خبریں

دیہی منظر نامہ میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی

دیہی منظر نامہ میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی

گزشتہ روز عوام کو بنیادی سطح پر با اِختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محترمہ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ دیہی ترقی پروگراموں کا اولین مقصد ہمارے دیہاتوں ، جہاں ریاست کی آبادی کا بڑا حصہ رہتا ہے، کی حالتِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ استقاق کی سوچ سے بہتر نتائج اس وقت سامنے آسکتے ہیں جب دیہی علاقوں میں متعدد محکمے اثاثوں کے قیام میں شامل ہوں گے جو عوام کی معاشی زندگی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ اُن کی سماجی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے پر منتج ہوگا۔انہوں نے کہا دیہی علاقوں میں پسماندگی، بے روز گاری اور غریبی کو ختم کرنے کے لئے رقومات کے استعمال میں مزید شفافیت لانی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ سول سیکرٹریٹ میں محکمہ دیہی ترقی محکمہ کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں، جس میں وزیر برائے دیہی ترقی عبدالحق خان، چیف سیکرٹری بی آر شرما، فائنانشل کمشنر منصوبہ بندی و نگرانی، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری اور محکمہ دیہی ترقی کے سیکرٹری موجود تھے۔ریاست کی ترقی کو وسیع دیہی علاقوں کے فروغ کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنچائت سطح پر دیہی علاقوں کے لوگوں کو عملی طور ترقیاتی سکیموں کے ساتھ وابستہ کرنے سے اقتصادی ترقی کے بہتر امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ دیہی ترقی محکمہ کی جانب سے استقاق ماڈل پیش کرنے کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دیگر محکمے بھی اس نمونے کو اختیار کریں تو اس سے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ دیہی ترقی محکمہ کو استقاق نمونے کے دائرہ کار کو توسعت دے کر اس میں سیاحت، آبپاشی و فلڈ کنٹرول، مکانات و شہری ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر محکموں کو بھی شامل کرنا ہوگا تا کہ ہمارے دیہاتوں میں پائیدار بنیادی ڈھانچے کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے دیہات کو تیزی سے ترقی کر رہے شہروں اور قصبہ جات کے ہم پلہ ترقی یافتہ بنانے کی ضرورت ہے تا کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں بھی عوام کے معیار زندگی میں بہتری رونما ہوسکے۔
محکمہ دیہی ترقی کے اہم سماجی تحفظ پروگرام ایم جی نریگا کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے محترمہ مفتی نے آبپاشی و فلڈ کنٹرول اور صحت عامہ محکموں کے لیبر کمپونینٹ کو پہلے مرحلے میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔اجرتوں کی تقسیم کاری میں مزید شفافیت برتنے کے لئے انہوں نے تمام ایم جی نریگا کامگاروں کے لئے آدھار پر مبنی اندراج کو لازمی بنانے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے ایم جی نریگا کے تحت آبگاہوں کے تحفظ اور بحالی کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں تعمیر ہونے والے بنیادی ڈھانچوں کے نزدیک سبزہ زار قائم کرنے کے امکانات کو تلاش کرنے پر زور دیا۔سیکرٹری محکمہ دیہی ترقی نے میٹنگ کو مطلع کیا کہ ریاست میں آدھار پر مبنی اندراج کا عمل شروع کیا گیا ہے اور رواں سال ماہ نومبر کے آخر تک تمام جاب کارڈ ہولڈروں کو اس کے دائرے میں لاکر محکمہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ پروجیکٹ راحت، جس کے تحت استقاق اقدام شروع کر کے اودہمپور میں دُور دراز دیہی علاقوں کو چھوٹے پُل تعمیر کر کے بڑی سڑکوں کے ساتھ جوڑا گیا، کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ13 ویں مالی کمیشن کے تحت دستیاب وسائل سے50 کروڑ روپے کی مالیت کے منصوبے مرتب کئے گئے ہیں جو سیلاب سے بچاؤ ڈھانچوں، کھیل میدانوں کی تعمیر و ترقی، رابطہ سہولیات کی تعمیر وتجدید، حفاظتی باندھ اور اراضی کو کٹاؤ سے بچانے کے کاموں کے علاوہ سی ایف سی کمیونٹی سینٹروں اور تربیتی مراکز کی تعمیر پر صرف کئے جائیں گے۔
منریگا کے تحت سال 2015-16 کے لئے دستیاب785.44 کروڑ روپے میں سے778.23 کروڑ روپے صرف کئے گئے ہیں جن سے 3.46 کروڑ ایام کار پیدا ہوئے جو کہ مقررہ 3.11 کروڑ کے ہدف سے زیادہ ہے۔اس طرح ریاست کے10.40 لاکھ کام گاروں کے لئے ایام کار پیدا کئے گئے جن میں سے3.80 لاکھ خواتین کامگار بھی تھیں۔ایم جی نریگا کے تحت رواں مالی سال کے لئے805.80 کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں۔دیہی مستحقین کے لئے رہایشی سہولیت کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے پردھان منتری آواس یوجنا کے مستحقین کے نام پنچائت گھروں میں نمایاں جگہ پر آویزاں رکھنے کی ہدایت تا کہ اس ضمن میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اب چونکہ اندرآواس یوجنا سکیم کو تبدیل کیا گیا ہے، محکمہ دیہی ترقی کو مستحقین کے لئے بہتر معیار کے مکانات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا’’مستحقین کے ناموں کو مشتہر کرنا اہم ہے تاکہ انتخاب کے دوران اُبھرنے والے شک وشبہات کو دُور کیا جاسکے۔‘‘
میٹنگ میں بتایا گیا کہ دیہی رہایشی سکیم کو پوری طرح تبدیل کیا گیا ہے اور دشوار گذار علاقوں کے لئے رقم75 ہزار روپے سے بڑھا کر1.30 لاکھ روپے کی گئی ہے۔ سیکرٹری نے کہا کہ اس کے علاوہ حکومت ایم جی نریگا سے95 ایام کے لئے بے ہُنر کامگاروں کے اخراجات دستیاب رکھے گی جب کہ سوچھ بھارت مشن کے تحت بیت الخلاؤں کی تعمیر کے لئے مستحقین کو12 ہزار روپے فراہم کئے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نے میٹنگ کو مطلع کیا کہ ریاست میں پنچائتوں کو مزید400 کروڑ روپے منتقل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقی کو رہنما خطوط تیار کرنے ہوں گے تا کہ دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی، مکانات اور سڑکوں رابطوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کر کے ان علاقوں میں غریبی کے خاتمے کے لئے رقومات منصفانہ طور استعمال کی جاسکیں۔
قومی دیہی روز گار مشن کے تحت ’اُمید‘ پروگرام جس کا مقصد غریبی کا خاتمہ اورخواتین کو با اختیار بنانے ہے ،کی حصولیابیوں کا جائیزہ لیتے ہوئے محترمہ محبوبہ مفتی نے محکمہ دیہی ترقی کو امسال سکیم کے دائرے میں مزید6 اضلاع لانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی اپنی مدد آپ گرؤپوں کی کامیابی کی شرح کو مدنظر رکھ کر امداد باہمی کے رابطے قائم کر کے خواتین کو با اختیار بنانے سے ریاست میں دیہی منظر نامے میں واضح تبدیلی رونما ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقی سیلف ہیلپ گرؤپوں کے تحت جوٹ بیگز کی تیاری، کٹ فلاور اور دودھ کے کواپریٹو کے لئے مراعات فراہم کرنے سے شروعات کرسکتا ہے جس کے لئے ریاستی حکومت سرکاری محکموں کے ساتھ ساتھ نجی کمپنیوں کے تعاون سے بہترمارکیٹنگ کی سہولیت فراہم کرسکتی ہے۔’’اُمید‘‘ کے تحت سال 2016-17 کے دوران باقی ماندہ6 اضلاع اورمزید22 بلاک لائے جائیں گے۔ اگلے پانچ برسوں کے دوران9 لاکھ دیہی کنبوں کی90 ہزار خواتین کو سیلف ہیلپ گرؤپوں کے دائرے میں لانے کے ہدف میں سے9861 خواتین کو اپنی مدد آپ گرؤپوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ ان سیلف ہیلپ گرؤپوں کی مالی اداروں تک رسائی یقینی بنا کر شرح سود پر5 سے7 فیصد کی کمی کی رعایت بھی فراہم کی گئی ہے۔محکمہ دیہی ترقی نے ’اُمید ‘کے تحت80 کروڑ روپے صرف کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تا کہ88 ہزار خواتین کی شرکت سے8 ہزار مزید سیلف ہیلپ گرؤپوں کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔ایم جی نریگا کے تحت استقاق سے7 ہزار گاؤ خانے اور کمپوسٹ ڈیپازٹس دیہی خواتین کو فراہم کئے جائیں گے تا کہ اُن کی زندگی میں بہتری لائی جاسکے۔ وزیر اعلیٰ نے انٹی گریٹڈ واٹر شیڈ منیجمنٹ پروگرام کی کارکردگی کا بھی جائیزہ لیا۔ انہیں 14 ویں پانچسالہ منصوبہ تک کی گئی998 مائیکرو شیڈز کے ساتھ ساتھ15.33 لاکھ ہیکٹر اراضی کے لئے منصوبہ بندی کے بارے میں مطلع کیا گیا۔اب تک مرکزی وزارت نے970.72 کروڑ روپے کی لاگت کے159 پروجیکٹ منظور کئے ہیں جن میں سے82 پروجیکٹوں کے لئے مفصل پروجیکٹ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ سیکرٹری دیہی ترقی نے وزیر اعلیٰ کو سوچھ بھارت مشن، دیہی دستکاروں کو مارکیٹنگ سہولیت کی فراہمی اور14 ویں مالی کمیشن کے تحت رقومات کے استعما ل کے لئے رہنما خطوط وضع کرنے سے متعلق محکمہ کی حصولیابیوں کی تفصیل پیش کی۔انہوں نے استقاق منصوبہ کے تحت سال 2016-17 کے لئے ترجیحات کو بھی اُجاگر کیا جن میں آبگاہوں کی صفائی و تجدید کاری، سڑکوں کے کنارے شجرکاری، ورمی کمپوسٹ تیار کرنے، فُٹ برجز اور کھیتوں میں تالابوں کی تعمیر، کھیل میدانوں کی تعمیر تجدید، چیک ڈیموں کی تعمیر اور کامگاروں کو روز گار کی فراہمی بھی شامل ہے۔