نقطہ نظر

ریڈ کلف کا احساس ندامت

کلدیپ نائر
انگریزوں کی یہ شہرت ہے کہ جب وہ اپنی کسی نو آبادی کو چھوڑتے ہیں تو اس کو تباہ حال کر کے چھوڑتے ہیں خواہ انھیں بزور قوت وہاں سے نکلنا پڑے یا وہ اپنی مرضی سے نکلیں لیکن جس ملک کو وہ تقسیم کر کے نکلتے ہیں اس کا خانہ خراب کر دیتے ہیں۔ یہ انھوں نے آئرلینڈ میں کیا‘ فلسطین اور اسرائیل میں کیا اور بے شک برصغیر پاک و ہند میں بھی کیا۔ اب ہم 2016ء کے وسط میں پہنچ چکے ہیں اور مجھے لارڈ ریڈ کلف سے ہونے والی وہ گفتگو یاد آ رہی ہے جس نے کہ برصغیر میں ایک لائن کھینچ کر اسے بھارت اور پاکستان کے دو ملکوں میں تقسیم کیا۔
برصغیر میں انگلستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے برطانوی وکلاء میں سے ریڈ کلف کا انتخاب کیا اور اس کو لے کر برصغیر میں آ گیا اور کہا کہ اب اسے دو ملکوں میں تقسیم کر دو۔ ریڈ کلف نے برصغیر میں کبھی قدم نہیں رکھا تھا نہ تقسیم سے پہلے اور نہ تقسیم کے بعد۔ اور نہ ہی اسے اس ملک کے بارے میں کوئی معلومات حاصل تھیں۔ ریڈ کلف نے مجھے بتایا کہ جب ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ وہ برصغیر کو دوحصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی انتباہ کیا کہ یہ بڑا مشکل کام ہو گا۔ اس کو آسان نہ سمجھنا۔ ماؤنٹ بیٹن نے مجھے اس کام کے لیے 40,000 روپے کی رقم کی پیش کش کی جو کہ اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ لیکن ریڈ کلف کا اس ذمے داری قبول کرنے پر آمادہ ہونا صرف اتنی بڑی رقم کے لیے نہیں تھا بلکہ وہ سوچ رہا تھا کہ اگرچہ میں لندن کا مشہور وکیل ہوں لیکن اس کام کے بعد مجھے راتوں رات ایک بین الاقوامی اسٹیٹس مین (سیاسی مدبر) کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔
اس نے ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ اسے برصغیر کے مختلف اضلاع کے نقشے دیے جائیں لیکن اس وقت کوئی بھی نقشہ میسر نہیں تھا چنانچہ اسے وہ عام سا نقشہ دیدیا گیا جو سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں لٹکا ہوتا ہے۔ ریڈ کلف نے وہی نقشہ سامنے رکھ کر اس پر لائن کھینچنے کی کوشش کی۔ ریڈ کلف کو وہ 40,000 روپے کی فیس بھی نہیں ملی جس کا وائسرائے نے وعدہ کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس تقسیم کے نتیجے میں کم از کم ایک کروڑ افراد کی قتل و غارت ہوئی تھی جس کی وجہ سے ریڈ کلف کے ضمیر نے پیسے لینا گوارا نہ کیا کیونکہ وہ اتنی زیادہ قتل و غارت کا باعث بنا تھا لہٰذا اسے یہ رقم قبول نہیں کرنی چاہیے۔ اس کا انتقال لندن میں ہی ہو گیا جب کہ برصغیر کے اخباروں نے اس کے انتقال کی خبر لندن ٹائمز سے لے کر شایع کی۔
وہ ایسا شخص تھا جس نے یہ دو ملک بنائے لیکن اس کو اس کی کوئی داد نہ ملی اور نہ ہی وہ بین الاقوامی اسٹیٹس مین بننے کا درجہ حاصل کر سکا۔ اسقدر کثیرتعداد میں آ بادی کے تبادلے نے اس کے ضمیر کو متاثر کیا۔ کئی سال بعد بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو ان کے بحریہ کے ایڈی کانگ نے بڑے دکھ سے کہا کہ آ بادی کے اس تبادلے میں اس کی ماں اور باپ دونوں ہلاک ہو گئے۔ قائداعظم یہ سن کر کچھ وقت کے لیے خاموش رہے۔ بعدازاں انھوں نے کہا کہ نوجوان! میں اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس کا فیصلہ تو آیندہ آنے والی نسلیں ہی کریں گی۔
غالباً اب بھی کوئی حتمی فیصلہ کرنا جلد بازی کا نتیجہ ہی ہو گا لیکن قائداعظم ایک معاملے میں بہت واضح تھے کہ انھوں نے برصغیر کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا تھا حالانکہ بذات خود وہ معروف معنوں میں کوئی مذہبی آدمی نہیں تھے۔ اگرچہ انھوں نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنا دیا تھا جب کہ وہ خود چند لفظوں کے سوا اردو بولنا بھی نہیں جانتے تھے۔ بالآخر حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ تقسیم کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا تو مہاتما گاندھی نے جواہر لعل نہرو اور سردار پٹیل کو تجویز دی کہ متحدہ ہندوستان کی وزارت عظمیٰ قائداعظم کو سونپ دی جائے۔ یہ بات سن کر دونوں ہکا بکا رہ گئے کیونکہ وہ کئی سال سے سب سے اونچے عہدے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ انھوں نے تحریک آزادی کی سختیاں جھیلی تھیں لیکن وہ اعلیٰ منصب کی لالچ اور ہوس سے بالاتر نہیں تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کا فارمولا نہرو اور پٹیل نے قبول کیا تھا مہاتما گاندھی نے نہیں۔ ماؤنٹ بیٹن تقسیم پر تلا ہوا تھا چنانچہ اس نے سب سے پہلے مہاتما گاندھی کو مدعو کیا لیکن گاندھی تقسیم کا لفظ تک سننے کے لیے تیار نہیں تھے لہٰذا جب ماؤنٹ بیٹن نے اس کا ذکر کیا تو گاندھی کمرے سے واک آؤٹ کر گئے لیکن پٹیل اور نہرو نے تقسیم قبول کر لی کیونکہ انھوں نے آپس میں یہ موقف اختیار کیا کہ اب ان کی زندگی کا زیادہ عرصہ باقی نہیں لہٰذا اگر وہ ملک کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ماؤنٹ بیٹن کی پیشکش مان لینی چاہیے۔ قائداعظم تقسیم کی اس صورت سے خوش نہیں تھے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ پشاور سے دہلی تک کا علاقہ پاکستان کو حاصل ہو لیکن پھر ان کے پاس کوئی آپشن نہیں رہ گیا تھا۔ انگریزوں نے جو کچھ دیا وہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ قائداعظم اس صورت حال سے خاصے رنجیدہ تھے چنانچہ جب ماؤنٹ بیٹن نے انھیں برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی کا یہ مشورہ پیش کیا کہ دونوں نوزائیدہ ملک آپس میں کسی قسم کا رابطہ رکھنے کی تجویز قبول کر لیں تو قائداعظم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے ان پر (انڈینز) پر بھروسہ نہیں اور نہ ہی قائداعظم نے اس تجویز کو قبول کیا کہ ماؤنٹ بیٹن دونوں ملکوں کے گورنر جنرل بن جائیں۔
آج بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم اگر مشترکہ وزیراعظم بننے کی تجویز قبول کرلیتے تو وہ بہت اچھے وزیراعظم ثابت ہوتے اور اس طرح برصغیر بھی متحدہ رہتا۔ اس وقت تک کسی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ قائداعظم کو خطرناک بیماری ہے۔ اس بات کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ انگریزوں کو اس کا پتہ تھا یہی وجہ ہے کہ وہ معاملات کو اس وقت تک لٹکانا چاہتے تھے جب تک کہ قائد منظر سے غائب ہو جائیں وہ سمجھتے تھے کہ قائد کے جانے کے ساتھ یہ خیال بھی ختم ہو جائے گا۔ قائداعظم کی خفیہ بیماری وہ وجہ نہیں تھی جس بنا پر نہرو نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔ نہرو اور کانگریس کے دیگر لیڈروں کو اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے قائداعظم سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ پاکستان بنا دیں گے۔ چرچل ہندوؤں سے شدید نفرت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ انھیں اس عجیب و غریب مذہب کی سمجھ ہی نہیں آتی جب کہ اسلام بہت سیدھا سادھا اور قابل تفہیم مذہب ہے۔
اس کے ذہن میں تزویراتی وجوہات بھی تھیں پاکستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے تیل کی دولت سے مالا مال عرب ریاستوں اور دوسری طرف سوویت یونین تک کی رسائی رکھتا ہے۔بہت سالوں بعد جب میں لندن میں ریڈ کلف سے ملا تو وہ بونڈ اسٹریٹ کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر تھے۔ میرا خیال تھا کہ ان کے اردگرد بہت سے لوگ ہونگے لیکن میں حیران ہوا کہ میرے لیے دروازہ کھولنے وہ خود آئے اور چائے بنانے کے لیے خود کیتلی چولہے پر رکھی۔ وہ تقسیم کے بارے میں بات کرنے سے بہت زیادہ گریزاں تھے لیکن انھیں میرے اس سوال کا جواب دینا ہی پڑا۔ ان کے چہرے پر ندامت کے گہرے تاثرات تھے کیونکہ تقسیم کے وقت لاکھوں افراد کی قتل و غارت کا وہ خود کو ذمے دار سمجھ رہے تھے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)