اداریہ

راہل کے تعریف اور مودی کی مخالفت

ریاست کے وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ جو کہ آج کل لوک سبھا چناؤ میں اپنے پارٹی امیدواروں کیلئے ریلیوں، روڑشوز اور عوامی جلسوں کاانعقاد کرا کے لوگوں کو اس جانب راغب کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر عوام ان کے اتحادی امیدواروں کو کامیاب بنائیں گے تو راہل گاندھی ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ ممبر چننا ملک کے وزیراعظم کا انتخاب کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے لوک سبھا چناؤ کا مقصد ملک کا وزیراعظم منتخب کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کا زبردست حمایتی بن گئے۔ اس لئے عمرعبداللہ ہر کسی جلسے میں ان باتوں کو دہراتے ہیں اور مرکز میں کانگریس کی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی کے نامزد وزیراعظم کے امیدوار نریندر مودی کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
اگر چہ ریاست کے وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدرعمر عبداللہ راہل گاندھی کا تعریفوں کے پل باندھتا ہے اور اس کے حریف نریندر مودی کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ کشمیری عوام پر وزیراعلیٰ کے راہل گاندھی کے حق میں تعریفوں اور نریندر مودی کے مخالفت بھری تقریریوں کا کون سا اثر ہوتا ہے۔ اس کیلئے بس کئی دنوں کا انتظار باقی ہے ویسے حقیقت کو سمجھا جائے کشمیری عوام بھارت کی کسی بھی پارٹی چاہیے وہ کانگریس ہو، بھارتیہ جنتا پارتی ہو یا تیسرا مورچہ ہو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔
ویسے عمر عبداللہ ہی نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس کے صدر اور مرکزی وزیر ڈاکٹر فارو ق عبداللہ نے بھی مودی کے تئیں سخت الفاظوں کی بارش کی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے یہاں تک بھی کہا کہ مودی کو ووٹ دینے والے سمندر میں ڈوبنے چاہیے۔ اس طرح سے دونوں باپ بیٹے مودی کے پیچھے لٹھ لے کر کھڑے ہو گئے۔ تاہم جب نریندر مودی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کا ردعمل ظاہر کیا تو نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لہجہ بالکل بدل دیا اور کہا کہ مودی کی ذات سے کوئی اختلاف نہیں۔
عوامی حلقے اس بات سے واقف ہے کہ ڈاکٹر فاروق کے ایسے بیانات اکثر آتے ہیں اور پھر ضرورت پڑنے پر بدل بھی دیتے ہیں۔ یہی آج بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوامی حلقے اس بات سے بھی باخبر ہیں کہ اگر چہ آج ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ نریندر مودی کے سخت مخالف نظر آرہے ہیں تاہم اگر مودی ملک کے وزیراعظم بن گئے تو سب سے پہلے دونوں باپ بیٹے فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ ان کو مبارکباد دینگے اور اپنے اقتدار کیلئے التجا بھی کریں گے۔ اسلئے مرکز میں حکمران راہل گاندھی بن جائے یا مودی کشمیری عوام کو کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہاں کے لیڈروں کو اقتدار حاصل کرنے یا بحال رکھنے کیلئے اُن کی طرف رُجوع کرنا ہوگا ۔