اداریہ

سال جو رخصت ہوا

اب جبکہ ہم سال 2016میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس کا ہر طرف سے استقبال کیا گیا اور امید کی جارہی ہے کہ نئے سال میں خوشیاں اور کامیابیاں میسر ہوں ۔ اگر 2015 پر نظر ڈالیں تو یہ ملا جُلا سال رہا ہے۔ بیتا سال اگرچہ پُر امن بھی نہ رہا تاہم دیگر کئی محاذوں پر بھی یہ سال لوگوں کیلئے مایوس کُن سال ثابت ہواہے۔ گذرے سال میں جہاں خاص طور سے، ڈیلی ویجروں کے ساتھ ساتھ ملازمین بالخصوص اساتذہ کافی چرچے میں رہے۔ آئے روز ان کا حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے۔2015 میں بھی لوگوں کو بجلی کٹوتی ، کورپشن کے نہ تھمنے والے سلسلے ، بیروزگار ی کے سنگین بحران، بڑھتے جرائم اور کئی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا رہا۔ وادی میں گذشتہ سال آئے سیلاب کی وجہ سے بھی انتظامیہ کو بیک فٹ پر پایاگیا کیونکہ سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے میں حکام اپنے وعدوں پر پورے نہیں اترے تھے جس سے لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔ تاہم عوام کو امید ہے کہ نیا سال ان مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ یہ ریاستی عوام کیلئے دائمی امن ، ترقی ، خوشحالی ، فرقہ وارانہ بھائی چارے اور اتحاد کا سال ثابت ہوگا۔ اب جبکہ موجودہ مخلوط حکومت کا بھی ایک سال ہو رہا ہے اور حکومت بھی اب تک عوام سے کئے گئے وعدوں پر کھرے نہیں اُترے۔ موجودہ مخلوط حکومت کو ابھی بھی اقتدار کے پانچ سال باقی ہے اور حکومت کوترقیاتی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے عملی اور موثر اقدامات کرنے چاہیں نہیں تو اُنہیں آئند الیکشن کے وقت لوگوں کے پاس پھر جانا ہے اورانہیں کارکردگی کی بنیاد پرپرکھا جائے گا ۔سال 2015 کے جاتے جاتے وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ آئیے نئے سال کے موقعے پر ہم سب یہ عہد کریں کہ ریاست جموں وکشمیر کو ترقی ، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن کرنے اور اس ریاست کو کورپشن ، بیروزگاری اور جرائم سے پاک کرنے کیلئے خلوص اور لگن سے کام کریں تاکہ یہ پُر امن ، ترقی یافتہ اور ایک مثالی ریاست بن سکے ۔