سرورق مضمون

راجیہ سبھا سے رخصت ہوکر
کیا آزادؔ بی جے میں جائیں گے ؟/
وزیراعظم نے ایوان میں بہائے آنسو

سرینگر ٹوڈےڈیسک

غلام نبی آزاد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں جارہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم نے آزاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دروازے ہمیشہ آزاد کے لئے کھلے ہونگے ۔ اس سے اندازہ لگایا گیا کہ آزاد کو بی جے پی میں آنے کی دعوت دی جارہی ہے ۔ آزاد سے کانگریس قیادت پہلے ہی ناراض ہے جب انہوں نے کہا کہ بہتر سال میں پہلی بار کانگریس سب سے کم تر درجے پر ہے۔آزاد کا کہنا ہے کہ جب کالی برف گرنے لگے تو وہ بی جے پی میں جاسکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں بی جے پی جوئن نہیں کررہے ہیں۔ تاہم کئی لوگ دال میں کچھ کالا ہونے کی باتیں زور وشور سے کررہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اس وقت آبدیدہ ہوگئے جب کانگریس کے غلام نبی آزاد سمیت جموں کشمیر کے چار ممبران اپنی مقررہ معیاد مکمل کرکے راجیہ سبھا سے رخصت ہوگئے۔ اس موقعے پر انہیں رخصت کرنے کے لئے انہیں خراج پیش کرتے ہوئے کئی ممبران نے تقریر کی۔ ایوان میں اس وقت سب لوگ حیران رہ گئے جب وزیراعظم اس حوالے سے تقریر کرتے ہوئے بہت جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔ وزیراعظم نے رخصت ہورہے ممبران کے حوالے سے بولتے ہوئے جب غلام نبی آزاد کا ذکر کیا تو ان کی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے ۔ انہیں اپنی حالت پر قابو پانے کے لئے تین بار پانی پینے کی ضرورت پڑی ۔ اس سے پہلے ایوان میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے رہنما غلام نبی آزاد نے کسان آندولن کا ذکر کیا اور زور دیا کہ ان قوانین کو واپس لیا جائے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے لئے آئین میں ترمیم کی بھی مخالفت کی اور یو ٹی کا درجہ ختم کرنے کے لئے جموں کشمیر کو ایک ریاست بنانے کی حمایت کی۔ انہوں نے مودی حکومت سے کہا کہ اس حوالے سے ایوان میں ایک بل پیش کیا جائے ۔ ایسی کئی باتوں کے باوجود مودی جب تقریر کرنے کے لئے اٹھے تو انہوں نے آزاد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقعہ ہے جب مودی نے اپوزیشن خاص کر کانگریس کے کسی لیڈر کی اس قدر تعریف کیا ۔ مودی نے 2007 کے اس واقعے کا ذکر کیا جب آزاد جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ تھے اور مودی خود گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور کام کررہے تھے ۔ اس دوران سرینگر میں یاترا پر آئے کچھ گجراتیوں پر مبینہ طور عسکریت پسندوں نے حملہ کرکے انہیں ہلاک کیا ۔ مودی کا کہنا تھا کہ آزاد نے انہیں فون کرکے اپنی طرف سے مارے جانے والے لوگوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ۔ آزاد نے لاشوں کے ہمراہ جاکر آئر پورٹ پر انہیں اپنے آبائی علاقے کی طرف روانہ کیا ۔ اس جذبے کی تعریف کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ آزاد ایوان میں سب سے تجربہ کار لیڈر تھے اور کئی موقعوں پر انہیں نیک مشوروں سے نوازا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں وہ شدت سے آزاد کی کمی محسوس کریں گے ۔ اس موقعے پر توقع ظاہر کی گئی کہ انہیں دوبارہ کسی علاقے سے کانگریس کی طرف سے ممبر بنایا جائے گا ۔ ایسا نہ کیا گیا تو کہا گیا کہ بی جے پی ایسا کرنے کے لئے تیار ہے ۔ یاد رہے کہ جموں کشمیر میں اسمبلی کا وجودختم کیا گیا ۔اس لئے یہاں سے کوئی ممبر راجیہ سبھا کے لئے منتخب نہیں کیا جاسکتاہے ۔ اس سے پہلے آزاد نے کانگریس قیادت کی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہرو خاندان میں ایساکوئی شخص نہیں جو کانگریس کو عوام میں مقبول کراسکتا ہے ۔ اس کی تنقید کو راہول گاندھی نے سخت محسوس کیا اور انہیں پارٹی میں کوئی عہدہ دینے سے اجتناب کیا ۔ وزیراعظم کی ایوان میں آزاد کی تعریفوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ انہیں بی جے پی میں لانے کی ایک کوشش ہے ۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ آزاد بہت جلد بی جے پی یا اس کی حمایتی کسی دوسری جماعت میں آنے کا اعلان کریں گے۔ اس حوالے سے یہ خبر بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے کہ آزاد کو کیرالہ سے دوبارہ راجیہ سبھا کے لئے منتخب کرانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ ادھر معروف ٹی وی اینکر اور کانگریس لیڈر ششی تھرور نے آزاد کے لئے آنسو بہانے پر مودی کی تنقید کرتے ہوئے اسے کمال کی ایکٹنگ قرار دیا ۔ انہوں نے اسے بڑی ہوشیاری سے تیار کی گئی کردار نگاری کہا ۔ تھرور کا کہنا تھا کہ مودی کو یہ آنسو ان کسانوں کے لئے بہانے تھے جنہوں نے دہلی باڈر پر موجود کسانوں کی طرف سے جاری ایجی ٹیشن کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ یاد رہے کہ کسان پچھلے کئی مہینوں سے دہلی کے آس پاس ڈھیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔یہ کسان مطالبہ کررہے ہیں کہ سرکار ان قوانین کو واپس لے جو حال ہی میں اجرا کئے گئے ۔ وزیراعظم نے اس امکان کو مسترد کیا ہے کہ ان قوانین کو واپس لیا جائے گا ۔ کسان ایک پر امن تحریک چلارہے ہیں۔ تاہم اس میں اس وقت افراتفری پیدا ہوگئی جب کسانوں نے یوم جمہوریہ کے موقعے پر دہلی میں داخل ہوکر لال قلعے پر نشان صاحب کا جھنڈا لہرایا ۔ اس جرم میں کہا جاتا ہے کہ وہ سو لاپتہ کسان حکومت نے گرفتار کئے ہیں جو لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے میں پیش پیش تھے۔ اس حوالے سے معلوم ہوا کہ دہلی سرکار نے دیپ سدھو نامی اس شخص کو گرفتار کیا ہے جو لال قلعہ میں جھنڈا لہرانے میں اہم ملزم قراردیا گیا ۔ دیپ سدھو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کا ایک اہم کارکن ہے اور کسانوں کو بدنام کرنے اور تشدد پھیلانے کے لئے جلوس میں شامل ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ مفرور بتایا جاتا تھا۔ تاہم بدھوار کو دہلی پولیس نے اسے گرفتار کرکے اس کے خلاف کیس بنانے کا اعلان کیا ۔ اس طرح سے کسان ایجی ٹیشن کا ہلہ گلہ تاحال برقرار ہے ۔