خبریں

ریاست نوٹ تیار کرنے والی مشین

ریاست نوٹ تیار کرنے والی مشین

نیشنل کا نفرنس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے جموں فدائین حملوں کے لئے فوج ، سیکور ٹی ایجنسیوں اور سیاستدانوں کو ایک ہی ترازو میں تولتے ہوئے کہا کہ ریاست نوٹ تیار کرنے والی ایک مشین بن چکی ہے جہاں صرف پیسا بولتاہے۔ سی این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈا کٹر کمال نے سانبہ اور ہیرا نگر میں ہوئے فدائین حملوں پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے یہا ں فوج اور سکور ٹی ایجنسیوں میں مفا د خصو صی رکھنے والے ایسے بھی عناصر موجود ہیں جو اس طر ح کی کا روائیا ں انجا م دیتے رہتے ہیں۔ اور ان کے رول کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا 146146 کہ فوج اور ان سے منسلک ایجنسیوں میں ایسے عنا صر مو جود ہیں جو پیسہ بنا نے کیلئے اس طرح کی کاروائیا ں انجام دینے کے لئے حاضر خدمت رہتے ہیں145145 انہوں نے کہا کہ ریا ست نوٹ تیار کرنے والی مشین بن چکی ہے اور یہا ں ہر طرف پیسہ بولتا ہے۔ ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے اس بات پر حیرانگی کا ا ظہار کیا

ہے کہ کس طر ح مٹھی بھر جنگجو ایک ایسے علاقے میں نمودار ہوئے جہاں ملٹنسی کا نا م ونشان ہی نہیں ہے۔انکا کہنا تھا146146ما ن لیجیے کہ حملہ جنگجوئوں نے کیا لیکن یہ حملہ کس کے اشاروں پر انجام دیا گیا اس بارے میںلاکھوں سوالات جنم لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پر ست صر ف فوج اور سیکورٹی ایجنسیوںمیںہی موجود نہیں بلکہ کچھ سیاست دان بھی اس حمام میںننگے ہیںجنہوں نے کشمیر ی عوام کے نام پر دولت اکھٹا کی ہے اور یہ لوگ بھی حالات اور کشمیر یوں کا استحصال کر کے مز ے لوٹ رہے ہیں۔اس بارے میں ریا ستی وزیر غلام حسن کی مثال پیش کرتے ہوئے کمال نے کہا کہ اس نے کس طر ح کابینہ وزیر ہونے کے با وجود فوج سے رقومات حا صل کیں جبکہ میر کی طرح یہاںبہت سارے لوگ ہیں جو فوج کے چھترچھایا میں پل رہے ہیں۔انہوں نے اس بات کابھی انکشاف کیا کہ اونتی پورہ میں مقیم وکٹر فورس کے کمانڈر نے سال 2010 کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران کلیدی رول اداکیااور یہ سب پی ڈی پی کو اقتدار میں لانے کے لئے کیاگیا تھا۔ ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ جس طرح پاکستان میںجماۃ الدواہ کام رہا ہے اسی طرح بی جے پی بھارت خا ص کر ریا ست میں اپنارول ادا کر کے گند ی اورتعصبا نہ سیا ست کررہی ہے۔ انہوں نے جموں میں ہوئے فدائین حملے کو ہند و پاک مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کا ایک اور واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں یا پھر دونوں ممالک کے سربراہان میں مذاکرات کی پہل ہوتی ہے تو جموں سے واقعات کو بار بار دہرا کر دونوں پڑوسیوں کے درمیان دراڈ کو مزید وسیع کیا جاتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے دونوں ممالک کے سرابراہان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ دشمنوں کی چالوں کو سمجھ کر ان کیخلاف صف آراء ہوجائیں، انہوں نے کہا کہ جموں جیسے واقعات صرف اُسی وقت کیوں رونما ہوتے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان کوئی اہم پیش رفت ہونی ہوتی ہے تو ممبئی حملے، سرحدوں پر فوجیوں کی ہلاکت اور چٹھی سنگھ پورہ جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جس سے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کمال نے وزیر اعظم ہند ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اُس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جموں واقعے سے نواز شریف سے اُن کی ملاقات پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے عوام خصوصاً سربراہان سے اپیل کی کہ وہ آپسی دوستی کو پروان چڑھانے کیلئے راہ ہموار کریں تاکہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیگر معاملات حل کرنے میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جموں جیسے حملے دونوں ملکوں کے اتحاد اور اتفاق سے ہی رُک سکتے ہیں اس لئے یہ ضروری بنتا ہے کہ دونوں پڑوسی آپسی رنجشیں ، تلخیاں اور دوریوں کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرکے اعتماد سازی کی ایسی فضاء قائم کریں، جس پر جموں سے واقعات اثر انداز نہ ہونے پائیں۔