سرورق مضمون

ریاست میں حکومت سازی / پی ڈی پی میں پھوٹ کے آثار / مظفر بیگ کے الزامات کی بوچھاڑ

ریاست میں حکومت سازی / پی ڈی پی میں پھوٹ کے آثار / مظفر بیگ کے الزامات کی بوچھاڑ

ڈیسک رپورٹ/
پی ڈی پی کے سربراہ مفتی محمد سعید نے اعلان کیا کہ ان کے بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کے لئے میدان ہموار ہورہاہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ مفتی نے اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس سے پہلے پارٹی نے اپنے ترجمان نعیم اختر کو یہ ذمہ داری سونپ دی تھی کہ بی جے پی کے ساتھ بات چیت کے بارے میں وہی بیانات سامنے لائے ۔ اس کا مقصد بھانت بھانت کی بولیوں کو ختم کرنا تھا تاکہ عوام اور پارٹی کے اندر کوئی انتشار پیدا نہ ہوجائے۔ لیکن سمجھوتے کے قریب پہنچتے ہی پی ڈی پی میں پھوٹ کے آثار نظر آنے لگے ۔ پچھلے کئی دنوں سے جو بیانات سامنے آرہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر حالات سازگار نہیں ہیں اور جلد ہی لاوا پھوٹنے والا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور پارلیمنٹ ممبر مظفر بیگ نے بھانڈا چوراہے پر پھوڑ دیا اور پارٹی قیادت کے خلاف الزام تراشی کرکے ظاہر کیا کہ یہاں عنقریب بغاوت ہونے والی ہے ۔ پارٹی قیادت اس بغاوت کو ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ بیگ نے جس طرح بغاوت کا اعلان کیا ہے اس پر آسانی سے قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ آگے چل کر اس سے پارٹی میں سخت انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ پارٹی میں ان کا ساتھ دینے کے لئے چھوٹا گروہ ہی نظر آتا ہے تاہم کچھ وقت کے بعد ان کی حمایت میں کچھ دوسرے لوگوں کے سامنے آنے کے خیال کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں پارٹی سربراہوں کے خلاف جو بیان دیا وہ انہوں نے کچھ دوسرے سینئر ساتھیوں کے اشارے پر دیا ہے ۔ یہ ان کا ذاتی خیال ہی نہیں ہے بلکہ ان کے اس خیال کی تائید کئی دوسرے سینئر لیڈر بھی کررہے ہیں ۔ اگرچہ وہ لوگ ابھی سامنے نہیں آئے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بیگ کو یقین دہانی کی ہے کہ وقت آنے پر وہ ان کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس وجہ سے پی ڈی پی کے اندر سخت انتشار پھیل گیا ہے اور حکومت سازی کے ساتھ ساتھ بغاوت کے بھی آثار نظر آرہے ہیں ۔
مظفر بیگ کا سخت بیانات اس وقت پیش آئے جبکہ ریاست میں حکومت سازی کے لئے پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان بات چیت حتمی نتیجہ تک پہنچنے کے قریب ہے ۔ بی جے پی دہلی میں انتخابات کے ساتھ مصروف ہے اور کشمیر میں حکومت سازی دہلی انتخابات کے بعد طے کرنے کے حق میں ہے ۔ اسی درمیان مظفر بیگ نے پہلے مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کا مسئلہ اٹھایا اور انہیں مستقل شہریت دینے کی بات کہی۔ اس کے بعد انہوں نے پی ڈی پی قیادت کے خلاف زہر اگلا ۔ انہوں نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ پارٹی میں کسی اور کی سننے کے بجائے پارٹی سرپرست مفتی سعید اور پارٹی صدر محبوبہ مفتی فیصلہ لینے کی مجاز ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے لئے انہوں نے کھل کر کہا کہ انہی باپ بیٹی کو حتمی فیصلہ لینا ہے۔ اس طرح سے مستقبل کے خدشات سے اپنے آپ کو الگ کرتے ہوئے انہوں نے اتحاد کی ساری ذمہ داری باپ بیٹی کے سر تھونپ دی ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی صورت میں کشمیر سے پی ڈی پی کا سیاسی مستقبل ختم ہونے کا خطرہ ہے ۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے مظفر بیگ نے اپنے آپ کو اس اتحاد سے پہلے ہی الگ کیا ۔ ادھر کئی لوگوں کا خیال ہے کہ بیگ نے پارٹی میں کئی اہم لیڈروں کے آنے سے اپنی اہمیت کم ہوتی محسوس کی ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر حسیب درابو اور الطاف بخاری کا نام لیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اب پارٹی میں ان ہی دو لوگوں کی بات سنی اور مانی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے مظفر بیگ مفتی سے دور ہورہے ہیں۔ اپنی اہمیت کم ہوتے دیکھ کر بیگ نے اپنی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ وجہ جو بھی ہو ایک بات صاف ہے کہ پی ڈی پی کے اندر حالات سخت خراب ہیں اور بیگ کی رہنمائی میں بغاوت پھوٹنے کا خدشہ ہے ۔ یہ بغاوت ابھی ہوگی کہ کچھ آگے چل کر ، تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ بغاوت ضرور ہوگی اور بڑے پیمانے پر ہوگی۔ بیگ نے بھیج بو دیا اب اس کے پھوٹنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اس کا کڑوا پھل جلد یا بعد میں ضرور سامنے آئے گا ۔