نقطہ نظر

راہول گاندھی کی اہمیت

راہول گاندھی کی اہمیت

کلدیپ نائر
راہول گاندھی کسی نہ کسی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں۔اگلے روز ان کے 57 دن تک ملک سے غیرحاضر رہنے کا معاملہ زیر بحث تھا۔ درحقیقت راہول کو خود بتا دینا چاہیے تھا کہ وہ برما(میانمار) میں کیا کر رہے تھے لیکن پارٹی کے دیگر لیڈر‘ سوائے ان کی والدہ سونیا گاندھی کے جو کانگریس کی صدر ہیں ان کی غیر حاضری کو ان کا ذاتی معاملہ قرار دے رہے ہیں لیکن یہ الگ بات ہے کہ جب عوامی رہنماؤں کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی تو لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے لیڈر انھیں ہر معاملے میں اعتماد میں لیں۔
اس سے انھیں اپنے لیڈروں سے قربت کا احساس ہوتا ہے۔ راہول کے پڑنانا جواہر لعل نہرو ہمیشہ اپنے غیر ملکی دوروں کے بارے میں جلسۂ عام میں تفصیلات بتاتے تھے نیز ہر پندرہ دن میں وہ ریاسی وزرائے اعلیٰ کو خطوط بھی لکھا کرتے تھے۔ (یہ بات نہیں کہ وزیراعظم تنقید سے بالاتر ہوتا ہے)
آج جس بات پر بحث ہو رہی ہے وہ ہے وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے پیش کیے جانے والے حصول اراضی کے مسودہ قانون (بل) پر راہول کا زہر آلود تبصرہ۔ راہول نے وزیراعظم کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے کینیڈا میں بھارت کی ساکھ خراب کرنے کی یہ کہہ کر کوشش کی ہے کہ وہ سابقہ حکومت کے گند کو صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بہتر ہوتا کہ راہول وزیراعظم کے کینیڈا میں دیے گئے بیان پر خاموش رہتے۔ مجھے یاد ہے جب اندر کمار گجرال بطور اپوزیشن لیڈر جنیوا گئے تو وہاں انھوں نے کانگریس پر تنقید کی تھی۔ وہاں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس اندرون ملک بھی تنقید کرنے کے بہت سے مواقع تھے۔ لیکن آخر بیرون ملک جا کر کیوں گندے کپڑے دھوئے جائیں۔
بہت سے لوگ راہول سے اتفاق کریں گے کہ مودی کو بیرون ملک بھارت کی داخلی سیاست پر تبصرے سے اجتناب کرنا چاہیے تھا۔ زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ اندرونی معاملات پر بیرون ملک جا کر رائے زنی نہ کی جائے۔ اصل میں یہ طرز عمل اس وقت سے ہی نمایاں ہے جب سے بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) نے اقتدار سنبھالا ہے۔یہ پارٹی حکومت میں ہونے کے بجائے حزب اختلاف کا طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔ بدقسمتی سے یہ بی جے پی کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔
راہول کا سب سے بڑا اثاثہ یہ ہے کہ اس کا تعلق ایک ایسے حکمران خاندان سے ہے جس نے آ زادی کے بعد سے ملک کی رہنمائی کی۔ راہول کی والدہ چاہتی ہیں کہ راہول ان کی جگہ لے۔ لیکن ان کا منفی پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی پارٹی میں میرٹ کو یکسر نظر انداز کر رکھا ہے۔ نہرو نے مرار جی ڈیسائی کو محض اس وجہ سے اپنی جانشینی کا حق نہیں دیا کیونکہ ان کے ذہن میں اپنی بیٹی اندرا گاندھی کو اپنا جانشین بنانے کا خیال تھا۔ حکمران خاندان کے مسلسل برسراقتدار رہنے سے پالیسیوں میں ایک تسلسل ضرور قائم رہا لیکن اس کا منفی پہلو یہ تھا کہ اقتدار کے جائز حقداروں کی حق تلفی بھی ہوئی۔
وزیراعظم نریندرا مودی کو پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت حاصل ہوئی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قوم پرانے منظر نامے کو تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ بی جے پی کی کامیابی بنیادی طور پر کانگریس کے خلاف عوام کا ردعمل تھا۔ اس میں بی جے پی کی اپنی کوئی خصوصیت نہیں تھی۔ ملک میں بتدریج سیکولر ازم کا مزاج پیدا ہو گیا تھا اور عوام کو یہ احساس تھا کہ تنگ نظری سے بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ بی جے پی اگرچہ ہندو توا کی حامی ہے لیکن اس کو بھی تنگ نظری کے مضر اثرات کا احساس ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی اپنی ایک حالیہ تقریر میں اسی خیال کی توثیق کی ہے۔
مودی کی حکومت کو 10 ماہ کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن انھیں یہ احساس ہے کہ ہندو توا کا پرچار صرف اخبارات تک ہی محدود رہے تو بہتر ہے۔ ممکن ہے اس سے ہندو توا کے شدت سے حامیوں کو مایوسی ہوئی ہو لیکن راہول گاندھی نے اس صورت حال کو کانگریس کے حق میں مفید قرار دیا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے اپنی دادی اندرا گاندھی کی سیاست سے سبق حاصل کیا ہے کیونکہ جب اندرا گاندھی نے کانگریس پارٹی میں دراڑیں پڑتی ہوئی دیکھیں تو انھوں نے ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا کارڈ استعمال کیا۔ اسی طرح راہول نے ’سوٹ بوٹ کی سرکار‘ کا نعرہ اختیار کیا ہے۔
اس سے ان کی مراد امیروں پر نکتہ چینی ہے کیونکہ ملک میں غریب غرباء کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ان کی پارٹی اپنے سوشلزم کے بنیادی نظریے سے خاصی دور چلی گئی ہے جس کا ایک زمانے میں وہ بڑے فخر سے پراپیگنڈا کرتی تھی۔ اس طریقے سے کانگریس پنڈت نہرو کے نظریے کے قریب چلی گئی ہے جن کا کہنا تھا کہ اس ملک میں غریبوں کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ہمارے لیے بائیں بازو کا نظریہ اختیار کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
بی جے پی کا جو بھی نظریہ ہو راہول نے اس کے متبادل بات کی ہے جب کہ بھارت کے شمالی علاقوں میں بالخصوص پنجاب اور ہریانہ میں بارشوں کی وجہ سے فصلیں بہت بھرپور ہوئی ہیں۔ مہاراشٹرا میں بھی حالات شمال سے مختلف نہیں البتہ آم اور گنے کے کاشتکاروں کی حالت بہتر نہیں ہے کیونکہ وہاں ریاستی حکومت نے کاشتکاری کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی جب کہ گزشتہ دو سالوں سے وہاں پہلے ہی خشک سالی جاری تھی نیز غیر موسمی بارشوں اور ژالہ باری سے بھی فصلوں کا بہت نقصان ہوا۔ اس ماہ کے شروع میں ہونے  والی شدید ژالہ باری نے کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا جو کٹنے کے لیے تیار تھیں۔
ریاستی حکومت ممکن ہے کہ کاشتکاروں کی کچھ مدد کرے لیکن وہ ایک حد سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اس ریاست کی اقتصادی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں ہے۔ اس حوالے سے راہول کو ایک آسان ہدف مل گیا ہے لیکن اس کا اسے طویل مدت کے لیے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس حوالے سے انتخابات کے دوران ’’پوائنٹ اسکورنگ‘‘ ضرور کی جا سکتی ہے۔
اس مصیبت کے وقت میں یہ لازم ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں باہم مل کر ملک کو سہارا دیں کیونکہ یہ کسی ایک سیاسی تنظیم کے بس کی بات نہیں۔
حصول اراضی کے مسودہ قانون کی مخالفت کر کے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ واضح رہے کہ کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں بھی اسی قسم کا  قانون منظور کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ بی جے پی نے جو بل پیش کیا ہے اس میں کاشتکاروں کی مرضی کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی اس بات کو اس کے معاشرتی اثرات کیا ہوں گے۔ وزیراعظم مودی نے کہا ہے کہ وہ تمام تجاویز کو کھلے دل سے سنیں گے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ راہول کے بعض اعتراضات قبول کر سکتے ہیں۔
حکومت پر راہول کی تنقید یہ تاثر بھی دے سکتی ہے کہ وہ ترقی پسند نظام کے قائل ہیں حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ ’’جیوتی رادھتیہ سندھیا‘‘ (Jiytiraditya Scindia) نے فوری طور پر یہ اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کارپوریٹ کلچر کی مخالف نہیںہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے صنعتی اداروں اور کاروباری حضرات سے بھی فنڈز اکٹھے کرتی ہیں۔
کانگریس پارٹی جس کے کارپوریٹ شعبے کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں کیا وہ غریبوں کی حمایت کا دعویٰ کر سکتی ہے؟ تاہم یہ ابھی دیکھنے کی بات ہے لیکن اگر راہول کی تقریر سے اس قسم کا تاثر پیدا ہوتا ہے تو اس سے اس کی اہمیت میں یقینا کمی واقع ہو گی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)