خبریں

سال بھر کیلئے امر ناتھ یاترا کشید گی کو ہوا دینے کی کوشش

سال بھر کیلئے امر ناتھ یاترا کشید گی کو ہوا دینے کی کوشش

حریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے کشمیر کے قدرتی وسائل اور ماحولیات کے تحفظ کو اس قوم کی آنے والی نسلوں اور محفوظ اقتصادی مستقبل کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جہاں اپنے سیاسی حقوق کی حصولیابی کی جدوجہد میں مصروف ہیں، وہیں من حیث القوم اپنے وسائل اور ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی ہمیں محاسبہ کرنا چاہئے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ آج جب کہ پوری دنیا ماحولیات کا عالمی دن منار ہی ہے ،ہماری وادی کو جو قدرتی وسائل ، ماحول آب و ہوا ، گھنے جنگلات اور پانی کے انمول ذخیرے قدرت کی طرف سے ایک نعمت کی صورت میں عطا ہوئے تھے ،ان کی تباہی قدرتی آزمائش جیسے زلزلے اور سیلاب کی صورت میں ہم کو جھیلنے پڑھ رہے ہیں کیونکہ ہم نے جان بوجھ کر اپنے پائوں پر کلہاڑی مار کر ان قدرتی وسائل اور ماحولیات کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کشمیر کے شہرہ آفاق جھیل ڈل اور جھیل وْلر ہماری غلطیوں ، غیر ضروری اور ناجائز تعمیرات کھڑی کرنے کی وجہ سے دن بدن سکڑ رہے ہیں اور ان غلطیوں کو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ یہ حقیقت ہے کہ 1947 سے جموں کشمیر میں بننے والی ہر حکومت نے کشمیر دشمنی پر مبنی پالیسی کے تحت یہاں کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی وہیں رہی سہی کسر ہم نے خود پوری کی ، آبی زمینوں پر تعمیرات کھڑی کرنا ، آبی ذخائر کی تباہی ، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، درختوں کا صفایا جیسی غلطیاں جن کا ہم کو اعتراف کرنا ہوگا۔ 1947 میں جو قوم ہر لحاظ سے خود کفیل تھی ،برآمدات کا تناسب چند فیصد تھا ،آج ہر چیز باہر سے درآمد کرنی پڑتی ہے اور حکومتوں میں مہاراجہ کے دور کے مقابلے میں یہ قوم ہر لحاظ بے دست و پا بنا کر رکھ دی گئی ہے،1947 سے بننے والی ہر حکومت نے یہاں کے عوام کو اپنے وسائل سے محروم کر دیا، ہمارے وسائل اپنے نہ رہے جو کچھ یہاں کے عوام کے پاس تھا اس کو بھی ان حکومتوں نے ہندوستان کو بیچ کھایا۔ میرواعظ نے مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ کی جانب سے امر ناتھ یاترا کو سال بھر جاری رکھنے کے بیان کو یکسرمسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا بیان کشمیر کے ماحولیات کو جان بوجھ کو تباہی کی طرف دھکیلنے اور یہاں فرقہ وارانہ کشید گی کو ہوا دینے کی ایک کوشش ہے۔ وزیز موصوف کے بیان کو افلاس تدبر کا واضح مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یاترا کو سال بھر چلانے کے پیچھے کشمیری دشمنی اور اجارہ دارانہ سوچ کارفرما ہے۔ ہندوستان کے مقدس مقامات پر یہ لوگ وہاں کے ماحولیات کو کثافت سے بچانے کیلئے راشنگ کا سہارا لے رہے ہیں اور کشمیر میں یاترا کے سال بھر چلنے سے یہاں کے ماحولیات اور آب ہوا کو جو شدید خطرات لاحق ہیں اس کی ان کو کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت کی طرف سے جموں کے ہندو بمقابل کشمیری مسلمان والا اپروچ حد درجہ متعصبانہ اور انتہاپسندانہ سوچ ہے اور کشمیری عوام کے لئے ہر لحاظ سے خسارے کے اس سودے میں پی ڈی پی برابر کی شریک ہے اور اس قسم کی کوششوں کا مقصد کشمیری عوام کو فوج اور طاقت کے بل پر دبانے کے سوا کچھ نہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ جو چیزیں ماحولیات سے تعلق رکھتی ہیں ان کو سیاسی رنگ دینے یا ان میں سیاست اور نیشنلزم کو گھسیٹنے سے گریز کیا جا نا چاہئے۔ اجارہ دارانہ سوچ کو کشمیری عوام کے لئے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کسی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں لیکن وہ اپنے وسائل اور ماحولیات کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ میرواعظ نے کشمیر میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے اور اس حوالے سے عوام میں بیداری لانے کیلئے سکولوں اور کالجوں کی سطح پر مہم چلانے پر بھی زور دیا ہے۔ دریں اثنا حریت چیرمین نے جموں میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں ایک سکھ نوجوان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ مذکورہ سکھ نوجوان کے اہل خانہ اور پوری سکھ برادری کے ساتھ اس واقعے پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے دعویدار طاقت کے بل پر جس بے دردی کے ساتھ عوامی جذبات اور احساسات کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ حد درجہ افسوسناک ہے۔