مضامین

سال 2014 کی بیتی یادیں

تلخ اور شرین یادوں کے ساتھ سال2014 ہم سے رخصت ہوا اور ہم 2015 میں داخل ہوئے ۔ سال 2014کے دوران جہاں تشدد کے واقعات میں کافی کمی آئی وہیں سیاسی و عوامی سطح پر ایسی اتل پتھل رہی جس نے اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔ یہ سال اگرچہ ریاست میں قدرے پر امن رہا تاہم ٹنل کے آر پار تشدد ، جنگجویانہ کاروایؤں اور فورسز کی فائرنگ سے کئی ہلاکتیں بھی وقوع پذیر ہوئیں۔ سال2014 میں بھی ہرگذرتے برس کی طرح مقامی ،ملکی اور عالمی سطح پر جوہنگامہ خیز خونین اور دلچسپ واقعات پیش آئے ان میں نئی انتظامی اکائیوں کا قیام ،چودہ سالہ پتھری بل فرضی جھڑ پ کیس کی فائل بند، مژھل فرضی انکونٹر کیس کے سلسلے میں دو افسران سمیت سات فوجی اہلکار قصور وار، قہرانگیز سیلاب کے دوران تین سو کے قریب افراد جاں بحق اربوں کی املاک تباۃ ، اوڑی ،کٹھوعہ اور سانبہ میں فدائین حملے، میرٹھ میں کشمیری طلبہ کے خلاف بغاوت کا معاملہ درج ،اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد غیر یقینی سیاسی صورتحال ، لوک سبھاانتخابات میں وزیراعظم نریندرمودی کی تاریخی فتح ، دہلی میں عام آدمی پارٹی کی شاندار جیت کے بعد زوال ، پاکستان کے پشاور میں دہشتگرد حملے میں معصوم بچوں کا قتل عام خاص طور پر شامل ہیں۔ سال کے ابتداء کے ماہ یعنی یکم جنوری کو متواتر برف باری سے پوری وادی سفید چادر میں ڈھک گئی ۔2 جنوری کو بھارت میں لوک پال بل پر صدر ہند نے دستخط کر کے منظور کرلیا ۔3 جنوری کوکرائم برانچ نے گذشتہ برس سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی جانب سے اْس وقت کے وزیر تعلیم پیر زاد محمد سعد کے بیٹے کو دسویں جماعت کے امتحان میں پاس کرانے کیلئے مجرمانہ طور مدد کرنے کا باضابطہ طور پر کیس رجسٹر کیا یہ 2014کا پہلا کیس تھا۔24جنوری کو فوج نے 14 سال پرا نے پتھری بل فرضی تصادم کے کیس کو بند کر دیا ہے ۔
2014 کے فروری مہینے کی 2 تاریخ کو ریاستی کابینہ نے ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس میں ریاست جموں وکشمیر میں نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنے کے مقصد سے تشکیل دی گئی کابینہ سب کمیٹی رپورٹ کی سفارشات کو من وعن منظورکر لی۔جس کے تحت ریاست میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ 7 فروری کوایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا شر مناک معا ملہ سا منے آ نے کے بعد وزیر مملکت برائے صحت شبیر احمد خان کواپنی وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ 18فروری کو سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں موت کی سزا پانے والے3 افراد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔
2014 کے مارچ مہینے کی 3 تاریخ کو جنو بی قصبہ پلوامہ میں اس وقت خوف وہراس پھیل گیا جب گر یلا طرز کے ایک حملے کے دوران مسلح جنگجوؤں نے پولیس کی ایک پارٹی پر بلیک رینج سے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکا روں کو ہلاک کر دیاہے۔ اس روزادھردرنگ بل پانپور میں ایک نوجوان نے دو ایس اؤجی اہلکار وں کو ذبح کرنے کی کوشش کی اسی مہینے کی6 تاریخ کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت پر جشن منانے کی پاداش میں میرٹھ اتر پردیش کی ایک یونیورسٹی سے بے دخل کئے گئے67کشمیری طلبہ کے خلاف ملک کے ساتھ بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اوریو پی پولیس نے نامعلوم طلباء کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔ مارچ مہینے کے ہی29 تاریخ کو کٹھوعہ میں جموں پٹھان کوٹ شاہراہ پر مشتبہ جنگجوؤں نے ایک گا ڑی کو ا غواہ کر نے کے بعد ایک فوجی کیمپ پر یلغار کی جس دوران فورسز اور جنگجو ؤں کے درمیان ایک خونین تصادم آ رائی میں 3 جنگجو ایک فوجی اہلکا ر اور2 عام شہری ہلاک جبکہ دو فوجی اہلکا روں سمیت 6افراد زخمی ہوئے ہیں۔
2014 کے اپریل مہینے کی 21 تاریخ کو ترال میں نامعلوم بندوق برداروں نے ایک سرپنچ سمیت تین افراد کو ہلاک کردیا ہے اسی مہینے کے 24 تاریخ کو پارلیمانی الیکشن کے دوران شوپیان میں نامعلوم اسلحہ برداروں کے حملے میں ایک پولنگ آفیسر ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
سال 2014 کے اپریل مہینے کی30 تاریخ کوشہر سرینگر میں پولنگ کے اختتام کے بعد نواکدل علاقے میں فورسز اہلکاروں نے پتھراؤ کررہے نوجوانوں پر گولیاں چلائیں، جسکے نتیجے میں ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی جبکہ ایک خاتون شدید طور پر زخمی ہوئی۔ ۔
2014 کے مئی مہینے کی 16 تاریخ کو پارلیمانی چنا ؤں کے نتائج کا اعلان کیا گیابرصغیر کی تقسیم کے بعد پانچ دہائیوں تک مرکز میں حکومت کرنے والی کانگریس کو مودی لہر نے بدترین شکست سے دوچار کردیا ہے۔ ادھر کشمیر صوبے میں پارلیمانی چناؤ کے دوران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا صفایا کیا گیا اور پی ڈی پی کی کشمیر صوبے کے تینوں نشستوں پر جیت یقینی بن گئی جبکہ جموں صوبہ کے دو اور لداخ کے ایک نشست پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کامیابی پانے والے بن گئے۔ 25 مئی کو پونچھ میں برادر کشی کے ایک واقعہ میں ایک آفیسرسمیت تین اہلکا ر ہلاک ہو گئے 25 مئی کو ہی نریندر مودی نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف لیا۔
2014 کے ستمبر مہینے کے پہلے ہفتے میں قیامت خیز سیلاب نے ٹنل کے آ رپار سینکڑوں علاقوں کو ہلاکے رکھ دیا ہے۔مسلسل بارشوں کے باعث سینکڑوں علاقوں میں طغیانی اور مٹی کے تودے کھسکنے سے ایک لاکھ سے زائدلوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں رہائشی و غیر رہائشی تعمیرات دکان، واٹر اسکیمیں اور سینکڑوں سرکاری ونیم سرکاری ادارے سیلاب کی زدمیں آکر تبا ہ ہو گئے ۔ اس دوران سرکاری طوراس بات کااعتراف کیا گیا کہ خوفناک سیلاب کی وجہ سے،کپواڑہ ،ککرناگ راجوری ،بارہمو لہ ،بڈگام ،ریاسی ،پونچھ اور ڈوڈہ میں چارفوجی اہلکاروں اور 45 براتیوں سمیت70 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔5 ستمبر کو سیلابی صورتحال بدستور رہی جس دوران 6ستمبر کی رات سرینگر میں پانی داخل ہوا اور7 ستمبر کو لاچوک میں پانی داخل ہوا اور تین ہفتوں تک لاچوک پانی میں ڈوبتا رہا۔سیلاب کی وجہ سے تین سو کے قریب افراد جاں بحق ہو ئے اور اسطرح سرینگر میں پانی نکلتے ہی ہر سو تباہی نظر آ ئی۔
سال2014 کے اکتوبر مہینے کی24 تاریخ کو وزیراعظم نریندری مودی نے سرینگر آکر سیلاب زدہ گان سے دیوالی منالی اورنئے گھر بنانے کیلئے570کروڑ روپے مالیت کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
سال2014 کے نومبر مہینے کی13 تاریخ کو مژھل فرضی انکونٹر میں جا بحق کئے گئے تین کشمیری نوجوانوں کے قتل کے الزام میں ایک فوجی عدالت نے دو افسران سمیت سات فوجی اہلکاروں کو قصور وار قرار دیتے ہو ئے انہیں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
سال کے 11 ویں مہینے یعنی 27 نومبر کو سرمائی دارالحکومت جموں میں بھارت پاک سرحد پر ارنیہ سیکٹر کے تحت آنے والے گاؤ ں پنڈی کتھر میں جنگجوؤں نے فوج کے ایک خالی بنکر پر قبضہ کرکے فائرنگ کی۔ دو روز تک جاری رہنے والی جھڑ پ میں 12افراد ہلاک ہوگئے۔ جن میں ایک جے سی اؤ تین فوجی اہلکار5 عام شہر ی اور چار جنگجوؤں شامل ہیں۔
2014 کے آخری مہینے یعنی دسمبر میں بارہمولہ میں انتخابات سے چار روز قبل چھ جنگجوؤں پر مشتمل فدائیں گروپ نے مہوراوڑی میں فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں لیفٹنٹ کرنل اور جے سی او سمیت فوج کے8، ایک اے ایس آئی سمیت پولیس کے3اہلکاراور 6حملہ آور مارے گئے۔
سال کے آخر پر یعنی 23 دسمبر کو اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آ ئے جس میں بر سراقتدار سیاسی جماعتوں یعنی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پی ڈی پی اُبھر کر آئی، جموں صوبے میں بی جی پی کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی جبکہ نیشنل کانفرنس کو خالص پندرہ نشستیں حاصل ہوئیں اور کانگریس کو صرف بارہ سیٹیں ملی۔ البتہ سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس کے کھاتے میں ؂ بھی دو سیٹیں آئی۔ اس طرح سے پی ڈی پی نے 28 اور بی جے پی نے25 سیٹیں حاصل کر لی۔