سرورق مضمون

ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی تاجپوشی/ سرینگر کی کابینہ میں نمائندگی صفر کے برابر/ ضرور دال میں کچھ کالا ہے!

ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی تاجپوشی/ سرینگر کی کابینہ میں نمائندگی صفر کے برابر/ ضرور دال میں کچھ کالا ہے!

ڈیسک رپورٹ
4 اپریل کو محبوبہ مفتی نے ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا یا۔ جموں میںگورنر سے انہوںنے رازداری اور وفاداری کا حلف اردو زبان میں لیا۔ اس موقع پر 22 عوامی نمائندوں پر مشتمل وزارتی کونسل نے بھی حلف اٹھایا ۔ وزیروں میں 16 کابینہ درجے کے وزیر ہیں ۔ ان میں سے 8 پی ڈی پی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ 7 بی جے پی اور ایک وزیر پیپلز کانفرنس کاہے ۔ پی سی کے سجاد لون کو وزارت بی جے پی کے کوٹا میں سے فراہم کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ 6 سٹیٹ منسٹر بنائے گئے ۔ ان میں سے بھی دونوں اتحادی جماعتوں کو برابر کوٹاملا ہے۔ اس طرح سے بائیس وزیروں کے علاوہ وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ وزارتی کونسل میں شامل ہیں ۔ پی ڈی پی اور بی جے پی کی اتحادی حکومت بننے کے ساتھ ہی ریاست پر تین مہینوں سے نافذ گورنر راج اختتام کو پہنچا اور عوامی حکومت قائم ہوگئی۔ ریاست پر گورنر راج اس وقت نافذ کیا گیا تھا جب ریاستی وزیراعلیٰ دہلی میں مختصر علالت کے بعد اچانک رحلت کرگئے۔ اس کے بعد ان کی بیٹی اور پی ڈی پی سربراہ نے فوری طور وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے سے انکار کیا ۔ اس دوران انہیں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اس طرح کے ماحول میں حلف لینے سے انکار کیا ۔اس وجہ سے تین مہینے تک نئی سرکار نہ بن سکی۔ اس دوران یہ افواہیں گشت کرنے لگیں کہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے لئے کچھ شرائط رکھی ہیں اور یہ شرائط نہ ماننے کی صورت میں حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن آہستہ آہستہ حالات میں بہتری آئی اور دونوں جماعتوں کے سربراہوں کی ملاقات کے بعد دونوں پارٹیاں سرکار بنانے کے لئے تیار ہوگئیں ۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے پی ڈی پی کے اندرونی حالات بہتر نہیں ہیں ۔
پی ڈی پی نے اپنے چار ان ممبران کو وزارت سے الگ کیا جو مفتی سرکار میں بہت ہی اہم وزیرمانے جاتے تھے۔ یہ وزرا الطاف بخاری، جاوید مصطفیٰ میر ، محمد اشرف میر اور عبدالمجید پڈر ہیں۔ الطاف بخاری اور اشرف میرسرینگر کی دو اہم نشستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ سرینگر سے پی ڈی پی کے مبران این سی پر سبقت لے کر اسمبلی میں پہنچ گئے تھے۔ اشرف میر نے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کو سونہ وار حلقے سے بڑی آسانی سے شکست دی تھی۔ اسی طرح بخاری امیر ا کدل کے حلقے سے کامیاب ہوگئے تھے۔ ان کی کامیابی پی ڈی پی کے لئے ایک معجزے سے کم نہ تھی ۔ ان کی جیت تاریخی جیت مانی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مفتی مرحوم نے دونوں کو اپنی کابینہ میں شامل کیا تھا اور بہت ہی اہم وزارتوں سے نوازا تھا۔ جاوید میر لسجن کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور اپنے باپ کی طرح مفتی خاندان کا بہت ہی وفادار مانا جاتا تھا۔ اس کو سابق حکومت میں ریو نیو کا منسٹر بنایا گیا تھا ۔ لیکن محبوبہ جی نے اس کو بھی وزارت سے محروم کیا ۔ اسی طرح پڈر نے دمحال ، کولگام سے جیت درج کی تھی۔ اس نے این سی کی بہت ہی مضبوط اور نمایاں منسٹر سکینہ ایتو کو ہرایا تھا۔ ان کی اس جیت کے عوض انہیں سٹیٹ منسٹر بنایا گیا۔ ان چاروں کو وزارتی کونسل سے ڈراپ کرکے محبوبہ نے سب کو حیران کیا ۔ لیکن جلد وجہ سامنے آگئی۔ اخباری بیانات کے مطابق ان چار سابق وزیروں نے مبینہ طوراس وقت مرکز کے ساتھ خفیہ مذاکرات کئے جب محبوبہ بی جے پی کے ساتھ ناطہ توڑنے اور حکومت بنانے سے انکار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے محبوبہ مفتی کو الگ کرکے پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار بنانے کا خفیہ منصوبہ بنایا تھا۔ اس منصوبے کی تشکیل دینے میں کہا جاتا ہے کہ طارق قرہ نے اہم رول ادا کیا۔ بلکہ الزام ہے کہ انہوں نے ہی مائنس محبوبہ مخلوط سرکار کا یہ فارمولہ پیش کیا ۔ ان کا یہ فارمولہ ابھی نچلی سطح پر ہی زیرغور تھا کہ محبوبہ کو اس کا پتہ چلا ۔ انہوں نے شور مچانے کے بجائے براہ راست وزیراعظم مودی کے ساتھ بات کرنے کا دائو کھیلا ۔ مودی نے محبوبہ کے بغیر پی ڈی پی کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھانے کی اجازت دی اور مخلوط سرکار کی سربراہی کسی اور کو دینے کے بجائے محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ بنانے کی حامی بھرلی۔ اس طرح سے باغی گروپ کا منصوبہ ناکام ہوکر رہ گیا۔ پی ڈی پی کے اس باغی گروپ کے پر کاٹنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ چاروں اسمبلی ممبران کو وزارتوں سے محروم کیا گیا۔ ان باغی ممبران کی جگہ پانپور کے اسمبلی ممبر ظہور میر کو وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا ۔ اسی طرح ڈورو اسمبلی حلقے کے نمائندے فاروق اندرابی کو بھی وزارت سے نوازا گیا۔یادرہے کہ اندرابی محبوبہ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ اندرابی نے پچھلے اسمبلی انتخابات میں پردیش کانگری صدر غلام احمد میر کو ہرایا تھا ۔ اسی طرح بی جے پی نے اپنے دو ممبر وزارت سے الگ کئے اور ان کی جگہ دو نئے چہرے سامنے لائے ۔ بائیس ارکان پر مشتمل وزارتی کونسل میں سرینگر سے واحد وزیر آسیہ نقاش ہیں ۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ سرینگر سے کوئی بھی ممبر کابینہ میں شامل نہیں ہے ۔حلف لینے کے بعد رات دیر گئے وزرا کے قلمدانوں کا اعلان کیا گیا ۔ اہم پورٹ فولیو ایک بار پھر پی ڈی پی کے حصے میں آئے ۔ ہوم منسٹری وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے پاس رکھا ۔ فائنانس ، تعلیم اور آراینڈ بھی کی وزارتیں بھی پی ڈی پی کو ملیں۔ حسب سابق نائب وزیراعلیٰ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نرمل سنگھ کو بنایا گیا ۔ ساتھ ہی بجلی کی وزارت ڈاکٹر سنگھ کی تحویل میں دی گئی ۔ اسی طرح صحت عامہ کی وزارت بی جے پی کو دی گئی ۔ اس میں تبدیلی کی گئی کہ لال سنگھ کی جگہ اس کا وزیر بالی بھگت کو بنایا گیا ۔غلام نبی ہانجورہ کو زراعت جبکہ عبدالحق خان کو دیہی سدھار کا وزیر پھر سے بنایا گیا۔ اس طرح سے مخلوط سرکار میں کچھ ہی نئے چہرے شامل کئے گئے ۔ وزارت کہاں تک چلے گی۔ اس بارے میں مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کی اندرونی بغاوت اس حکومت کو زیادہ دن چلنے نہیں دے گی ۔ کئی ایک کا کہنا ہے کہ جب تک مودی مرکز میں وزیراعظم بنے رہیں گے ریاست کی مخلوط سرکار قائم رہے گی ۔