سرورق مضمون

راجیہ سبھا انتخابات/ سیاسی حلقوں میں ہلچل / حکومت سازی عنقریب متوقع

ڈیسک رپورٹ/
راجیہ سبھا میں جموں کشمیر کی چار نشستیں خالی ہورہی ہیں۔ان نشستوں کو پُر کرنے کے لئے الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن شائع کیا ہے۔ اس وجہ سے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر کھلبلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت موجودہ حالت میں اپنے بل پر کوئی نشست جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ حالیہ انتخابات میں اسمبلی میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت نہیں ملی۔ اس وجہ سے کسی بھی جماعت کے پاس اتنی نشستیں نہیں ہیں کہ وہ اپنے بل پر راجیہ سبھا کی یہ نشستیں جیت سکے۔ اس کے لئے اسمبلی میں اتحاد اور ایک دوسرے کی حمایت لازمی ہے۔ اطلاع ہے کہ اس وجہ سے تمام سیاسی جماعتیں پریشانی کے شکار ہیں۔ اس بات کو لیکران کے درمیان درپردہ مذاکرات جاری ہیں اور اتحاد قائم کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں ۔ اس دوران پی ڈی پی سربراہ اور پارٹی کے وزیراعلیٰ امیدوار مفتی محمد سعید نے گورنر سے ایک اہم ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے گورنر کو ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال سے باخبر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسمبلی معطل ہونے کی وجہ سے راجیہ سبھا انتخابات میں حائل مشکلات سے گورنر کو باخبر کیا۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ مفتی نے گورنر سے درخواست کی کہ الیکشن کمیشن سے راجیہ سبھا انتخابات ملتوی کرنے کی سفارش کی جائے۔ لیکن اس حوالے سے مزید کہیں سے تصدیق نہ ہوسکی۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی راجیہ سبھا کی خالی نشستیں پُر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ این سی اور کانگریس ایک دوسرے کے ساتھ تال میل بنائے ہوئے ہیں۔ یہ جماعتیں چاہتی ہیں کہ اپنے اتحادی آزاد ممبران کی حمایت سے دو نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔ ادھر پی ڈی پی اور بی جے پی کی کوشش ہے کہ اپنے امیدواروں کی کامیابی یقینی بنائیں۔ بی جے پی نے اپنے امیدواروں کا اسی صورت میں اعلان کرنے کا من بنایا ہے کہ ریاست میں این سی یا پی ڈی پی کے ساتھ مضبوط اتحاد قائم ہوسکے ۔ پی ڈی پی بھی چاہتی ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات سے پہلے دونوں جماعتوں میں اتحاد قائم ہوکر ریاست میں مضبوط سرکار وجود میں آسکے ۔ اس وقت دونوں محاذوں پر کام جاری ہے ۔ ایک ریاست کے لئے سرکار بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ساتھ ہی راجیہ سبھا کے لئے نشستیں پر کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ ابھی تک کچھ کھل کر سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ ہر حلقہ اپنے طور کوششوں میں لگا ہوا ہے تاکہ اپنے سیاسی وجود کو بحال رکھ سکے ۔
راجیہ سبھا کے لئے جو چار نشستیں خالی ہورہی ہیں ان میں سے تین این سی کے پاس تھیں جبکہ ایک پر کانگریس کی نمائندگی تھی۔ کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد جو کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں اپنا معیاد پورا کرچکے ہیں ۔یہی حال سیف الدین سوز کابھی ہے۔ این سی کے محمد شفیع اوڑی نے اسمبلی انتخابات میں جیت حاصل کی ہے جبکہ اسی جماعت کے غلام نبی رتن پوری کی نشست بھی مقررہ معیاد مکمل ہونے کی وجہ سے خالی ہورہی ہے۔ یہ چاروں نشستیں اسمبلی میں موجود پارٹیوں کے لئے وقار کا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ این سے کے علاوہ پردیش کانگریس کی پارلیمانی انتخابات میں شکست فاش کی وجہ سے این سی اور کشمیر کانگریس کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ان کی کوشش ہے کہ راجیہ سبھا میں اپنا وجود بحال رکھ سکیں ۔ لیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ کسی بھی پارٹی کے پاس مطلوبہ ممبران کی حمایت موجود نہیں ہے۔ اس غرض سے این سی اور کانگریس کی کوششیں بھی جاری ہیں اور بی جے پی ، پی ڈی پی کی بھی تگ ودو نظرآتی ہے۔ بی جے پی کے لئے ریاست کی حکومت سے زیادہ اس وقت راجیہ سبھا کی ان نشستوں پر قبضہ جمانازیادہ ضروری ہے ۔ بی جے پی کو لوک سبھا میں اکثریت تو حاصل ہے لیکن راجیہ سبھا میں کم ہی نشستیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی راجیہ سبھا میں ایک ایک نشست کے لئے بے چین نظر آتی ہے ۔ بی جے پی کی اس ضرورت کا دوسری پارٹیاں فائدہ حاصل کرنے میں لگی ہیں۔ خاص کر پی ڈی پی اس کا اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ان کے لئے اس سے بہتر کوئی موقع ہاتھ آنا مشکل ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کوششیں عروج کو پہنچ چکی ہیں اور جلد ہی نتائج سامنے آنے والے ہیں۔ اس تناظر میں جو بھی اتحاد بن جائے گا ریاست میں سرکار بنانے کے اہل ہوگا ۔