خبریں

ریاست کے پہلے ڈیزاسٹر مینجمنٹ منصوبے کو منظوری

ریاست کے پہلے ڈیزاسٹر مینجمنٹ منصوبے کو منظوری

آفاتِ سماوی سے موثر طور نپٹنے کے لئے صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم فیصلہ کے تحت وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے ریاست کے پہلے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کو منظوری دی تا کہ ہنگامی صورتحال اور آفاتِ سماوی سے موثر طور نپٹا جاسکے۔مفتی سعید جو کہ سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ منصوبہ بہت پہلے مرتب کرنے کی ضرورت تھی اور2014 ء کے تباہ کْن سیلاب نے آفات سماوی سے نپٹنے کے لئے اس ضمن میں انتظامی خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں سے قابلِ ذکر بروقت بچاؤ کارروائی کے لئے ناکافی تیاریاں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کی خدمات کی ضرورت ہے جو ہنگامی حالات میں فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔وزیر اعلیٰ نے ان خیالات کا اظہارسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی میٹنگ کی صدارت کے دوران کیا۔آفاتِ سماوی سے نمٹتے وقت ایک باقاعدہ سٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجرس پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے نئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا جو ٹاٹا انسٹی چیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کر نے اور حادثہ کے بعد بچاؤ کاروائی کو جاری رکھنے کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔مفتی سعید نے سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ رولز میں صوبائی سطح کی اتھارٹی شامل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ ہنگامی صورتحال اور آفات سماوی کے وقت بین الاضلع کے بہتر تال میل کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے عوام اور حکومت کے مابین بہتر تال میل کا قیام، آفات سماوی جیسے سیلاب، زلزلہ اور بادل پھٹنے جیسے حادثات سے بہتر طور نمٹنے کے لئے لازمی قرار دیا۔وزیر اعلیٰ کو سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کے خدو وخال کے بارے میںجانکاری دیتے ہوئے کمشنر سیکرٹری امداد و باز آباد کاری نے کہا کہ منصوبہ کے تحت ریاست میں آفات سماوی کے نقصانات کو کم کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ کے تحت ہنگامی آپریشن مراکز قائم کئے جائیں گے اور مقررہ مدت کے اندر تمام متعلقین کی مشاورت سے ڈیزاسٹر گورننس کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ میں انسانی وسائل کی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور اس کے لئے این ڈی ایم اے اور این ڈی آر ایف ایجنسیوں کے پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ ٹاٹا انسٹی چیوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی کے ماہرین نے سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ پلان کے اغراض مقاصد کو پاور پوائنٹ پریذنٹیشن کے ذریعے اْجاگر کیا جس میں خطرات کا خاکہ، احتیاطی تدابیر اور بچاؤ اقدامات کے علاوہ باز آباد کاری اور تعمیر نو سے متعلق معاملات شامل تھے۔ سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ پلان جو آج یہاں منظور کیا گیا ، میں وقتاً فوقتاً تبدیلی لائے جانے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ منصوبے کی کامیاب عمل آوری کے لئے وقتاً فوقتاً مارک ڈرلز کا انعقاد اور خطرات کا جائیزہ لینا ضروری ہے جس کے تحت فوری طور پر جموں اور سرینگر میں ایمرجنسی آپریشن مراکز کا قیام کی تجویز ہے جن میں ماہر ٹیموں کو تعینات کر کے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاری کی حالت میں رکھے جائیں گے۔منصوبہ میں سٹنڈرڈآپریشن پروسیجرس کی فہرست میں آفاتِ سماوی بشمول زلزلہ، سیلاب، پسیاں گر ، تودے گرنے، طوفانی ہوائیں، بادل پھٹنے، قحط سالی، آگ کی وارداتیں اور حیاتیاتی اور انسانوں کی جانب سے پیدا کی گئی ہنگامی صورتحال شامل ہیں۔