے رہ گئے ہیں جہاں دھان کی کا شت ہو تی ہے مگر یہاں بھی ستم یہ ہے کہ لوگ اب ایک دوسرے کی مدد کے لئے نہیں جا تے بلکہ پنیری لگا نے کے لئے بھی غیر مقامی مزدوروں کی خدما ت حاصل کی جا تی ہیں جس کے نتیجہ میں اس حسین و جمیل مو سم کی رعنا ئیاں ما ند پڑ گئی ہیں اور لوگوں کے بیچ کسی زمانے میں پا یا جا نے والا بھا ئی چارہ اور اخوت ختم ہو گئے ہیں ۔