مضامین

رقومات کے تصرف کی صلاحیت پیدا کرنا اہم ضرورت

وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے نئے مالی نظام کے تحت مربوط شدہ اہم سکیموں پر کام کی رفتار کا جائزہ لینے کیلئے دو ضلع سطحی نوڈل کمیٹیاں تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات میں امسال اضافے کے سبب رقومات کے تصرف کی صلاحیت پیدا کرنا فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ معاملہ وسائل کی دستیابی کا نہیں ہے بلکہ مختص رقم صرف کرنے کی صلاحیت کا ہے۔اس کا اظہار وزیر اعلیٰ نے پلوامہ  اور شوپیاں اضلاع کی ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگوں کی صدار ت کرنے کے دوران کیا۔ضلع پلوامہ کے لئے 116.75کروڑ روپے اور ضلع شوپیاں کے لئے 85.05 کروڑ روپے کے سالانہ منصوبے بورڈ میٹنگوں میں منطور کئے گئے۔وزیر اعلیٰ کی جانب سے تشکیل دی گئی نوڈل کمیٹیوں کی سربراہی چیئرمین ضلع ترقیاتی بورڈ کریں گے جبکہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر ، سی ای او ( محکمہ تعلیم ) ، چیف میڈیکل افسر، چیف پلاننگ افسر یا ڈسٹرکٹ سٹیسٹکل ایول ویشن افسر کمیٹیوں کے ارکان ہوں گے۔ترمیم شدہ سالانہ منصوبوں کے تحت مختص رقم کے بھر پور استعمال کو ترجیح قرار دیتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہا کہ ماضی میں مختلف سرکاری سکیموں بشمول اگریکلچر مارکیٹنگ انفرا سٹرکچر سکیم ، بیک یارڈ پولٹری اور دودھ کی پیداوار سے متعلق دیگر سکیموں کے لئے سبسڈی سے ہم کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے ریاست کے ضلع ترقیاتی بورڈوں کے چیئرمین ایسی سکیموں کے تحت حصولیابیوں کا جائزہ سہ ماہی جائزہ میٹنکوں کا انعقاد کر کے لیں گے۔جموں و کشمیر میں’ منریگا ‘کے تحت مختص رقومات کا بھر پور استعمال نہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے حکام کو ہدایت دی کہ وہ سکیم کے لیبر کمپوننٹ کو دیگر ترقیاتی سکیموں بالخصوص تعمیراتِ عامہ ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکموں کے تحت سکیموں کے ساتھ منسلک کرنے کے امکانات کا جائیزہ لیں۔ جس سے دیہی بے روز گار نوجوانوں کیلئے زیادہ سے زیادہ ایامِ کار پیدا کئے جا سکیں گے۔ باغبانی شعبے بالخصوص پلوامہ اور شوپیاں اضلاع کے سیبوں کی درآمداتی صلاحیت کو پوری طرح بروئے کار لانے کیلئے مفتی محمد سعید نے یورپ سے زیادہ پیداوار دینے والے میوہ درخت برآمد کرنے ، میوہ پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے مارکیٹ انٹر وینشن سکیم متعارف کرنے اور موسم پر مبنی فصل بیمہ سہولت کی فراہمی جیسے اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغل روڈ ایک متبادل سڑک رابطہ سہولیت فراہم کرے گی جس سے میوہ سے بھرے ٹرکوں کی بیرونِ ریاست بازاروں تک بروقت پہنچنا یقینی بن جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست کے ہر حلقہ انتخاب میں دو ماڈل طبی اداروں کے قیام کی ہدایت دی جن میں مقامی مریضوں بالخصوص زچہ و بچہ کیلئے علاج و معالجہ کی جدید ترین سہولیات دستیاب رکھی جائیں گی۔ قانون سازوں کی مانگوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دونوں اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر و تجدید ، رسیونگ سٹیشنوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے بجلی کی ترسیل کو توسیع دینے ،غیر مشتہر شدہ سیاحتی منازل کی سیاحتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور متعدد واٹر سپلائی سکیموں کو توسیع دینے کے فیصلے لئے۔ نوجوانوں کوبا ہنر بنا کر انہیں روز گار کے حصول کے قابل بنانے کیلئے وزیر اعلیٰ نے شوپیاں ضلع کے وچی علاقے میں آئی ٹی آئی کے قیام کا اعلان کیا۔ ضلع ترقیاتی بورڈوں کے چئیر مینوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو ریاست کی ضلع ترقیاتی بورڈ میٹنگوں کی از خود صدارت کرنے اور ریاست کی تعمیر و ترقی میں گہری دلچسپی لینے کیلئے سراہا۔ وزیر خزانہ جنہوں نے نئی مالی سکیم کا جائیزہ پیش کیا ، نے کہا کہ حکومت گذشتہ سالانہ منصوبوں میں دس فیصد اضافے کے رسمی اعلان، جو اضلاع کی ضروریات سے موافقت نہیں رکھتا تھا ،سے کوسوں آگے بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ہم نے آبادی ، آمدن ، بنیادی ڈھانچہ ، علاقہ اور ریاست بھر کے اضلاع میں عوامی سہولیات کی مساویت جیسے زمینی حقایق کی بنیاد پر اضلاع کی ضروریات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کر کے امسال سالانہ منصوبہ مرتب کیا ہے ‘‘۔ محبوبہ مفتی نے زمینی سطح پر مثبت تبدیلی لانے پر زور دیا تا کہ عام لوگوں کی بنیادی سہولیات اور سماجی بہبود سکیموں تک رسائی یقینی بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ منصوبہ بندی اہم ہے تا ہم بورڈ میٹنگوں میں لئے گئے فیصلوں کی عمل آوری سے ہی مثبت نتایج برآمد ہو سکتے ہیں۔ بورڈ میٹنگوں میں فیصلے لئے گئے کہ شکار گاہ کو سیاحتی منزل ، تار سر مارسر کو مہم جو کھیل منزل کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ وچی زیارت کو پلگرم سیاحت کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ دربجن اور ہر پورہ کو اہر بل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حدِ اختیار میں لایا جائے گا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج بوائیز پلوامہ میں پوسٹ گریجویٹ کلاس فوری طور شروع کئے جائیں گے ؛ گورنمنٹ ڈگری کالج پانپور اور گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پلوامہ میں نئے مضامین متعارف کئے جائیں گے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین پلوامہ کیلئے زیر تعمیر عمارت اس سال کے آخیر تک مکمل کی جائے گی۔ سب ضلع ہسپتال ترال کو توسیع دی جائے گی۔ زینہ پورہ وچی کیلئے کرٹیکل ایمبولینس سروس دستیاب رکھی جائے گی۔ نیو جنرل بس سٹینڈ پلوامہ عوام کے نام وقف کیا جائے گا۔ پلوامہ میں ڈوگری پورہ پْل کو توسیع دی جائے گی۔ پلوامہ ضلع کے تمام قصبہ جات میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ سہولت دستیاب رکھی جائے گی۔ پلوامہ قصبہ کیلئے سیوریج اور ڈرنیج پروجیکٹوں کی تعمیر کے امکانات کا جائیزہ لیا جائے گا۔ پلوامہ میں واسورہ لفٹ ایری گیشن سکیم مکمل کی جائے گی۔ وانچو۔ ودرو۔ وچی میں لفٹ ایری گیشن سکیم تعمیر کی جائے گی۔ پانپور قصبہ میں نکاسِ آب پمپ سہولیت کو توسیع دی جائے گی۔ کونی بل۔ وئین ، پانپور اور بیج بہاڑہ۔ شوپیاں سڑکوں کو توسیع دی جائے گی ؛ ترال ، پہلگام اور سید آباد۔ کھریو سڑکوں کی تعمیر کے امکانات کا جائیزہ لیا جائے گا۔ کنڈی زال پانپور میں دریائے جہلم پر فْٹ برج تعمیر کیا جائے گا۔ وچی میں ریش نگری۔ رام نگری پْل پر کام نبارڈ کے تحت ہاتھ میں لیا جائے گا۔ ووئین ، اونتی پورہ ، ترال اور پانپور کے پاور رسیونگ سٹیشنوں کو توسیع دی جائے گی ؛ اونتی پورہ۔ ترال ترسیلی لائین کو اس سال کے آخیر تک توسیع دی جائے گی۔ شوپیاں میں ترنز اور کپرن میں پاور رسیونگ سٹیشن نصب کئے جائیں گے۔ ترال میں فروٹ منڈی کی تعمیر کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ ترال کے گنگ دیہات میں چنار باغ کی دیکھ ریکھ کا کام محکمہ پھول بانی کرے گا۔ شوپیاں اور زینہ پورہ کیلئے دو کمیونٹی ہال تعمیر کئے جائیں گے۔