سرورق مضمون

دہلی میں بی جے پی کی شکست نے مفتی کو شیربنادیا، کم سے کم مشترکہ پروگرام پر سمجھوتہ نہیں ہورہاہے ، حکومت سازی پھر تعطل کی شکار

دہلی میں بی جے پی کی شکست نے مفتی کو شیربنادیا، کم سے کم مشترکہ پروگرام پر سمجھوتہ نہیں ہورہاہے ، حکومت سازی پھر تعطل کی شکار

ڈیسک رپورٹ
دو ڈھائی مہینے گزرنے کے بعد بھی ریاست میں حکومت سازی کا مسئلہ حل نہیں ہورہاہے ۔ ریاستی اسمبلی کی دو بڑی جماعتیں اب تک ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی ہیں۔ کئی سطحوں پر مذاکرات کے باوجود کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے ۔ پی ڈی پی سرپرست اور نامزد وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ اسے وزیراعلیٰ بننے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ اصولوں سے سودا ہرگز نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 پر اپنا موقف بدلنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس دوران پارٹی صدر اور پارلیمنٹ ممبر محبوبہ مفتی نے دہلی میں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور وزیرخزانہ ارون جیٹلی سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران کہا جاتا ہے کہ دونوں نے ریاست میں حکومت سازی پر بات چیت کی۔ لیکن تاحال اس کے کوئی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان مذاکرات زیادہ آگے نہیں بڑھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک حکومت تشکیل نہیں دی جاسکی۔ کہا جاتا ہے کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور دونوں پارٹیوں کے درمیان کئی معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ ادھر اطلاع ہے کہ پی ڈی پی کے اندر ایک بڑے گروہ نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ایک سینئر پی ڈی پی لیڈر کی قیادت میں اس گروہ نے پارٹی ہائی کمان کو اپنے خیالات سے باخبر کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی صورت میں وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ اگر چہ اس خبر کی تصدیق نہ ہوسکی تاہم حکومت سازی میں تعطل کے لئے اس کو ایک اہم وجہ بتایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی بڑا گروہ نہیں ہے تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ اس گروہ کو رام کئے بغیر پارٹی آگے بڑھنے کے حق میں نہیں ہے ۔ پی ڈی پی قیادت اتحاد بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی۔ لیکن اسے زیادہ کامیابی نہیں مل رہی ہے ۔ گورنر نے ریاست کے تمام معاملات جس طرح اپنے ہاتھوں میں لئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ گورنر رول جلد ختم ہونے والا نہیں ہے اور حکومت بننے کے ابھی کوئی امکانات نہیں ہیں۔ اس وجہ سے لوگ سخت مایوسی کا شکار ہیں ۔
کئی لوگوں کا خیال تھا کہ دہلی انتخابات کے بعد مرکزی سرکار کشمیر کی طرف توجہ دے گی اور یہاں جلد ہی حکومت بن جائے گی ۔ بی جے پی اس کوشش میں لگی ہوئی تھی کہ دہلی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی جائے ۔ لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔ دہلی میں اس پارٹی کو سخت شکست سے دوچار ہونا پڑا اور اس کو سخت دھچکالگا ۔ دہلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی نے تین سیٹوں کو چھوڑ کر باقی تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس کے فوراََ بعد پارٹی سربراہ اروندکیجریوال اور اس کی مختصر کابینہ نے دہلی کے رام لیلا گراونڈ میں حلف اٹھایا۔ وزیراعلیٰ کیجریوال نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کی اور کئی معاملات پر ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا کہ مرکزی سرکار انہیں بھر پور تعاون دے گی۔ اس کے بعد خیال تھا کہ کشمیر میں حکومت سازی کی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی۔ لیکن لگتا ہے اس کے بعد معاملات سخت الجھن کا شکار ہیں۔ دہلی میں بی جے پی کی شکست نے پی ڈی پی کو شیر بنادیا اور پارٹی سرپرست مفتی سعید نے سینہ تان کر اپنے مطالبات منوانے پر زور دیا۔ مفتی سعید چاہتے ہیں کہ کشمیر پر بیس سال سے لاگوخصوصی اختیارات والے آرمی قانون افسپا کو ہٹایا جائے اور پاکستان کے علاوہ کشمیر میں علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے۔ مرکز نے پہلے ہی پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے البتہ دوسرے معاملات پر پارٹی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ ادھر پی ڈی پی نے بھی اپنا موقف سخت کیا ہے اور دوبارہ الیکشن کے ذریعے لوگوں کا منڈیٹ حاصل کرنے کو کہا ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی طرح وہ بھی انتخابات میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کرے گی اور بی جے پی کو شکست فاش دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مرکز کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے اور اپنی مانگوں پر ہٹ دھرم بنی ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ریاست میں حکومت سازی تعطل کی شکار ہے ۔