مضامین

ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ/ محبوبہ مفتی…ایک شخصیت ایک کاروان

ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ/ محبوبہ مفتی…ایک شخصیت ایک کاروان

اسی مہینے یعنی 4 اپریل کی بات ہے جب پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھاجپا کے ساتھ اتحادکرکے ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کے طور حلف لیا۔ گورنر این ین ووہرا نے محبوبہ مفتی کو بطور وزیراعلیٰ راج بھون جموں میں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ ساتھ ہی انہوں نے قانون ساز اسمبلی کے 22 ارکان کو اُن کے کابینی وزراء کی حیثیت سے بھی حلف دلایا۔
جن قانون سازوں نے کابینہ وزراء کی حیثیت سے عہدے اور رازداری کا حلف لیا،اُن میں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر نرمل سنگھ، عبدالرحمان ویری ، چندر پرکاش ،غلام نبی لون، بالی بھگت،عبدالحق خان ، لال سنگھ ،سید بشارت بخاری،سجاد غنی لون ،حسیب درابو،چیرنگ دورجے ،چودھری ذوالفقار علی، شیام لال چودھری،نعیم اختر ، عبدالغنی کوہلی اور عمران رضا انصاری شامل ہیں۔
جن قانون سازوں نے وزراء مملکت کی حیثیت سے حلف لیا ان میں آسیہ نقاش ،سنیل کمارشرما، سید فاروق احمد اندرابی،پریا سیٹھی،ظہور احمد میراور اجے نند ہ شامل ہیں۔
حلف برداری کی تقریب میں گورنر کی اہلیہ اوشا ووہرا، شہری ترقی و مکانات اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو،فوڈ پروسسنگ کی مرکزی وزیر ہر سمرت کور،وزیر اعظم کے دفترمیں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ ، سابق وزراء اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ و عمر عبداللہ ،قانون سا زاسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا،قانون ساز کونسل کے چیئرمین حاجی عنایت علی،اسمبلی کے نائب سپیکر نذیر احمد خان گریزی ،گورنر کے صلاح کار پرویز دیوان اور خورشید احمد گنائی،مختلف بورڈوں اور کمیشنوں کے وائس چیئر پرسنز ،بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھو،چیف سیکرٹری بی آر شرما،جموں و کشمیر کے ایڈوکیٹ جنرل ڈی سی رینہ، ڈائریکٹر جنرل پولیس کے راجندرا کمار،سول و پولیس انتظامیہ کے سینئر افسران ، سیاسی لیڈران اورکئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔
محبوبہ مفتی نے ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے عہدے اور رازداری کا حلف راج بھون جموں میں لیا۔ اس طرح سے محبوبہ مفتی کا پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کا واقعہ تاریخ ساز بن گیا ہے۔ریاست کی سیاست میں اُن کا طلوع روایتی کشمیری سماج میں صنفی مساوات اور بااختیاری کے ایک نئے دور کا پیامبر ہے۔ریاست کی ہنگامہ خیز سیاست میںانہوں نے نہ صرف اپنی شناخت بنائے رکھی بلکہ فہم و فراست اور محنت شاقہ سے اپنے لئے ایک منفرد مقام پیدا کیا۔ضلع اننت ناگ کے آکھرن نوپورہ میں 22؍ مئی 1959 ء کو تولد ہوئیںمحترمہ مفتی نہ صرف ریاست جموں وکشمیر بلکہ ملک بھر میں ایک قد آور سیاسی شخصیت تسلیم کی جاتی ہے۔محبوبہ مفتی ریاست جموں وکشمیر کے سیاسی منظرنامے پر حاوی رہی ہیں اور فی الوقت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر بھی ہیں، جس کی داغ بیل انہوں نے اپنے والد اور اُن کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 1999 میں ڈالی۔عوامی سطح کی سیاسی کارکن ہونے کے سبب پی ڈی پی کو خطے میں ایک مستحکم سیاسی طاقت کے طور پر اُبھارنے کا سہرا اُن کے سرجاتا ہے۔انہوں نے 2008ء میںپارٹی کی عنان سنبھالی اور 2014ء کے اسمبلی انتخابات میں اس کو واحد اکثریتی پارٹی کے طور پر اُبھارا ۔ محترمہ مفتی نے اپنے لئے سیاست کا میدان اُس وقت منتخب کیا جب جموں اور کشمیر تشدد اور اس کے نتائج کی گرفت میں تھااور ریاست سیاسی واقتصادی طور بدترین حالات کی شکار تھی۔انتشار کے المیوں سے دل برداشتہ محبو بہ مفتی اور ان کے والد مفتی محمد سعید، لوگوں تک پہنچنے اور ریاست اور شہریوں کے مابین گمشدہ روابط ایک بار پھر قائم کر کے اُن کی زخمی روح پر مرہم رکھنے، اُن کے گزیدہ وقار کو بحال کرنے ،ان کے دلوں میں ایک نئی اُمید جگانے اورانہیںسیاسی عمل میںشامل کرکے سر نوتقدیرسازی کی طرف راغب کرنے کی غرض سے آگے آئے۔محترمہ مفتی جموں وکشمیر کی چند اُن سیاستدانوں میں شامل ہیں جنہوںنے ریاست کے اطراف و اکناف کا دورہ کیا ہے۔اکثر انہوں نے سواری اور حفاظتی دستوں، جامروں اور موبائل فونوں کے بغیر دشوار گزار مسافتیں پیدل طے کر کے عوام تک پہنچنے کی کوشش کی۔اسمبلی انتخابات 2002 میں عوام نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو ریاست میں ایک متبادل سیاسی طاقت کے طور پر تسلیم کرکے پارٹی کو منڈیٹ دیا جس کے سبب جموں وکشمیر میں ایک تاریخی پہل کا معروف پنچ لائن ’’ ہیلنگ ٹچ‘‘ سے آغاز ہوا۔جب مفتی محمد سعید ریاست کو تاریخ کے بے حد مشکل دور سے باہر نکالنے میں مشغول تھے ، محبوبہ مفتی نے حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے حقیقی سیاسی و اقتصادی اقدامات کے فوری نتائج سامنے لانے کے لئے بنیادی سطح پرتندہی سے کام کیا۔ایک بارسوخ سیاست داں کی دختر ہونے کے باوجود محبوبہ مفتی ایک روایتی کشمیری ماحول میں پلی بڑی۔ان کی شخصیت پر ان کے والد مفتی محمد سعید اور نانا غلام مصطفی نازم ، جن کی رہنمائی میں انہوں نے اپنی حیات کا بیشتر حصہ گزارا ہے ،کا گہرا اثر رہا ہے۔انہوں نے اپنی سکولی تعلیم پرزنٹیشن کانونٹ سکول سرینگر میں حاصل کی جبکہ گورنمنٹ زنانہ کالج پریڈ جموں سے انگریزی ادب میں گریجویشن کی اور جامع کشمیر سے قانون کی ڈگری حاصل کی جس کے فوراً بعد اُن کا نکاح ہواجس میں بعد ازاں اختلافات در آئے۔اکتوبر 1989ء کو محترمہ مفتی دلی منتقل ہوئی اور اپنی دو کمسن بچیوں کی کفالت کے لئے بمبئی مرکنٹائل بینک میں کام کرنے لگی۔انہوں نے جموں وکشمیر واپس آنے سے پہلے کچھ مدت تک ایسٹ ویسٹ ائیرلائنز کے لئے بھی کام کیا۔محترمہ مفتی نوکری چھوڑ کر اپنے والد کے سیاسی کام میں مدد کے لئے ریاست واپس آئی۔چونکہ ملی ٹنسی کے خوف سے بجبہاڑ ہ سے انتخابات لڑنے کے لئے کوئی کھڑا ہونے کے لئے تیارنہیں تھا، اسی سبب محترمہ 1996ء میں پہلی مرتبہ اپنے آبائی حلقہ انتخاب ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقہ سے اسمبلی انتخابات کے لئے کھڑی ہوئیں۔ اس وقت ان کی دونوں بیٹیاں اِرتقا اور التجا پرائمری سکول میں تھیں۔محترمہ محبوبہ مفتی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور پہلی مرتبہ قانون ساز بنی۔ محبوبہ مفتی نے ریاستی اسمبلی میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی قائد کی حیثیت سے جلد ہی اپنے لئے ایک مقام پیدا کیااور اس وقت کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی حکومت کی ناقدبنی۔پی ڈی پی کے قیام سے قبل 1999ء میں محترمہ مفتی اسمبلی نشست سے مستعفی ہوئیں اور سرینگر سے پارلیمانی انتخابات کے لئے کھڑی ہوئیں۔وہ 2002ء میں پہلگام حلقہ انتخاب کی اسمبلی نشست پر کامیاب قرار دی گئیں۔ چونکہ وہ اننت ناگ۔ پلوامہ پارلیمانی حلقہ انتخا ب سے پارلیمانی نشست جیت گئی تھیں اس لئے وہ پہلگام اسمبلی نشست سے 2004ء میں مستعفی ہوئیں ۔ انہوں نے 2008ء میں ایک بار پھر ضلع شوپیان کے وچی حلقہ انتخاب سے ریاستی اسمبلی کی نشست کے لئے انتخابات میں شرکت کی اور کامیاب قرار دی گئیں۔مئی 2014ء میں محترمہ ایک بار پھر اننت ناگ ۔پلوامہ پارلیمانی نشست کے لئے منتخب ہوئیں ۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے ،انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود کے لئے پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹیوں کے رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔محترمہ مفتی مقامی ثقافت اور روایات میں اس حد تک رنگ چکی ہیں کہ اقتدار انے ان میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں لائی۔ ہمدردی ، اخلاق اور اپنے ہم کاروں اور عام لوگوں کے تئیں عزت و احترم ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔اُن کی ذاتی اور نظریاتی دیانتداری اور اصول پسندی سے ریاست کی روایتی سیاست میںنمایاں تبدیلی متوقع ہے جو ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوگا۔