خبریں

ریاستوں کو فیصلہ سازی کے مزید اختیارات دئے جائیں

وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ جموںو کشمیر کی سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اور1947ء سے جاری مشکل حالات کے سبب ریاست، جو خصوصی زمر ے کے تحت آنے والی ریاستوں میں شامل ہے، میں مرکزی معاونت کے تحت سکیموں کیلئے 90:10طرز پر فنڈنگ کی فراہمی کو ختم کرنا ریاست کے لئے موافق نہیں ہے۔مفتی سعیدنے کہاکہ90:10طرز پر رقومات کی فراہمی کے نظام کو ختم کرنے سے جموں وکشمیر کی طرح شمال مشرقی ریاستیں، جو مشکل جغرافیائی حالات اور غیر یقینی حفاظتی صورتحال سے نمٹ رہی ہیں، کی سیاسی ومعاشی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے ان ریاستوں کی صورتحال بہتر ہوتے دیکھی ہے اور مرکزی معاونت سے جاری سکیموں کی فنڈنگ کے طرز میں تبدیلی لانے کی تجاویز سے ان سکیموں پر عمل در آمد میں بھاری رکائوٹیں پیدا ہوں گی۔وزیر اعلیٰ نیتی آیوگ کے 10وزراء اعلیٰ پر مشتمل سب گروپ ھنک ٹینک، جو مرکزی معاونت سے چلائی جارہی سکیموںکی تنظیم نو ہے، کے لئے تشکیل دی گئی ہے، کی ایک میٹنگ میںاپنے خیالات کا اظہا ر کررہے تھے۔میٹنگ میں وزیر خزانہ حسیب درابو،پرنسپل سیکریٹری منصوبہ بندی وترقی بی آر شرما اورپرنسپل ریذیڈنٹ کمشنر جموںوکشمیر ایل ڈی جھا بھی موجود تھے۔میٹنگ کی صدارت مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شو راج سنگھ چوہان نے کی جب کہ راجستھان،اروناچل پردیش،جھارکھنڈ اورناگالینڈ کے وزراء اعلیٰ کے علاوہ لیفٹنٹ گورنر انڈومان اورنکوبار جزائر بھی میٹنگ میںموجود تھے۔مرکزی معاونت سے جاری سکیموں کی تعداد جو کہ فی الوقت 66ہے کو کم کرکے 17بڑی سکیموں تک محدود رکھنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ باقی ماندہ سکیموں کو ختم کرکے ان پر صرف ہونے والی رقم 17بڑی سکیموں کے لئے مختص رکھی جاسکتی ہیں۔انہوںنے کہا کہ 17بڑی مرکزی سکیموں اورپروگراموں پر 86فیصد رقم مختص رکھی جاتی ہے اورباقی ماندہ 14فیصد رقم جو کہ 49دیگر سکیموں پر صرف کی جاتی ہے، کو ریاستوںمیں مرکزی سکیموں کی بہتر عمل آوری کے لئے منتقل کرنا ہی دانشمندی ہے۔مرکزی حکومت کو ملک کی ریاستوں کے مخصوص حالات وضروریات کا خیال رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے مفتی نے مرکز پر زوردیا کہ وہ مخصوص زمرے کے تحت آنے والے علاقوں میں مرکزی معاونت والی سکیموںکو 90:10کی طرز پر ہی رقم فراہم کریں۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مرکز میں ناقص مالی نظام ریاستوں میںمالی عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے۔اگر مرکز میں بجٹ اخراجات پورے نہ ہوپائیں تو اس کے منفی اثرات ریاستوں کو بھگتنے پڑیں گے۔ریاست کے ناکافی مالی ذرائع کا ذکر کرتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہا کہ جموںوکشمیر کو مرکزی معاونت والی سکیموںکی عمل آوری کے لئے رقومات کی عدم دستیابی کے سبب کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوںنے مرکز پر زوردیا کہ وہ مرکزی سکیموں کیلئے 90فیصد گرانٹ اور10فیصد قرضہ کی طرز برقرار رکھیں۔چودہویں فائنانس کمیشن کی سفارشات کو اْجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے وفاقی امداد باہمی کو عمل میں لاکر ریاست کو فیصلہ سازی کے مزید اختیارات فراہم کرنے اور مرکزی ٹیکسوں میں بھی انہیں اپنا حصہ فراہم کئے جانے پر زوردیا۔انہوں نے کہاکہ مرکزی سکیموں کو انفرادی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مربوط وفاقی مالی نظام کے طور پر بروئے کار لاناوقت کی اہم ضرورت ہے۔مرکزی سکیموں کی عمل آوری کے لئے رہنما خطوط میں نرمی لانے کے اپنے مطالبہ کو دہراتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مقامی ضروریات اورقلیل کام کاج سیزن کے تحت ان سکیموںکی عمل آوری کے لئے ماہ اپریل میں ہی مختص رقم فراہم کی جانی چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ چودھویں مالی کمیشن کی سفارشات کے تحت ریاستوںکو مزید ذمہ داریاں اور رقومات فراہم کی جانی لازمی تھیں ،تاہم جس انداز سے ان سفارشات پر عمل در آمد ہوا وہ خصوصی زمرے کے تحت آنے والی ریاستوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔اس موقعہ پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے وزیر خزانہ حسیب درابو نے کہا کہ چودھویں مالی کمیشن کی سفارشات کو مدنظر رکھ کر این آئی ٹی آئی آیوگ کو ریاستوں میں مرکزی سکیموںکی عمل آوری پر از سرنو غور کرنا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ چودھویں مالی کمیشن کے تحت مرتب نیامالی نظام کامیابی سے ہمکنار نہیںہوگا اگر مرکز کی جانب سے ریاستوں کو فنڈس کی منتقلی کے حجم میں کمی کی جائے گی۔اس موقعہ پر سب گروپ کے چیرمین شوراج چوہان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔