سرورق مضمون

دہلی کی لڑائی جموں کشمیر کے اکھاڑے میں

سرینگر ٹوڈےڈیسک
کانگریس کے 23 لیڈروں نے جموں میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا۔ نہرو گاندھی خاندان سے ناراض اس گروپ نے جو G23 کے نام سے جانا جاتا ہےکو جموں میں آکر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ اس گروپ کی قیادت کانگریس کے کئی لیڈر کررہے ہیں ۔ ان میں غلام نبی آزاد خاص طور سے نمایاں ہیں ۔ اس گروپ نے کئی ماہ پہلے کانگریس لیڈر شپ کو ایک خط لکھ کر جس میں پارٹی سیاست کے حوالے سے سخت تنقید کی گئی تھی۔ کانگریس پارٹی جو کہ پچھلے پانچ چھ سالوں سے زوال کی شکار ہے G23 میں شامل رہنمائوں کا کہنا ہے کہ اس کے لئے کانگریس کی ناتجربہ کار لیڈر شپ کا ہاتھ ہے ۔ اس گروپ کا مطالبہ ہے کہ جمہوری طریقے سے کانگریس پارٹی کے رہنمائوں کا انتخاب کیا جائے ۔ اس حوالے سے گروپ کو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔تاہم سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی اس خط پر سخت ناراض ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ہفتے پہلے جب کانگریس کے لئے مختلف عہدیدار وں کا اعلان کیا گیا تو G23 میں شامل تمام لیڈروں کو نظر انداز کیا گیا اور انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا۔ ان کی جگہ وہ رہنما سامنے لائے گئے جنہیں نہرو خاندان کا وفادار سمجھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پارلیمنٹ میں کئی ممبران کی معیاد مکمل ہونے پر وزیراعظم نے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے کام کو سراہا ۔ اس وقت ایک چونکا دینے والی بات یہ سامنے آئی کہ وزیراعظم نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس جنرل سیکریٹری غلام نبی آزاد کی تعریفوں کے پل باندھ لئے۔ انہوں نے غلام نبی آزاد کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ملک کا ایک وفادار اور سچا سیاسی رہنما قرار دیا۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں انکشاف کیا کہ وہ جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو آزاد جموں کشمیر میں ان کے ہم نصب تھے ۔ دونوں میں اسی وقت سے سخت دوستی قائم ہے ۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ انہیں جب بھی کسی مسئلے میں مشورے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے آزاد سے بات کی اور آزاد نے انہیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا ۔ سیاسی حلقے اس بات پر سخت حیران ہوئے کہ آزاد پہلے سیاسی لیڈر ہیں جن کی وزیراعظم نے کھل کر تعریف کی اور انہیں اپنا قریبی دوست قرار دیا ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ مودی نے بی جے پی کے پرانے اور سینئر ساتھیوں کی اس طرح کبھی تعریف نہیں کی۔ وہ اپنے سوا کسی کو ملک کا وفادار نہیں سمجھتے۔ آج حیران کن انداز میں انہوں نے غلام نبی آزاد کی تعریف کی ۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے آزاد کو راجیہ سبھا ممبر بننے کے لئے بی جے پی کی طرف نامزد کرنے کی پیش کش کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آزاد راجیہ سبھا میں موجود رہے اور کانگریس کی طرف سے اس کے لئے نامزد نہ کرنے کی صورت میں مودی انہیں اپنی پارٹی کا سپورٹ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ اس پیشکش نے جہاں بہت سے سیاسی حلقوں میں سراسیمگی پھیلادی وہاں کانگریس میں نیچے سے اوپر تک ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ کئی حلقوں کی طرف سے پیشن گوئیاں کی جانے لگیں کہ آزاد بہت جلد بی جے پی میں جانے کا اعلان کریں گے۔ آزاد نے اس طرح کی افواہوں کی تردید کی اور کہا کہ جب کشمیر میں پیلی برف پڑجائے گی تب جاکر وہ بی جے پی جوئن کریں گے۔ اس کے باوجود کئی حلقوں میں یہ خبر برابر گشت کرتی رہی کہ آزاد کانگریس کو چھوڑ کر جلد ہی بی جے پی میں جانے کا اعلان کریں گے۔ اس دوران انہوں نے کانگریس کے تمام ناراض لیڈروں کو جموں بلایا جہاں انہوں نے کھلے عام کانگریس سے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔
غلام نبی آزاد کے حوالے سے تازہ اطلاع یہ ہے کہ پردیش کانگریس کی طرف سے انہیں وضاحت طلب کی گئی کہ وہ مودی کی تعریفوں کے حوالے سے حقیقت سے آگاہ کریں ۔ بدھ وار کو ایک نیوز سروس کی طرف سے انکشاف کیا گیا کہ جموں کشمیر کانگریس صدر غلام احمد میر نے آزاد کے نام وجہ بتائو نوٹس جاری کی ہے جس میں انہیں مودی کی تعریف کرنے پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ میر کا کہنا ہے کہ لوگ توقع کررہے تھے کہ آزاد راجیہ سبھا میں اپنی آخری تقریر میں ساری توجہ کشمیر پر مبذول رکھیںگے اور کشمیر کی صورتحال پر کھل کر بات کریں گے ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیااور اپنی تقریر کا زیادہ حصہ مودی کی تعریفیں کرتے رہے ۔ میر کا کہنا ہے کہ عوام اور وہ خود چاہتے ہیں کہ آزاد سامنے آکر اس افسوسناک واقعے کی وضاحت کریں ۔ اگرچہ کانگریس ہائی کمان نے ابھی تک آزاد کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا تاہم کئی حلقوں میں اس بات پر چہ مے گوئیاں کی جارہی ہیں کہ وہ اپنی مزید زندگی سیاست میں رہ کر کیسے گزاریں گے ۔ بہت سے حلقوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے لئے کانگریس میں جگہ نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں ان کا اگلا قدم کیا ہوگا ابھی تک واضح نہیں ۔ کانگریس ہائی کمان نے انہیں پوری طرح سے نظر انداز کیا ہوا ہے ۔ تاہم ابھی تک انہیں یا ان کے دوسرے ساتھیوں کو کانگریس سے خارج نہیں کیا گیا ہے ۔ بہت سے لوگ اسے حیران کن صورتحال بتارہے ہیں ۔ ادھر ملک کی تین اہم ریاستوں میں اگلے چند ہفتوں کے دوران اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔یہ انتخابات کانگریس کے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ راہول گاندھی نے پہلی بار ان انتخابات کے لئے اکیلے جدو جہد شروع کی ہے ۔ وہ کئی ہفتوں سے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دہلی کو چھوڑ کر وہ کیرالہ اور دوسرے علاقوں میں جاکر کانگریس کے لئے پوزیشن ٹھیک کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ ایک بیان میں انہوں نے اندرا گاندھی کی طرف سے لگائی گئی ایمرجنسی کو ایک غلط قدم قرار دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ خود اندرا گاندھی کو احساس ہوا تھا کہ ایمرجنسی لگاکر انہوں نے غلطی کی ۔ اس طرح سے راہول لوگوں کے اندر کانگریس کی ہمدردی اجاگر کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسا کرکے کانگریس کیا جلد ہی اپنی کھوئی ہوئی ساخت مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگی اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے ۔ اس دوران کانگریس کے ناراض گروپ کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہائی کمان یقینی طور سخت پریشان ہوگی ۔ ایک ایسے موقعے پر جبکہ راہول گاندھی اور ان کے دوسرے ساتھی کانگریس کی کھوئی ساخت مضبوط بنانے میں لگے ہوئے ہیں G23 کی طرف سے راہول اور اس کے خاندان کے لوگوں کے خلاف زور وشور سے مہم چلائی جارہی ہے ۔ اس سے لگتا ہے کہ ابھی کانگریس کو مضبوط ہونے کا وقت نہیں آیا ہے ۔