خبریں

سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کےالزامات

سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کےالزامات

ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے پانچویں مرحلے کے آغاز اور اختتام کے درمیان عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے شدید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخصوص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچا نے کے لئے انتظامیہ کی مشینری اور فوج کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے الزام پر مبنی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ ڈی ڈی سی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مدد کرنے میں مصروف عمل ہے۔ادھر گپکار اتحاد کی نائب صدر اور جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی الزامات پر مبنی ٹویٹس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں رواں ڈی ڈی سی انتخابات میں دھاندلیاں کرنے کے لئے مسلح فوج کو استعمال کیا جا رہا ہے۔جموںوکشمیر میں جاری انتخابی عمل کے دوران پہلی مرتبہ دھندلیوں کے سنگین الزامات لگائے گئے ۔سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے الزام عائد کیا ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ ڈی ڈی سی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مدد کرنے میں مصروف عمل ہے اور جنوبی کشمیر میں تین صحافیوں کو سچ کہنے کے پاداش میں زد کوب کیا گیا۔ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کوٹویٹ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں رواں ڈی ڈی سی انتخابات میں دھاندلیاں کرنے کے لئے مسلح فوج کو استعمال کیا جا رہا ہے۔جنگجوؤں کی موجودگی کو بہانہ بنا کر فوج لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے باہر آنے سے روک رہی ہے۔ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’سیکورٹی فورسز نے ضلع شوپیاں کے متری بگ علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے اور جنگجوؤں کی موجودگی کے بہانے پر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے باہر آنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا ’ انتخابات میں دھاندلیاں کرنے کے لئے مسلح افواج کو استعمال کیا جارہا ہے اور ایک مخصوص جماعت کو سپورٹ کیا جا رہا ہے‘۔محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا تھاکہ انہیں گذشتہ15 دنوں کے دوران تین مرتبہ خانہ نظر بن رکھا گیا۔ان کا الزام تھا کہ وادی کشمیر میں بی جے پی کے لیڈران کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے لیکن اُنہیں سیکورٹی کے نام پر گھر سے باہر نہیں نکلنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک اورٹویٹ میں کہا’جنوبی کشمیر میں3 صحافیوں کو عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے ایک امیدوار، جس کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، کو انٹرویو کرنے کے پاداش میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مار پڑی، جموں و کشمیر میں ہر اس چیز کو جرم گردانا جاتا ہے جس سے سچائی ظاہر کی جاتی ہے‘۔یاد رہے کہ محبوبہ مفتی عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کی نائب صدر ہیں۔ادھرنیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’قانون کے محافظ کشمیر میں بی جے پی اور اس کے حواریوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے قانون توڑنے میں مسرت محسوس کر رہے ہیں‘۔ان کا کہناتھا ’ انتظامیہ کی پوری مشینری نے ڈی ڈی سی انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے کو اپنا اولین فرض تصورکر رکھا ہے‘۔
یاد رہے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سر ی گفوارہ علاقے میں تین صحافیوںکی مبینہ طور پر مار پیٹ کی گئی جبکہ ایک صحافی کو حراست میں بھی رکھا گیا تھا ۔اس دوران کشمیر پریس کلب کے ساتھ ساتھ مختلف میڈیا نمائندوں اورسیاسی افراد نے واقعے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ۔ تاہم پولیس نے بتایا معاملہ غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیاتھا۔جنوبی کشمیر کے ڈی ڈی سی انتخابات کے پانچویں مرحلے کے دوران جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سری گفوارہ علاقے میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس نے 3ٹیلی ویژن چینلوں سے وابستہ تین نامہ نگاروں کی مبینہ مارپیٹ کر نے بعد دو کو مقامی پولیس تھانے میں بند رکھاتھا۔ ٹی وی نیٹ ورک نیوز 18ارود نے بتایا کہ ’’یوٹی جموں وکشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے پانچویں مرحلے کی پولنگ جاری تھی۔ اس دوران جموں وکشمیر کے اننت ناگ ضلع میں انتخابات کی کوریج کے لئے گئے نیوز 18 کے رپورٹر مدثر قادری کے ساتھ اننت ناگ کے ایس ایس پی سندیپ چودھری نے بدسلوکی کی تھی۔ اس دوران کشمیر پریس کلب نے اس واقعے میں تین مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ افراد کے ساتھ پیش آئے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے تو وہیں ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے مدثر قادری کو انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔واقعے کے فوراًبعد کشمیر پریس کلب نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوںنے اس واقعے پر شدید الفاظ میں مزمت کی ہے ۔پریس کلب نے جاری بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ تینوں افرادجمعرات کے صبح علاقے میں جاری ڈی ڈی سی انتخابات کا کو کورکررہے تھے۔انہوں نے بتایا ای ٹی وی کے ساتھ کام کرنے والے فیاض لولو نے کلب کو اس واقعے کے حوالے سے جانکاری دی ہے ۔انہوں نے کشمیر پریس کلب انتظامیہ کو بتایا کہ وہ دو دیگر صحافی مدثر قادری (نیوز 18 اردو کے ساتھ اسٹرنگر) اور جنید رفیق (ٹی وی 9) کے ساتھ ‘‘پیٹا گیا،جب وہ جنوبی کشمیر کے علاقے سری گفوارہ میں جاری ڈی ڈی سی انتخابات کو کوریج کررہے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ان کا ضروری ساز سامان بھی ضبط کرلئے ہیں۔ فیاض لولو نے الزام لگایا کہ جب اننت ناگ کا ایس ایس پی موقع پر پہنچا کہ انہیں بے رحمی سے پیٹا گیا اور قریب ترین پولیس چوکی لے جایا گیا۔ فیاض نے مزید بتایا کہ جنید زخمی ہوگیا ہے جس کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔کشمیر پریس کلب نے اس واقعے کو بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اس امید کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی آزادی کو یکسر نظرانداز کرنے کے مرتکب کرنے میں قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جانے چاہیے۔کے پی سی نے چیف الیکٹورل آفیسر سے مزید کہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کا نوٹس لیں اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں۔ کے پی سی کا مزید مطالبہ ہے کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ کشمیر میں میڈیا کے آزادانہ اور منصفانہ کام کے لئے ایک پر امن ماحول قائم کرے۔اس دوران جنرلسٹ ایسو سی ایشن کے صدرنے پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ معاملہ ایک غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا ہے جس پر پولیس نے معزرت کا اظہار کیا ہے۔اس دوران اس واقعے پر متعدد میڈیا ادروں ،صحافی برادری ،سیاسی و سماجی شخصیات نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے واقعے کے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر نیشنل کانفرنس نے اننت ناگ میں پولیس کے ہاتھوں 3صحافیوں کی مارپیٹ اور زدوکوب کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور معاملے کی فوری تحقیقات کرکے خاطیوںکو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 2016سے ہی جموں و کشمیر میں پریس کی آزادی کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو ہر گزرتے وقت کے ساتھ دراز سے دراز ہوتا جارہا ہے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو نشانہ بنانا اب روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیوز 18کے مدثر قادری، ٹی وی 9کے جنید رفیق اور ای ٹی وی کے فیاض للو اننت ناگ میں ڈی ڈی سی الیکشن کے دوران اپنی فرائض انجام دینے کے دوران ان صحافیوں کی مارپیٹ کرنا اور حراست میں لیکر نزدیکی چوکی میں لے جانا قابل مذمت ہے۔ این سی ترجمان نے کہا کہ پولیس سربراہ نے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ معاملے کی تحقیقات کرکے خاطیوں کیخلاف کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہ رونما ہوں۔