خبریں

راہل گاندھی کا دورہ

کانگریس صدر سونیا گاندھی کے فرزند اور پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کی کشمیرآمد کانگریس حامیوں کیلئے ایک جذباتی لمحہ ہو سکتا ہے،تاہم سابقہ دورے کی تجربات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یونیورسٹی میں بھارت کے سرکردہ صنعت کاروں کی ٹیم کو کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ملاقات کرانے کے فوراً بعد ٹاٹا کمپنی نے یہاں ٹاٹا انڈیکام اور ٹاٹا ڈکومونے یہاں اپنا نیٹ ورک بند کرکے سینکڑوں نوجوانوں کو بے روزگار کیا اس بار پتہ نہیں کہ دورے کے بعد کیا ہوسکتا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے سابقہ دورے کے دوران بھارت کی معروف تجارتی و صنعتی شخصیات سمیت وزیراعظم کے معاشی مشیر سی رنگا راجن کو بھی شامل کیا تھا اور کشمیری نوجوانوں کو یہ تاثر دیا گیا تھا کہ وہ یہاں کی بے روزگاری اور معاشی معاملات میں کچھ مختلف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن عملی صورت میں اس دورے کو بھی ناکامی کی لیبل چسپاں کی جارہی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی چونکہ ملکی سطح پر کانگریس کے نوجوان لیڈر ہیں ،اسی لئے ان کی آمدمقامی نوجوانوں کیلئے باعث رغبت ہوسکتی تھی لیکن راہل گاندھی کے سابقہ دورے نے نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے۔سابقہ دورے کے دوران نوجوان کانگریس رہنما کے ہمراہ ٹاٹا کمپنی کے مالک رتن ٹاٹا،ایف آئی سی سی آئی کے سینئر لیڈران کے علاوہ وزیراعظم کے معاشی مشیر سی رنگا راجن بھی تھے جس کے دوران اعلیٰ سطحی وفد نے کشمیر یونیورسٹی میں طلباء کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کیا جبکہ مقامی تاجروں ،صنعتکاروں ،سول سوسائٹیز اور طلباء انجمنوں کے ساتھ بھی راہل گاندھی کی سربراہی والی ٹیم کے ساتھ دو بدو میٹنگیں کی۔ان نشستوں کے دوران مرکزی ٹیم جن کی سربراہی راہل گاندھی کررہے تھے ،نے نوجوانوں کو مین سٹریم کی طرف مائل ہونے اور ریاست کی اقتصادی ترقی میں اپنا رول ادا کرنے کی تلقین کی۔سابقہ دورے کے دوران ماہرین معاشیات اور بھارت کے سرکردہ صنعتکاروں نے کشمیر میں بے روزگاری کے خاتمے کیلئے ازخود آگے آنے کا دعویٰ کیا جبکہ اس حوالے سے کئی سفارشات بھی مرکزی سرکار کو بھیجی گئی جن میں نوجوانون کے فروغ ہنر ،روزگار کے وسائل میں اضافہ اور تعلیم کوعام کرنے کیلئے 5برسوں میں 25000طلباء کو تعلیمی سکالرشپ فراہم کرنے جیسے اہم سفارشات شامل ہیں لیکن آج تک ان سفارشات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔راہل گاندھی کے سابقہ دورے کے کئی روز بعد ہی رتن ٹاٹا کی کمپنی ٹاٹا موبائیل اور ٹاٹا ڈوکومونے اپنا نیٹ ورک سمیٹ لیا اور اپنی کمپنی میں کام کررہے سینکڑوں ملازمین کو یکسر بے روزگاری کی دلدل میں دھکیلا گیا۔ٹاٹا کمپنی کے اس فیصلے نے وادی کے نوجوانوں میں مایوسی پھیلا دی اور کمپنی کے مالک رتن ٹاٹا اور راہل گاندھی کے اعلانات کو بے وقعت قرار دیا۔ ادھر یونیورسٹی طالبعلموں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کا دورہ سیاسی سطح تک ہی محدود ہونا چاہئے اور انہیں یہاں کے نوجوانوں کے جذبات کے ساتھ مذاق کا کوئی حق نہیں ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں اپنے سابقہ دورے کے دوران انہوں نے کشمیری طلباء کو آسمان کی حدود تک نگاہیں دوڑانے کے خواب دکھائے لیکن بعد میں کیا ہوا؟انہوں نے کہاکہ یہاں کے بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کے روزگار کے مسائل کو کوئی حل نہیں کرپارہا ہے لہٰذا اب یہ امید کرنا کہ کوئی مرکزی لیڈر کچھ مختلف کرے گا ،عبث ہے۔ یونیورسٹی طالبعلموں کے مطابق مرکزی ٹیموں کا یہاں کے روزگار مسئلے کو چھیڑنا دراصل یہاں کے نوجوانوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا ہوتا ہے،ورنہ بقول اقبال رتن ٹاٹا ایک طرف کشمیری نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے اعلانات کررہے ہیں اور دوسری طرف ان کی کمپنی کشمیر سے ہی اپنا بوریا بستر لے کر چلے جانے کی تیاری میں لگے ہوں۔یہ مذاق ہی ہے۔ کئی ایک کا کہنا ہے کہ ان دوروں سے یہاں کی بے ورزگاری اور معاشیات پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑتا ہے بلکہ یہ سیاسی دورے ہوتے ہیں اور ان دوروں کو سیاسی نظریے سے ہی دیکھا جانا چاہئے۔ اس وجہ سے نوجوان کانگریس رہنما راہل گاندھی کی کشمیر آمد کو اس بار زیادہ اہمیت کا حامل تصور نہیں کررہے ہیں۔