سرورق مضمون

راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی!, افضل گورو کی پھانسی پر نئے سوالات؟

راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی!, افضل گورو کی پھانسی پر نئے سوالات؟

ڈیسک رپورٹ
مرکزی سرکار کی طرف سے راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی دئے جانے کے اعلان کے بعد افضل گورو کی پھانسی پر کئی طرح کے اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں ۔ کشمیرمیں اس مسئلے پر نئی بحث شروع ہوئی ہے اور لوگ کانگریس کو اس حوالے سے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں ۔ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معافی دینے کی اطلاع اس وقت سامنے آئی جب گورو کی پھانسی کو ایک سال مکمل ہوگیا ۔ ایک سال پہلے 9 فروری کو افضل گورو کو پارلیمنٹ ہائوس پر حملہ کئے جانے کی سازش میں مبینہ طور ملوث ہونے کے الزام پر پھانسی دی گئی ۔ گورو کو ہندوستان کے تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور وہیں دفن کیا گیا ۔ اس کی میّت ان کے لواحقین کو حوالے نہیں کی گئی جو آج تک نعش واپس کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔9 فروری کو گورو کی پھانسی کی برسی کے موقعے پروادی میں ہڑتال کی گئی اور کئی جگہوں پر جلوس نکال کر ان کی نعش واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ لیکن دہلی سرکار ٹس سے مس نہ ہوئی ۔ اس کے بجائے جے للتا سرکار نے راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معاف کرنے کی قرار داد پاس کی تو مرکزی سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ اس طرح کی خبروں نے کشمیریوں کو سخت حیران کردیا ۔
افضل گورو کی پھانسی کے معاملے پر آج سب سے پہلا بیان ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور مرکز ی کابینہ میں شامل وزیر ڈاکٹر فاروق کا منظر عام پر آیا ۔ ڈاکٹر فاروق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گورو کے ساتھ مقدمے میں ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے گورو کی پھانسی کو جانبدار ی سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک سال پہلے جب گورو کو پھانسی دی گئی تو ڈاکٹر فاروق اس وقت بھی مرکزی کابینہ میں شامل تھا ۔ آپ چاہتے تو کابینہ اجلاس میں اس پر احتجاج کرتے ۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ بلکہ اس وقت کے بیان میں ڈاکٹر فاروق نے کہا تھا کہ قانون نے اپنا کام کیا اور مجرم کو سزا ملی ۔ لیکن آج گورو کے ساتھ ظلم ہونے کی بات کی جارہی ہے ۔ اسی طرح کانگریس کے ریاستی صدر سیف الدین سوز نے بھی گورو کی پھانسی پر سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ۔ اصل میں یہ لوگ گورو کے معاملے پر بیانات سرینگر میں دیتے ہیں اور دہلی جاکر وہاں کے آقائوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ۔ اس کے برعکس دوسری ریاستوں کے لیڈر دہلی حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست خاص کر وادی کے عوام کے ساتھ اکثر نا انصافی ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے یہی معاملہ مقبول بٹ کے ساتھ ہوا ۔ اس وقت ریاست کا وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ تھا ۔ ڈاکٹر فاروق پر اس کے مخالفین الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے ہی مقبول بٹ کے بلیک وارنٹ پر دستخط کئے جس کے بعد مقبول بٹ کو پھانسی دینا ممکن ہوسکا ۔ آج فاروق صاحب ناانصافی کی دہاہی دے رہاہے ۔ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو معاف کرنے اور اب ان کی رہائی کی جو تیاریاں ہورہی ہیں اس کی کچھ وجوہات بتائی جارہی ہیں ۔ سب سے اہم وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ دہلی میں کانگریس کی ناکامی کے بعد اس کے رہنمائوں کی نظریں شمالی ہند کی ریاستوں کیرالہ ، کرناٹک اور خاص کرتامل ناڑو پر لگی ہوئی ہیں ۔ تامل ناڑو میں لوگ کانگریس کے خلاف اس وجہ سے تحفظات رکھتے ہیں کہ دہلی سرکار نے سری لنکا میں تامل باغیوں کی پشت پناہی نہیں کی جس وجہ سے وہاں تامل علاحدگی پسندوں کو بری طرح سے کچلا گیا ۔ تامل جنگجو پربھاکرن کو ایک بڑے آپریشن میں تمام ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا ۔ اس پر تامل نسل کے لوگ کانگریس سے ناراض ہیں ۔ اس ناراضگی کو ختم کرنے کے لئے راجیو گاندھی کے قاتلوں کو رہا کیا جارہاہے ۔ گیارہ سال پہلے ان کے حق میں کورٹ نے پھانسی کا حکم سنایا ۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی اپیل سپریم کورٹ نے مسترد کی اور ان کی پھانسی کا حکم بحال رکھا ۔ بعد میں انہوں نے صدر جمہوریہ کے پاس رحم کی درخواست جمع کرئی ۔ کچھ دن پہلے صدر نے ان کی رحم کی اپیل پر اپنا فیصلہ دیا اور انہیں معاف کرنے کااعلان کیا ۔ اس سے پہلے راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی اور اس کے بچوں نے ان قاتلوں کے ساتھ رحم بھرتنے کی بات کی تھی ۔ بلکہ سونیا گاندھی نے جیل جاکر ان کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے ساتھ وہاں گپ شپ بھی کیا ۔ اس کے بعد اندازہ تھا کہ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو پھانسی نہیں دی جائے گی ۔ اس کے بعد کانگریس کا سارا زور پارلیمنٹ کیس کے مرکزی ملزم افضل گورو پر مرکوز ہوگیا ۔ کانگریس کا خیال تھا کہ گورو کی پھانسی سے ان کے حق میں عوامی لہر چلے گی اور وہ اس بل بوتے پر بی جے پی کو الیکشن میں شکست دے گی ۔ اس دوران کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے جہاں کانگریس کو سخت قسم کی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ خاص کر دہلی اسمبلی کے انتخابات میں ایک نئی پارٹی عام آدمی پارٹی نے کانگریس کو تاریخ کی سب سے بڑی شکست سے دوچار کیا ۔ کانگریس اس شکست سے ابھرنے کا راستہ نہیں پارہی ہے۔ کانگریس کا خیال ہے کہ اس نے افضل گورو کو پھانسی دے کر غلطی کی ۔ اب راجیو گاندھی کے قتل میں ملوث افراد کو رہا کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تاملوں میں ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ اس میں کانگریس کہاں تک کامیاب ہوگی یہ آنے والے انتخابات کے نتیجوں سے ہی معلوم ہوگا ۔ البتہ کشمیر کے لیڈروں کو اپنی اصل حالت معلوم ہوگئی ۔ افضل گورو کے لواحقین کے علاوہ یہاں کے تمام حلقوں نے ان کی پھانسی پر سوالات اٹھائے ہیں ۔ مرکز ایک بار پھر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور منہ بند کئے ہوئے ہے۔