خبریں

ریل گاڑی غریب لوگوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا ترجیحی ذریعہ

ریل گاڑی غریب لوگوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا ترجیحی ذریعہ

بانہال بارہمولہ ریل سروس میں    4نئی ریل گاڑیوں کا اضافہ کیا گیا۔وادی میں نئی ریل سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا کہ ریاست میں بہتر ریل رابطہ کے سبب عوام کو مشکلات سے نجات مل جائے گا۔ سرینگر جموں شاہراہ بند رہنے کی صورت میں بھی یہ سروس انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگی۔اس موقعہ پر مرکزی وزیر ریلوے سریش پربھونے رابطہ کو ترقی کی سب سے بڑی علامت قرار دیا اور ریلوے کو رابطہ کے بہترین ذریعہ سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں ریاست کے لئے ٹرین سروسز کی فریکونسی میں اضافہ کر دیا جائے گااوراس کیلئے اضافی کوچ استعمال کئے جائیں گے۔ادھر ریلوے انتظامیہ نے کہا کہ 30 ہزارکے قریب لوگ روزانہ بانہال بارہ مولہ ریل سے سفر کرتے ہیں۔ اس موقعہ پر نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ، مرکزی وزیر مملکت برائے ریلوے منوج سنہا، وزیر برائے مال جاوید مصطفی میر ، وزیر برائے ٹرانسپورٹ اے جی کوہلی، وزیر مملکت برائے مال و تعمیرات عامہ سنیل کمار شرما، رکن پارلیمان شمشیر سنگھ منہاس، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری، چیئرمین ریلوے بورڈ کے علاوہ بھارتیہ ریلوے اور ریاستی حکومت کے ا فسران موجود تھے۔ریلوے کو عام اور غریب لوگوںکے لئے ٹرانسپورٹ کا ترجیحی ذریعہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر ریلوے کو کشمیر ریلوے پروجیکٹ پر خصوصی توجہ دینے کے لئے کہا تا کہ وادی کے عوام بھی ٹرانسپورٹ کے اس سستے ذریعے سے مستفید ہوسکیں۔ انہوں نے کہا ’’ میرا خواب ہے کہ کشمیر ملک کے دیگر حصوں سے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے جڑے‘‘۔نئی ٹرین سروس کا ریاست کے سیاحتی شعبۂ پر مثبت اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہتر ریل رابطہ سفر کو سستا اور آرم دہ بنا سکتا ہے جس سے سیاحوں کی ریاست آمد کو فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا ’’ ہر سیاح کے لئے ریل کا سفر ایک دلکش اور خوش کْن تجربہ ہے‘‘۔بھارتیہ ریلوے کو جموں کٹرہ اور بانہال بارہ مولہ ریلوے لائنوں کو چالو کرنے کے لئے سراہتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مشکل ترین جغرافیائی و موسمی حالات میں ریل کی پٹری بچھانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر ریلوے کو ریلوے ٹریک بچھانے کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو نوکریاں فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ریاست کے باغبانی شعبۂ کو ریلوے رابطہ سہولیت سے فروغ حاصل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مفتی سعید نے کہا کہ ریل رابطہ سے ملک کے دیگر حصوں کی منڈیوں اور ٹرمنل مارکیٹوں میں ریاست کے میوہ جات کی نقل و حمل یقینی بن سکے گی اور میوہ اْگانے والوں اور دستکاری شعبۂ سے وابستہ افراد کو اپنی مصنوعات اور فصلوں کا بہتر معاوضہ حاصل ہوگا۔اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر ریلوے نے ریل رابطہ کو ترقی کی سب سے بڑی علامت قرار دیا اور ریلوے کو رابطہ کے بہترین ذریعہ سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کٹرہ بانہال ریلوے لائن کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے کا ریاستی حکومت کو یقین دلایا۔سنیل پربھو نے اپنے خطاب میں کہا کہ مستقبل قریب میں ریاست کے لئے ٹرین سروسز کی فریکونسی میں اضافہ کیا جائے گا۔پربھو کے مطابق اس کے لئے اضافی کوچ استعمال کئے جائیں گے۔اس دوران ریلوے انتظامیہ نے کہا ہے کہ مشکل ترین 111 کلو میٹر طویل کٹرہ بانہال ٹریک پر کام جاری ہے اور اگلے چار برسوں کے اندر اس کی تکمیل کی توقع ہے۔ ٹریک میں ٹنلوں،فلائی اؤروں، زریں پْلوں کے علاوہ دریائے چناب پر دْنیا کے سب سے اونچے محرابی پْل کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔