اداریہ

ساجھے داری کب تک!

یکم مارچ کو مفتی محمد سعید نے ریاست کے 12 ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے جموں یونیورسٹی کے زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں حلف لیا۔ اس طرح سے 23دسمبر 2014سے طویل انتظار کے بعد ساری قیاس آرائیاں حقیقت میں بدل گئی۔ پی ڈی پی بی اور جے پی اتحاد کی سرکار معرض وجود میں لائی گئی اور دونوں پارٹیاں اقتدار میں ساجھے دار کے طور پر سامنے آئیں۔ وزیراعلیٰ مفتی سعید نے ابتداء میں ہی یعنی وزیراعلیٰ بننے کے پہلے ہی دن بی جے پی پی ڈی پی مشترکہ ایجنڈے کے پس منظر میں پریس کانفرنس میں پُر امن چنائو حریت کانفرنس، جنگجوئوں اور پاکستان کے رول کی ستائش کر کے داخلہ اور خارجی پہلو حل کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ ساتھ مزاحمتی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی خواہش کی۔ وزیراعلیٰ مفتی سعید کے وزیراعلیٰ بننے کے اگلے روز یعنی 2 مارچ کو ان کے بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں ملک کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اور بی جے پی مفتی کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرتی۔ اگلے روز بھی مفتی اپنے بیان پر کار بند رہے اور کہا کہ میڈیا اس کو رائی کا پہاڑ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا میرے بیان میں کچھ غلط نہیں، میں نے یہ کہا پاکستان اور حریت نے اس بات کو سمجھ لیا کہ گولیاں یا گرنیڈ نہیں بلکہ ووٹر سلپ میں لوگوں کی تقدیر بندھی ہے اور یہ ووٹر سلپ ہمیں آئین ہند نے دی ہے۔ ادھر مفتی کے بیان کی محبوبہ مفتی نے تائید کی، ایک طرف مفتی محمد سعید نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار کے مزے لینے چاہیے تو دوسری طرف ایسے بیان دینے شروع کئے جس سے ان کے خیال میں یہ مفتی کے بیان نہیں بلکہ حریت اور پاکستان کے بیان عوام کو لگے جس سے لوگوں میں ان کے تئیں ہمدردی پیدا ہوں۔ پی ڈی پی سرپرست کا خاص دھیان شاید اسی بات پر ہے کہ ایک تو فی الحال اقتدار ہے دوسرا تو ایسے بیانیات دینے بھی شروع کئے جائیں جس سے اگر کبھی اس بات کی نوعیت بھی آئے کہ بی جے پی کے ساتھ ساجھے داری ختم کرنی پڑے گی لیکن عوام میں پی ڈی پی کے تئیں ہمدردی بڑھ جائے، پھر ساجھے داری ختم کرنے کی کوئی پرواہ نہیں۔ سیاست میں ہر کچھ یعنی کچھ بھی ممکن ہے جیسا کہ مفتی محمد سعید کا بھی کہنا ہے سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ پی ڈی پی نے گذشتہ سرکار یعنی کانگرنس پی ڈی پی ساجھے داری بھی توڑی ہے اس وقت بھی کسی کے وہم میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہونے والا تھا لیکن حالات بنائے گئے اور ساجھے داری ٹوٹ گئی۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا بھی اشارہ کہ میری اس جانب توجہ نہیں کہ ہماری حکومت چھ برس تک رہے یا نہیں ہماری ترجیح کام پر ہے پھر چاہیے چھ برس ملیں یا ایک دو برس ۔ یعنی سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ خدشہ تو یہی ہے کہ پی ڈی پی نے شروعات سے ہی کچھ ایسے بیانات دینے شروع کئے جس سے بی جے پی اور پی ڈی پی ملاپ کے پورے چھ سال نکلنے والے نہیں ۔