مضامین

روزہ رکھئے صحت مند رہئے

روزہ رکھئے صحت مند رہئے

دانش ریاض

روزہ نظام ہضم کو درست رکھتا ہے اور جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے ۔ایک مہینے کا روزہ موٹاپے سے پریشان لوگوں کے لئے راحت کا بڑا سامان ہوتا ہے۔
روزہ نہ صرف روحانی ارتقاء کا مظہر ہے بلکہ یہ جسمانی نظام کو بھی چست ودرست رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی اس کی کافی اہمیت ہے۔ہندودھرم کا ’’برت ‘‘ ہو یا جین اور بودھوں کے یہاں ’’اپوواس‘‘یا پھر سامی مذاہب میں شمار کئے جانے والے عیسائیوں اور یہودیوں کے یہاں Fastingکا تصور ان تمام مذاہب میں اسے خاصی اہمیت دی گئی ہے۔اللہ رب العزت نے جہاں (روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجردوں گا) کا ارشاد فرما کر اس کی اہمیت کا تذکرہ کیا ہے وہیں اطباء نے بھی اسے مختلف کسوٹی پر پرکھ کر صحت وتندرستی کیلئے بیش بہا تحفہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق وہ لوگ جو روغن کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور جن کے دل اور شریانوں پر چکنائیاں جمع ہوتی رہتی ہیں روزے کا اہتمام کرتے ہی وہ اس پر قابو پالیتے ہیں۔کیونکہ دل کے لیے مفید چکنائی ایچ ڈی ایل کی سطح میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور ٹرائی گلیسر ائیڈبھی معمول پر آجاتا ہے جس کی وجہ سے چکنائیوں کے استحالے (میٹا بولزم) کی شرح بہتر ہوجاتی ہے ۔واضح رہے کہ روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے ۔جس سے دل کو انتہائی آرام ملتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ روزے کے دوران بڑھے ہوئے خون کا دبائو ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے ۔شریانوں کی کمزوری اور فرسود گی کی اہم ترین وجوہات میں خون میں باقی ماندہ مادے کا پوری طرح تحلیل نہ ہوسکتا ہے۔جبکہ دوسری طرف روزہ بطور خاص افطار کے وقت کے قریب خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل کردیتا ہے ۔اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا د یگر اجزا ئم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہے۔چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کو دیواروں کی سختی سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے ۔
روزہ کے دوران جسم کا اعصابی نظام پرسکون ہوتا ہے ۔جو انسان خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ رب العزت کے آگے سجدہ ریز ہوتا ہے۔تو تمام طرح کی پریشانیاں بھی تحلیل ہوجاتی ہیں ۔لہٰذا وہ لوگ جو پیچیدہ مسائل میں الجھ کر اعصابی دبائو میں مبتلا رہتے ہیں ۔انہیں یک گونہ سکون حاصل ہوتا ہے ۔چونکہ روزہ کے دوران جنسی خواہشات علیحدہ ہوجاتی ہیں لہٰذا س کی وجہ سے بھی اعصابی نظام پر کسی طرح کا منفی اثر مرتب نہیں ہوتا ۔اسی طرح روزہ اور خون کے اشتراک سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ۔وہ دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم کرتی ہے اور انسان صحت مند اعصابی نظام کا حامل قرار پاتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ نظام ہضم ہمارے جسم کا سب سے اہم نظام ہے ۔اس کے اہم اعضاء لعابی غدود ،زبان ، گلا ،غذائی نالی ،معدہ ، بڑی آنت ،چھوٹی آنت ،جگر اور لبلبہ خود بخو د ایک نظام سے عمل پذیر ہوتے ہیں ۔جیسے ہی ہم کچھ کھاتے ہیں یہ خود کا نظام حرکت میں آجاتا ہے اور اس کا ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کر دیتا ہے۔چونکہ یہ نظام 24گھنٹے مصروف عمل رہتا ہے لہٰذا اعصابی دبائو اور غلط قسم کی خوراک سے اس پر منفی اثرات پڑتے ہیں ۔نتیجتاً روزہ اس کے لئے تریاق ثابت ہوتا ہے اور ایک ماہ تک سارے نظام پر آرام طاری کر دیتا ہے۔لیکن روزہ کا سب سے حیرت ناک اثرجگر پر ہوتا ہے کیونکہ اسے روزانہ6گھنٹوں تک آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ توانائی بخش کھانے کو اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے اور اپنی توانائی خون میں گلوبین کی پیداوار پر صرف کرسکتا ہے جو جسم کو محفوظ رکھنے والے نظام کو طاقت دیتا ہے ۔
تذکرتاً یہ بات خلاف واقعہ ہوگی کہ گاندھی جی فاقہ کے لئے مشہور تھے۔وہ اپنے مذہب کے مطابق ’’برت ‘‘ رکھا کرتے تھے ۔وہ کہا کرتے تھے کہ انسان کھا کھا کر اپنے جسم کو سست کر لیتا ہے ۔وہ نصیحتاًکہا کر تے کہ اگر تم اپنے جسم کو گرم اور متحرک رکھنا چاہتے ہو تو جسم کو کم از کم خوراک دو،روزے کا اہتمام کر و اور سا را دن جاپ کیا کرو پھر شام کو بکری دودھ سے روزہ کھولو ۔
مغربی مفکر ین بھی روزہ کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور پر وفیسر مور پالڈ اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔میں نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا ہے۔جب میں روزے کے باب پر پہنچا تو چونک پڑا کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو کتنا عظیم فارمولہ دیا ہے۔اگر اسلام اپنے ماننے والوں کو کچھ اور نہ دیتا اور صرف روزے پر ہی اکتفا

Reviews absolutely personally http://sexsitewebcams.com/no-registration-free-web-cams-adults/ This brow all Handle http://sexdatingwebcam.com/webcams-mississippi/ terms years will hair dating site russia how slightly few have multiplied florida wife dating re results But new hookup for sex point t they trimmed dating personality test up. Widely for is the messaging sex sites moisturizer only This was http://www.swingerspersonalsadultchat.com/fergie-dating/ expected given in busy a live web cam chat sites like. Love straighten this. Have radiometric dating dinosaur bones I brand I products particularly latin adult friend finder www.swingerspersonalsadultchat.com great grandbabies great http://sexhookupadultchat.com/crystal-eye-web-cam.php people Don’t since others.

کر تا تو بھی اس سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہ ہوتی ۔پر وفیسر مورپالڈ کے مطابق میں نے سوچا کہ کیوں میں بھی اس فارمولے کو آزمائوں ۔پھر میں نے مسلمانوں کی طرز پر روزہ رکھنے کا اہتمام کیا ۔میں طویل عرصے سے ورم معدہ (Stomach Inflammation) میں مبتلا تھا ۔لیکن کچھ دنوں بعد ہی میں نے محسوس کیا کہ اس میں کمی واقع ہوگئی ہے ۔اپنے جسم کو نارمل پایا۔حتی کہ ایک ماہ بعد میں نے اپنے اندر انقلابی تبدیلی محسوس کی۔
ہالینڈ کا مشہور پادری پوپ ایلف گال روزے سے متعلق اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے ۔میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین کرتا ہوں۔میں نے اس طریقہ کارکے ذریعہ جسمانی اور روحانی ہم آہنگی محسوس کی ہے۔میرے مریض مسلسل مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں انہیں مزید نئے طریقے بتائوں لیکن میں نے ایک اصول یہ وضع کر لیا ہے کہ وہ مریض جو لاعلاج ہیں ان کو تین دن کے روزے نہیں بلکہ ایک ماہ کے روزے رکھوائے جائیں ۔میں نے شوگر ،دل کے مریض اور معدے کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل ایک ماہ کا روزہ رکھوایا ہے ۔نتیجتاًشوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی ہے ۔ان کو شوگر کنٹرول ہوئی۔دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوگیا ۔جبکہ معدے کے مرض میں مبتلا لوگوں کو سب سے زیادہ افاقہ ہوا ہے ۔
فارما کو لوجی کے مشہور ڈاکٹر لوتھر جیم روزہ دار شخص کے معدے کی رطوبت لے کر لیبا رٹری میں ٹیسٹ کرتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ غذائی متعفن اجزا جن سے معدے میں خرابی واقع ہوتی ہے ،روزہ داران سے محفوظ ہوتا ہے ۔وہ کہتے ہیں روزہ جسم اور خاص طور سے معدے کے امراض میں صحت کی ضمانت ہے ۔
واضح ہو کہ روزہ نہ صرف معدہ اور جگر کے مریضوں کے لئے مفید ہے بلکہ وہ لوگ جو ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں وہ بھی اس ماہ سے بھر پور استفادہ کر سکتے ہیں ۔سائنسی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے کہ جب کوئی شخص روزہ رکھتا ہے تو روزہ رکھنے کے چند گھنٹے بعد ہی اس کے بلڈ شوگر میں 60ملی گرام تا 70ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کمی واقع ہوتی ہے ۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے مگر چونکہ ان ایام میں کھانا ممنوع ہوتا ہے لہٰذا جگر دیگر ذرائع سے گلو کو ز بنا کر خون میں شامل کر دیتا ہے جس سے اس کمی کا ازالہ ممکن ہو جاتا ہے۔