سرورق مضمون

سال جو رخصت ہوا/ نئی حکومت نیا تحفہ : بی جے پی پہلی بار اقتدار میں / ’’گائے ‘‘ سال کا سب سے اہم ایشو / جاتے جاتے ہند پاک مذاکرات کی بحالی

سال جو رخصت ہوا/ نئی حکومت نیا تحفہ : بی جے پی پہلی بار اقتدار میں / ’’گائے ‘‘ سال کا سب سے اہم ایشو / جاتے جاتے ہند پاک مذاکرات کی بحالی

اکیسویں صدی کا ایک اور سال ہم سے رخصت ہوگیا ۔ یہ اس صدی کا 15واں سال تھا۔ یہ سال سخت کش مکش کا سال رہا ۔ کشمیر کے لئے یہ سال کسی بھی لحاظ سے بہتر نہ رہا۔ کہیں بھی اور کسی بھی شعبے میں کوئی نئی ترقی نہ دیکھی گئی۔ ہر طرف پھر وہی تذبذب اور پریشانی دیکھی گئی ۔ پچھلے سال کے آخر میں سیلاب نے پورے کشمیر کو ہلاکے رکھ دیا تھا۔ نئے سال کے شروعات سے خیال تھا کہ نئی زندگی کی شروعات ہونگی ۔ لیکن ایسا نہ ہوا ۔ کوئی خاص راحت میسر نہ آئی۔ لوگ پورے سال سیلاب کا معاوضہ تلاش کرتے رہے۔ لیکن آج تک یہ معاوضہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس وجہ سے ہر کوئی پریشان نظر آرہا ہے۔ کسی کو کسی طرح کا سکون میسر نہیں آرہا ہے۔
سال 2015 کے پہلے مہینے میں جو اہم واقعہ پیش آیا وہ نئی حکومت کی تشکیل ہے۔ نئی حکومت بننے میں دو ڈھائی مہینے لگے۔ اس دوران ہر پارٹی کی کوشش رہی کہ اس کی حمایت سے حکومت بنے۔ پچھلے سال کے آخر پر ہوئے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو ایسی اکثریت نہ ملی کہ اپنے بل بوتے پر حکومت بنائے۔ پی ڈی پی سب سے بڑی جماعت کے روپ میں ابھر آئی ۔ دوسری بڑی جماعت بی جے پی رہی جس کو جموں سے مکمل حمایت ملی۔ این سی اور کانگریس کی مخلوط سرکار الیکشن میں ناکامی کے بعد مستعفی ہوگئی۔ نئی حکومت بنانے کے لئے پارٹیوں کے درمیان ساز باز جاری تھا لیکن جلد کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا ۔ کانگریس نے پی ڈی پی کے ساتھ اشتراک کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پی ڈی پی نے انکار کیا۔ اس کے بعد این سی نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کوشش کی۔ پہلے اس نے حکومت میں شریک بننے کی آفر کی۔ جب اس پر بات آگے نہ بڑھی تو باہر رہ کر حمایت دینے کی پیشکش کی۔ اس پر کئی دنوں تک بات چیت ہوئی۔ لیکن بیل منڈھے نہ چڑھی۔ آخر کار پی ڈی پی اور بی جے پی کی مشترکہ حکومت تشکیل پائی۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کو کشمیر حکومت میں حصہ داری مل گئی۔ دونوں جماعتوں نے مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ لیکن حکومت ایک سال تک کوئی خاص کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ مرکز کی طرف سے حکومت کو کوئی خاص امداد نہ ملی۔ سال کے آخر پر وزیراعظم نریندر مودی نے سرینگر آکر مالی پیکیج کا اعلان کیا۔ مودی نے ایک عوامی جلسے میں اعلان کیا کہ حکومت کو 80,000 کروڑ روپے کا امدادی پیکیج دیا جائے گا ۔ لیکن یہ سب کچھ مرکز کی طرف سے بنائے گئے منصوبے کے تحت خرچ کرنا ہوگا۔اس سے عوام کو کئی زیادہ راحت ملنے کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جارہاہے ۔ پچھلے سال کے دوران گائے ایک مسلسل موضوع رہا جس کو لے کر کئی ہنگامے دیکھنے کو ملے ۔ عدالت عالیہ نے ایک استاد کو گائے پر مضمون لکھنے کے لئے کہا جو وہ نہیں لکھ سکا ۔ اس کے بعد عدالت نے اس زمرے کے تمام اساتذہ کا سکریننگ ٹیسٹ کرانے کا حکم نامہ جاری کیا۔ اسی طرح سرینگر کے ایک شہری نے مسابقاتی امتحان میں داخلہ فارم بھردیا جہاں اس نے اپنی ایک پالتو گائے کے کوائف درج کئے۔ لوگ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ امتحان کا انعقاد کرنے والے ادارے نے کسی طرح کی جانچ پڑتال کے بغیر مذکورہ گائے کے نام پر رولنمبر اور سینٹر نمبر جاری کیا۔ امتحان کے روز مذکورہ شخص گائے کو لے لے کر امتحانی مرکز تک پہنچ گیا جہاں کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی وہ واپس چلا گیا۔ گائے کشی کا مسئلہ پورے ہندوستان کی طرح ریاست میں بھی ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آگیا۔ اس پر لے کر گلی کوچوں سے لے کر اسمبلی ہال تک سخت ہنگامہ ہوا ۔ اسمبلی ممبر انجینئر رشید نے گاؤ کشی کے خلاف براہ راست قدم اٹھاتے ہوئے ایم ایل اے ہوسٹل میں گائے کے گوشت پر مشتمل لنچ کا انعقاد کیا۔ اس پر بی جے پی ممبران مشتعل ہوگئے اور انہوں اسمبلی ہال کے اندر انجینئر کی سخت مار پٹائی کی اور وہ بہ مشکل بچایا جاسکا ۔
سال کے اختتام پر ہند پاک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا گیا ۔ اس سے پہلے یہ مذاکرات اس وقت منسوخ کئے گئے تھے جب پاکستانی وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے دہلی میں اپنے ہم منصب سے پہلے حریت قائدین سے میٹنگ کرنے کا اعلان کیا۔ ہندوستان نے اس میٹنگ پر اعتراض کیا اور ایسی کسی بھی میٹنگ کے لئے اجازت دینے سے انکار کیا۔ سرتاج عزیز کے دہلی پہنچنے سے پہلے ہی حریت قائدین کو گرفتار کیا گیا اور انہیں پاکستانی ہائی کمیشن تک پہنچنے نہ دیا گیا ۔ اس کے بعد سرتاج عزیز نے دہلی آنے سے انکار کیا۔ اس طرح سے ہند و پاک کے درمیان تمام سطحوں کے مذاکرات ختم ہوکر رہ گئے۔ اس حوالے سے اچانک اس وقت پیش رفت ہوگئی جب پیرس میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے دونوں ملکوں کے وزیراعظم بھی حاضر ہوئے۔ یہاں دونوں کے ملنے اور آپس میں بات چیت کا کوئی پروگرام نہ تھا تاہم دونوں کا اچانک ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوگیا۔ دونوں وزراء اعظم نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا اور ایکدوسرے کی خیروعافیت پوچھی۔ اس طرح سے برف پگھلنے لگا اور دونوں ملکوں کے درمیان معطل شدہ مذاکرات پھر سے بحال ہونے کا امکان پیدا ہوگیا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں افغانستان کے مسئلے پر ایک اہم کانفرنس ہونے والی تھی۔ اس کانفرنس میں ہندوستان کی شرکت کے لئے وزیر خارجہ کو دعوت دی گئی تھی۔ بہت کم لوگ یقین کرتے تھے کہ ہندوستان کا کوئی مندوب پاکستان جائے گا۔ لیکن ہندوستان سرکار نے اچانک اعلان کیا کہ وزیرخارجہ سشما سوراج اسلام آباد کانفرنس میں شرکت کرے گی۔ سشما سوراج نے پاکستان میں پہلے سرتاج عزیز اور پھر وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ وہاں پر ہی دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ خارجہ سیکریٹری سطح پر مذاکرات کا پہلا راونڈ دہلی میں ہوگا ۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی خاص پیش رفت سامنے نہ آئی۔ تاہم پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات بحال ہونے کا ماحول بن گیا۔ اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک پاکستان کا دورہ کیا۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ ماحول نظر آنے لگا۔ مجموعی طور سال 2015 کشمیر کے لئے مایوس کن اور مشکلات کا سال رہا ۔