نقطہ نظر

دھندلے خطوط

دھندلے خطوط
کلدیپ نائر
کانگریس نے ایک بہت بْری مثال قائم کی ہے۔ اس پارٹی نے دو مختلف عہدوں کو باہم اکٹھا کر دیا ہے، ان میں سے ایک تو پارٹی کے سرکاری ترجمان کا عہدہ ہے اور دوسرا ہے وزیر اطلاعات و نشریات کا منصب۔ ان دونوں کے کردار مختلف ہیں۔ سرکاری ترجمان پارٹی موقف کی حمایت کرتا ہے، خواہ وہ درست ہو یا غلط۔ وزیر اطلاعات و نشریات پورے ملک کا ترجمان ہوتا ہے نہ کہ کسی ایک پارٹی کا۔ پہلے کو نامزد کیا جاتا ہے جب کہ دوسرے کا عوام انتخاب کرتے ہیں۔
ان دونوں کو آپس میں مدغم کر دینا اس منصب بردار کے لیے نا انصافی ہے جو کہ فی الوقت منیش تیواری ہیں۔ وہ ترجمان کے طور پر بہت اچھا کام کر رہے تھے اور اگر انھیں موقع دیا جاتا تو وہ اور زیادہ اچھا کام کر سکتے تھے۔ بھارت میں نشریات کا محکمہ کئی دہائیوں سے محض حکومت کا تابع فرمان بن کر رہ گیا ہے اور اس سے بھی بدتر یہ بات ہے نیوز بلٹن کے نشریے کے وقت کوئی وزیر یا کوئی سینئر بیوروکریٹ عین آخری منٹ میں ٹیلی فون کر کے اس میں تبدیلیاں کرا دیتا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں بہت سے متحرک سیاسی سماجی کارکنوں نے سرکاری میڈیا کی خود مختاری کے حق میں احتجاج کیا تھا جس پر حکومت کوپرسار بھارتی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنا پڑا۔ لیکن یہ مسودہ قانون شروع ہی سے ڈھیلا ڈھالا تھا چنانچہ جب اس بل کو نافذ العمل کیا گیا تو پرسار بھارتی بھی وزارت نشریات کا ایک ماتحت محکمہ بن کر رہ گیا۔
ایک دفعہ میں نے اطلاعات و نشریات کے ایک وزیر سے پوچھا، پرساربھارتی کو بی بی سی کی طرز پر کیوں نہیں بنایا گیا جو کہ اس حوالے سے بنیادی خیال تھا تا کہ خبروں میں کوئی من چاہی تبدیلی نہ کی جا سکے۔ تاہم وزیر موصوف نے بے تکلفی سے بتا دیا کہ چونکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز نجی ملکیت میں ہیں لہٰذا حکومت چاہتی ہے کہ خبروں میں اس کا اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا جا سکے۔ یہ بات البتہ وزیر نے تسلیم کی خبر میں حقائق اور معروضیت کو قائم رہنا چاہیے، اس بات سے قطع نظر کہ خبر کے ذرایع کیا ہیں۔
لوک سبھا (ایوان زیریں) اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے اپنے چینلز بھی ہیں مگر ان میں حکومت کے بارے میں پراپیگنڈہ بہت کم دکھائی دیتا ہے حالانکہ یہ چینلز سرکاری فنڈز سے چلائے جاتے ہیں۔ تاہم دونوں چینلز میں نیوز بلیٹن نہیں ہوتے اور ایسے موضوعات سے بھی احتراز کیا جاتا ہے جس سے حکومت کو پریشانی لاحق ہو سکتی ہو۔ یہ چینلز جہاں تک ہو سکے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ نیوز اور ویوز کے پروگراموں میں حکومت پر نکتہ چینی کرنیوالوں کو مدعو نہ کیا جائے۔ یہ دونوں چینلز طریق کار کے اس پیمانے کو خراب نہیں کرتے جو انھوں نے اپنے لیے وضح کیا ہوا ہے۔ یہ پیمانہ نہ تو نکتہ چینی پر مبنی ہوتا ہے اور نہ ہی حکومتی موقف سے دور ہٹا ہوتا ہے۔
ایک اچھی جمہوری حکومت کے لیے اعتماد کے حصول کی خاطر صحیح سمت میں افہام و تفہیم کو قائم رکھنے کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا چینلز ان حدود سے تجاوز نہیں کرتے جو ان کی رہنمائی کے لیے مقرر ہیں۔ حکومت کی طرف سے میڈیا کو خود مختار قرار دینے کا دعویٰ اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب وہ اسے آزادی سے کچھ کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتی۔ حالیہ دنوں میں دو مثالیں ایسی ہیں جو حکومتی دعوے کو کھوکھلا ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ صوبہ بہار میں دوپہر کے کھانے کے بعد اسکول میں 23 بچوں کی ہلاکت کے واقعے کو پرائیویٹ چینلز نے ہر ممکن زاویے سے نشر کیا۔ جب کہ آکاشوانی اور دور درشن نے اس واقعے کو فقط رجسٹر کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ سرکاری میڈیا کی یہ مجبوری آڑے آتی دکھائی دی کہ 2014ء کے عام انتخابات میں بہار کا وزیر اعلیٰ نتیش کمار کانگریس کا ممکنہ حمایتی ہو سکتا ہے۔
ایک اور مثال لیں: مرکزی تفتیشی بیورو نے سابق وزیر ریلوے پون کمار بنسل سے پوچھ گچھ کی۔ تب سے ان کے خلاف سنگین الزامات کی ایک خبر گردش میں ہے۔ کانگریس کی نمایندگی کرتے ہوئے منیش تیواری کا کہنا ہے کہ جو لوگ الزامات لگا رہے ہیں ان کو عدالتوں کا رخ کرنا چاہیے۔ آکاشوانی اور دور درشن نئے الزامات کے بارے میں چپ سادھے ہوئے ہیں جب کہ لوگ الزامات کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔
اگر پرسار بھارتی کے پاس ذرہ سی بھی خود مختاری ہوتی تو وہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے تھے۔ حکومتی میڈیا صرف کانگریس کے موقف کی بات کرتا ہے جب کہ دیگر تمام توضیحات کو درخور اعتناء نہیں سمجھتا۔ یہی سبب تھا کہ کچھ سرگرم سیاسی سماجی عناصر نے ملک میں صحیح معلومات و اطلاعات کی بہم رسانی کے لیے تحریک چلا دی۔ آبادی کا زیادہ حصہ نجی چینلز کی نسبت حکومتی ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے زیادہ استفادہ کرتا ہے۔ ماضی قریب ہی میں کرپشن نے حکومتی میڈیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جس طرح پرائیویٹ میڈیا خبریں خرید لیتا ہے اسی طرح آکاشوانی اور دور درشن دونوں تحریک پیدا کرنیوالی ایسی کہانیاں حاصل کر لیتے ہیں جن سے ان کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم لوگوں کی اکثریت انھی کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ نیوز اور ویوز کو آپس میں یوں مدغم کر دیا جاتا ہے کہ حقیقی اور غیر حقیقی خبروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔
حکومتی میڈیا کے لیے زیادہ وضاحت اور گہرائی میں رپورٹنگ بہت محدود ہے کیونکہ اگر کوئی نیوز ایڈیٹر کسی خبر میں آگے تک جا کر کھوج لگانا چاہے تو وہ اس خدشے کے پیش نظر کسی پیش رفت سے باز رہتا ہے کہ وہ کسی غلطی کا مرتکب نہ ہو جائے۔ تاہم کچھ لوگ جو حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر متمکن ہیں وہ اس یقین کے ساتھ کچھ سخت اقدامات کر لیتے ہیں کہ صرف وہی سمجھتے اور جانتے ہیں کہ قوم کو کب اور کیا بتانا چاہیے۔اور ان کی منشاء کے خلاف کوئی خبر چھپ جائے تو وہ سیخ پا ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنی پہلی فرصت میں ہی اسے سازش گردانتے ہوئے اس کی تردید کر دیتے ہیں۔ بعد ازاں اگر یہ محسوس ہو کہ صرف تردید سے سادہ لوح لوگوں کو بھی قائل نہیں کیا جا سکتا تو وہ ایک عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ چیزوں کو صحیح تناظر میں پیش نہیں کیا گیا۔ ممکنہ طور پر اس وقت حکومت بھی اپنے موقف سے پرے ہٹتی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس بات کا احساس نہیں کیا جاتا کہ ان ہتھکنڈوں سے حکومتی دعوؤں کا پول کھلتا ہے اور نتیجتاً اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ ایماندارانہ کارکردگی پر بھی سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ کسی بھی جمہوریت میں یقین ہی عوام کی حمایت کی وجہ بنتا ہے۔ اس لیے اس امر کی ذرہ بھر گنجائش نہیں ہوتی کہ حکومت کے قول و فعل پر شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں۔ لیکن نئی دہلی والوں کو اس حقیقت کا شعور ہی نہیں۔
ایک آزاد معاشرے میں کسی خوف و حمایت کے بغیر عوام کو با خبر رکھنا پریس کی ذمے داری ہے۔ بعض اوقات یہ ذمے داری گراں گزرتی ہے لیکن اس کی بجا آوری ناگزیر ہے کیونکہ آزاد معاشرہ آزادانہ معلومات و اطلاعات پر بھی قائم کیا جاتا ہے۔ اگر پریس نے حکومت کے ہی نوشتہ جات کو چھاپنا ہے تو پھر خامیوں‘ کمیوں اور غلطیوں کی نشاندہی بے معنی محسوس ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ پریس پہلے ہی بہت بدگمانیاں ہیں اور اب پارٹی کے ترجمان اور وزیر اطلاعات و نشریات کے دو عہدوں کو ایک ہی شخص میں مدغم کر کے صورتحال کو اور زیادہ الجھا دیا گیا ہے۔ اگر حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ اس کی اس قسم کی چالاکیوں کا عوام کو پتہ نہیں چلے گا تو وہ غلطی پر ہے۔ اس کی ساکھ بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ مجھے تو بے چارے منیش تیواری پر ترس آ رہا ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)