سرورق مضمون

سارک سربراہوں کی موجودگی میں نریندر مودی کی حلف برداری

سارک سربراہوں کی موجودگی میں نریندر مودی کی حلف برداری

ڈیسک رپورٹ
26مئی کو اس وقت ہندوستان کی نئی تاریخ لکھی گئی جب بی جے پی کے سینئر لیڈر اور گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے ملک کے 15 ویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ تقریب راشٹرپتی بھون میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے بہت سے سیاسی لیڈروں کے علاوہ پہلی بار کئی سارک ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی۔ اس موقعے پر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف بھی موجود تھے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم اپنے کسی بھارتی ہم منصب کی حلف وفاداری کی تقریب میں شامل ہوئے ۔ تقریب مختصر تھی جس کے بعد نو منتخب وزیراعظم نے کئی مہمان سربراہوں سے ملاقات کی ۔ اس حوالے سے تمام لوگوں کی نظریں نواز مودی ملاقات پر لگی تھیں۔ دونوں سربراہوں کے درمیان ملاقات بڑے سازگار ماحول میں ہوئی اور دونوں طرف سے جوش وجذبے کا اظہار کیا۔
مودی کی قیادت میں بی جے پی نے پہلی بارپارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل کی اور کانگریس کے ساٹھ سالہ دور کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ۔ کانگریس جو پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت کے طور موجود رہتی تھی ، آج صرف 44 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔مودی نے اپنے سیاسی کیریر کا آغاز 1970 میں آر ایس ایس کے پرچارک کے طور کیا ۔ اس کے بعد 1987 میں بی جے پی میں شرکت کی ۔ یہاں انہیں پہلے نیشنل سیکریٹری بنایا گیا اور پھر پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا۔ صرف تین سال کے بعد مودی کو گجرات کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سونپا گیا۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے بہت زیادہ شہرت حاصل کی۔ ایک تو انہوں نے ریاست کو معاشی فرنٹ پر آگے بڑھایا۔ دوسرا یہاں بابری مسجد ڈھانے کے بعد جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے مودی کے مخالفین مودی کو ان فسادات کا اہم کردار مانتے ہیں۔ ان لوگوں کا الزام ہے کہ ریاستی اداروں نے ان فسادات کے دوران جانبدارانہ رول ادا کیا اور فساد کرنے والوں کو روکنے کے بجائے انہیں مسلمان قتل کرنے کی کھلی چھوٹ دی۔ اس کے بعد سے مودی کو ایک فرقہ پرست وزیراعلیٰ کے طور جانا جاتا ہے۔ اس سال بی جے پی نے اچانک نریندر مودی کو وزیراعظم کے عہدے کے لئے نامزد کیا ۔ ان کی نامزدگی پر بی جے پی کے سینئر رہنما سیخ پا ہوگئے ۔ لیکن ان کی نہیں سنی گئی۔ ان میں خاص طور سے لال کرشن ایڈوانی کا نام لیا جاتا ہے ۔ لیکن مودی نے مخالفتوں کو کئی وہمیت دئے بغیر کافی تیز انتخابی مہم چلائی۔ اس مہم کے دوران ہی اندازہ ہوا تھا کہ آپ بڑی اکثریت سے کامیاب ہوجائیں گے۔ نیشنل پریس نے ان کی مدد کرتے ہوئے الیکشن مہم کے دوران ہی انہیں جیسے وزیراعظم بنایا تھا۔ پریس کے اس رول نے ان کی کافی مدد کی اور لوگوں نے بھی ان کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ جس کے بعد بی جے پی بڑے پیمانے پر الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ بی جے پی نے انہیں پارلیمانی لیڈر منتخب کیا جس کے بعد صدر نے انہیں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کی دعوت دی۔اس طرح سے آپ ملک کے 15 ویں وزیراعظم بن گئے ۔
مودی کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے وزیرعظم نواز شریف ، سری لنکا کے صدر مہندرا راج پکشا ، افغانستان کے صدر حامد کرزائی، بھوٹان کے پرائم منسٹر ژیرنگ توبھگے،نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئیرالااور مالدیپ کے صدر عبدالغیوم نے شرکت کی ۔ اس کے علاوہ ملک کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ ، سابق صدر عبدالکلام ، سابق وزرا پی چدامبرام ، شرد پوار ، پروفل پٹیل ،مرلی منوہر جوشی اور ملائم سنگھ یادو موقعے پر موجود تھے ۔ کانگریس سربراہ سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہول گاندھی نے بھی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ ملک کے معروف تجارتی خاندان سے تعلق رکھنے والے مکیش انبانی اوران کے بھائی انیل انبھانی بھی موجود تھے۔ تقریب میں کل 3000 مہمانوں نے شرکت کی ۔ مودی کے بعد ان کی مختصر وزارتی کونسل میں شامل ممبران نے بھی حلف لیا ۔ جموں کشمیر سے ڈاکٹر جتندر سنگھ کو وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا ہے ۔