سرورق مضمون

رام بن میں قیامت صغریٰ : کرفیو، بندشیں ،ہڑتال ،گرفتاریاں اور انٹرنیٹ جام

ڈیسک رپورٹ

سرینگر سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر دور گول رام بن میں اس وقت قیامت برپا ہوگئی جب بی ایس ایف کے اہلکاروں نے نہتے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے موقعے پر ہی4 افراد کو ہلاک اور تین درجن کے قریب لوگوں کو زخمی کیا۔ اس واقعے کے رد عمل میں ریاست میں سخت تناؤ پایا جاتا ہے ۔ وادی میں کہیں کرفیو ، کہیں دفعہ 144اور کہیں پابندیاں لگائی گئیں ۔ سیاسی ، سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس واقعے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور جگہ جگہ اس کے خلاف جلوس نکالے گئے۔ کئی جگہوں پر تشدد کے واقعات بھی دیکھنے کو ملے ۔ حکومت نے اس طرح کے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے واقعے کی غیر جاندار تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کرکے وہاں کے لئے نیا آفیسر تعینات کیا گیا۔ مرکزی وزیرداخلہ سشیل کمار شنڈے نے اپنے ایک بیان میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ شنڈے نے کہا ہے کہ اس نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ ملوث افراد کے خلاف سختی سے نمٹا جائے ۔ اس دوران وادی کے بیشتر علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا اور عوام کو صبر و سکون سے رہنے کی اپیل کی گئی ۔ علاحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے رام بن واقعے کے خلاف تین روزہ ہڑتال کی اپیل کی جبکہ لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک نے عوام کو لالچوک پہنچنے کی اپیل کی۔ بہت سی جگہوں پر لوگوں نے جلوس نکال کر احتجاج کیا ہے جبکہ کہیں کہیں پتھراؤ کے واقعات بھی سامنے آئے ۔
رام بن میں ہلاکتوں کا یہ واقعہ جمعرات کی صبح اس وقت پیش آیا جب نزدیکی گاؤں دھرما، گول کے لوگوں نے الزام لگایا کہ وہاں قائم بی ایس ایف کیمپ نے ایک مقامی مدرسے میں داخل ہوکر وہاں تراویح پڑھنے اور قران کی تلاوت پر روک لگانے کی کوشش کی ۔ مدرسے میں مبینہ طور نیم فوجی اہلکاروں نے قرآن کی بے حرمتی کی اور موجود بہت سی مذہبی کتابوں کے ورق پھاڑ دئے ۔اما م صاحب کی مار پیٹ کی گئی اور رات سات بجے کے بعد گھروں سے باہر آنے پر روک لگادی تاکہ لوگ نماز تراویح ادا نہ کرسکیں ۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لوگ ایک جلوس کی صورت میں رام بن کی طرف بڑھنے لگے تاکہ ڈپٹی کمشنر آفس کو صورتحال سے باخبر کیا جاسکے۔ اس پر مذکورہ بی ایس ایف کیمپ کے جوان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے جلوس میں شامل لوگوں پر سخت فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں موقعے پر ہی چار افراد جان بحق جبکہ پچاس کے قریب لوگ زخمی ہوگئے جن میں سے کئی افراد شدید زخمی ہوئے۔ جلوس میں شامل لوگ الزام لگارہے ہیں کہ فائرنگ کے لئے ڈپٹی کمشنر نے ہدیات دیں اور وہی بی ایس ایف اہلکاروں کو فائرنگ پر ابھاررہاتھا ۔ اس کے بعد حکومت نے مذکورہ آفیسر کو تبدیل کرکے اس کی جگہ ایک نئے آفیسر کو تعینات کیا ۔ واقعے کی خبر ملتے ہی سرینگر میں سخت تناؤ پایا گیا ۔ لوگوں نے کئی جگہ جمع ہوکر احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن حکام کی بروقت کارروائی سے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا گیا ۔ سرینگر کے پائین علاقے میں مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں پر اس واقعے کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن اس کو پولیس نے گرفتار کیا۔ وکلا نے بھی اس کے خلاف جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن اجازت نہیں دی گئی ۔ بزرگ علاحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے تین روزہ احتجاج کی کال دی جس کی تمام دوسری علاحدگی پسند تنظیموں نے حمایت کی ۔ یاسین ملک نے جمعہ کو لال چوک میں جمع ہوکراحتجاج کرنے کی اپیل کی۔ لیکن حکومت نے شہر میں کرفیو لگاکر احتجاج کرنے کی اپیل کو ناکام بنایا ۔ریاست بھر میں اس واقعے پر سخت رنج و افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ احتجاج کی اس لہر نے ٹنل کے آر پار بہت سے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔ ٹھاٹھری ، ڈوڈہ اور پیر پنچال کے دوسرے علاقوں میں بھی احتجاج کیا گیا۔ سرینگر جموں قومی شاہراہ پر درجنوں مقامات پر لوگوں نے گھروں سے باہر آکر دھرنا دیا اور فورسز کے خلاف نعرے لگائے ۔ اس وجہ سے شاہراہ پر مسافر گاڑیوں کی آمد رفت روک دی گئی ۔ ریاستی سرکار نے اپنے وزیرسجاد احمد کچلو کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد گول روانہ کیا تاکہ لوگوں کو احتجاج سے روکا جائے ۔ ریاست کی تمام علاحدگی پسند اور سرکار نواز جماعتوں نے رام بن واقعے کو وحشیانہ حرکت قرار دیتے ہوئے اس کی مزمت کی ہے ۔ تاہم حالات انتہائی پرتناؤ البتہ کنٹرول میں ہیں ۔