خبریں

سال 2015 جو ہم سے رخصت

سال 2015 جو ہم سے رخصت

تلخ اور شرین یادوں کے ساتھ سال2015 ہم سے رخصت ہوا اور آ ج ہم نئے سال کے آغاز میں ہیں۔ گردش لیل ونہار سے یا ستاروں اور سیّاروں کے اپنے اپنے محور کے گرد چکر لگانے سے ماہ وسال کے بدلنے سے یا کسی گزرنے اور نئے سال کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ گزرنے والا سال ہمیں کیا دے کر جا رہا ہے اور آنے والا سال ہمارے لئے کیا لا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گزرنے والے سال میں انسانوں کی سوچ اور اپروچ میں کیا تبدیلی آئی اور آنے والے سال میں اْن کے زاویہء نگاہ میں تبدیلی کے کتنے اور کیا کیا امکانات ہیں۔ اگر گذرنے والے سال پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو احساس ہوگا کہ یہ سال بھی خوشیاں کم ،مگر غموں کی بھرمار دے کرگذر گیا جس دوران سیاسی اتھل پتھل ،تشدد ،ہند پاک مخاصمت اور اسکے بعد دوستی کے علاوہ مقامی سطح پر زندگی کے سبھی شعبوں کیلئے بڑا ہنگامہ خیز ثابت ہواجس نے اپنے گہرے نقوش چھوڑے ۔ یہ سال اگرچہ ریاست میں قدرے پر امن رہا تاہم ٹنل کے آر پار تشدد ، جنگجویانہ کاروایؤں اور فورسز کی فائرنگ سے197ہلاکتیں وقوع پذیر ہوئیں جن میں41عام شہری 102جنگجو اور 54پولیس و فورسز اہلکار شامل ہیں۔
مقامی، ملکی اور بین القوامی سطح پر سال2015کے بیتے پلوں اور تلخ و شرین یادوں پر مبنی جو دلچسپ رپورٹ تیار کی ہے اس کی تفصیل یوں ہے ۔3جنوری کو جموں کے سانبہ سیکٹر میں ہند پاک بین الاقوامی سرحد پر ہند پاک افواج کے درمیان شدید گولی باری کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار ایک خاتون ایک لڑکی جا بحق اور8 افراد زخمی ہو ئے ہیں۔ 4 جنوری کو تجر شریف سوپور میں عمر اشفاق نا می ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ 9 جنوری کو جموں و کشمیر میں حکومت سازی مسلسل تعطل کے بعدیاست کو آئینی بحران سے بچانے کیلئے صدرِ جمہوریہ پرنب مکھرجی نے ریاست میں گورنر راج کے نفاذ کو منظوری دیدی ہے جس کے ساتھ ہی ر یاست میں گورنر راج نا فذالعمل بن گیا۔10 جنوری کو راجوری میں ایک بارودی شیل پھٹ جانے سے ایک نوجوان ہلاک ہو گیا۔14 جنوری کو سال نو کی پہلی معرکہ آ رائی کے دوران شمالی قصبہ سوپور میں فورسز اور جنگجو ؤں کے درمیان ایک خونین جھڑپ میں لشکر طیبہ کا ایک غیر مقامی جنگجو مارا گیا ہے۔ جھڑ پ ختم ہوتے، احتجاجی مظا ہرے اور سنگ باری کے واقعات پیش آئے۔
15جنوری کو پہاڑی ضلع شوپیان میں ایک خون ریز جھڑ پ کے دوران غیر مقامی جیش محمدکے ڈویژنل کمانڈر سمیت5 عسکریت جابحق ہو گئے۔ سوپور میں ایک خون ریز جھڑ پ کے دوران دو جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔28 جنوری کو ترال میں حزب المجاہدین کے ایک ضلع کمانڈر کی گھر آمد اس وقت گھروالوں سے اس کا آ خری ملاقات بن گئی جب اسکی اطلاع ملتے ہی فورسز نے اسے دوسرے ساتھی سمیت ا سکے ہی گھرمیں جابحق کیا۔ جھڑپ کے دوران کرنل سمیت فوج کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔اسی ماہ مملکت سعودی عرب کے شاہ اور سابق خادم الحرمین الشریفین عبداللہ بن عبدالعزیز کا انتقال ہوا اورہندوستان میں بھی سوگ کا اعلان کیا گیا جبکہ جامع مسجد میں غائبانہ نمازِ جنازہ اداکیا گیا انہیں ریاض میں غیر نشان زدہ اور غیر پختہ قبر میں دفن کیا گیا۔
10فروری کو راجدھانی نئی دہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر کے اپنی سرکار بنائی فروری کے مہینے میں وادی میں سوائن فلو نامی بیماری سے کئی لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ 21فروری کو رفیع آ باد بارہمولہ میں جھڑپ کے دوران دو جنگجو جاں بحق ہو ئے ہیں۔25 فروری کو شوپیان میں جھڑ پ کے دوران دو مقامی جنگجو ہلاک جبکہ ایک میجر سمیت چار اہلکار زخمی ہو ئے ہیں۔ اسی روز ہی نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر شیخ نذیراحمد اس دنیا سے انتقال کرگئے ان کی نماز جناز مولاناطیب کاملی نے پڑھایا۔
یکم مارچ کو ریاست میں پی ڈی پی بی جے پی مخلوط سرکار بھی بنی اور مفتی محمد سعید کو پانچ سال کیلئے وزیر علیٰ بنایا گیا۔چار مارچ کو جہاں اکثر وزراء نے اپنا کا م کا ج سنبھا ل لیا وہیں پیپلز کا نفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون اپنی وزارت سے ناخوش ہو کر سکریٹریٹ جانے کے بجا ئے حیرت انگیز طور پر سرینگر لوٹ آئے تھے ۔مارچ12کو مفتی محمد سعید کی سربراہی والی ریاستی حکومت نے ایک اہم پیش رفت کے تحت قومی پرچم کے ساتھ ریاستی پرچم لہرانے کے احکامات جاری کئے۔
20 مارچ کوکٹھوعہ کے راج باغ پولیس تھانہ پر فدائین حملہ میں سی آر پی ایف کے 2اور پولیس کاایک اہلکاراور2 جنگجو6گھنٹے تصادم آرائی کے دوران مارے گئے جبکہ ایک عام شہری بھی ہلا ک ہو گیا تھا ،اس دوران پولیس کے ایک ڈی ایس پی دواکرسنگھ سمیت9اہلکار زخمی ہو گئے تھے ۔
21 مارچ کوکٹھوعہ فدائین حملے کے ایک روز بعدخود کار ہتھیاروں سے لیس دو جنگجو ؤں نے سانبہ میں ایک فوجی کیمپ پر حملہ کر دیا طرفین کے مابین6گھنٹوں کی خون ریز تصادم آ رائی کے دوران دو جنگجو ہلاک جبکہ اور ایک میجر سمیت فوج کے دو اہلکار اور ایک ہندو یاتری زخمی ہوا ہے۔ 30مارچ کولیڈن نیلہ ناگ چرارشریف میں پہاڑی کھسکنے اور زمین ڈھ جانے کے نتیجے میں زمین بوس ہوئے 3رہائشی مکانات میں موجودخواتین اور بچوں سمیت16افراد کے لقمہ اجل بن گے تھے۔مارچ کے ہی مہینے میں حریت(گ) کے سینئر لیڈر اور مسلم لیگ کے صدرمسرت عالم بٹ کو ساڑھے چار سال کی اسیری کے بعد رہا کیا گیا گیا تھا اور پھر اپریل میں انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔مسرت عالم بٹ کی رہائی پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے زبردست ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی۔ چار مارچ کو ہی بوپی نے گائے کے نام سے رول نمبر سلیپ جاری کی تھی۔اپریل کے مہینے میں گیلانی کے جلسہ حیدر پورہ میں پاکستانی پرچم بھی لہرائے گے اور پھر کئی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا اسی دوران حریت لیڈر مسرت عالم کو بھی گرفتار کیا گیا اس دورن پنڈتوں کیلئے کشمیر میں الگ کالونیاں بنانے کے معاملے پر بھی کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ماہ اپریل شروع ہونے کے ساتھ ہی کشمیر میں پچھلے 7روز سے شدید بارشوں کی وجہ سے شمال و جنوب میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے ہزاروں کنال اراضی پر پھیلی فصلیں ،میوہ جات اور سبزیوں کو زبردست نقصان پہنچا ۔ سیلابی صورت حال سے کئی ایک مقامات پر درجنوں رہاشی مکانات دھنس گئے ہیں اور کئی چھوٹے بڑے پل ڈہ گئے ہیں۔ 2 اپریل کوہر د شیو کنزر ٹنگمر گ میں ایک خون ریز معرکہ آ رائی کے دوران جنگجوایک فوجی اہلکار اورایک پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے کے بعد فوجی محاصرہ توڑ کر فرار ہو گئے جبکہ جھڑپ میں ایک اور فوجی ا ہلکار اور ایک عام شہری زخمی ہواہے۔4 اپریل کو راجوری میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک ایک خوفناک اور لرزہ خیز دھماکے کے نتیجے میں تین مزدور ہلاک اور ایک زخمی ہو ا۔6 اپریل کو پہاڑی ضلع شوپیان اپنی نو عیت کی پہلی عسکری کا روائیوں کے دوران مسلح جنگجوؤں نے ایک سومو میں سوار تین پولیس اہلکا روں کو گا ڑی سے نیچے اتار کر انہیں گولیوں سے بھونڈ ڈالا ہے جس کے نتیجے میں تینوں موقعہ پر ہلاک ہو گئے ۔اسی روز پٹن میں نامعلوم جنگجو ؤں نے ایک سابق ایس اؤ جی انسپکٹر کوگولی مار کر شدید زخمی کردیا گیا جبکہ ترال میں اسلحہ برداروں نے ایک سابق جنگجو گولی مار کر زخمی کردیا ۔13 اپریل کو بوچھو ترال میں فو ج کی فائرنگ سے عسکریت پسند کا بھا ئی مارا گیا، لاش برآمد ہونے کے خلاف مکمل ہڑتال اور شدید غم وغصہ کی لہر کے بیچ پر تشدد احتجاجی مظا ہروں کے دوران پولیس اور مظا ہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت دو درجن کے قریب مظا ہرین ز خمی ہو ئے ہیں۔
18 اپریل کو ہڑتالی کا ل کے ناربل بڈ گام میں اس وقت تشد د بھڑ ک اٹھا جب فورسز کی راست فائرنگ سے ایک16 سالہ طالب علم جابحق اور تین زخمی ہو گئے ۔11اپریل کے مہینے میں عدالت عالیہ نے رہبر تعلیم سکیم کے تحت محکمہ میں بطور استاد بھرتی ہوئے ایسے تمام افراد کی ملازمت سکرینگ ٹیسٹ میں پاس ہونے سے مشروط کرنے کا فیصلہ صادر کیا تھا جن کی تعلیمی ڈگریاں کسی غیر معروف ادارے یا یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ہوں۔
مئی کو ادھمپور جمو ں میں سڑ ک کے ایک المناک حا دثے کے دوران مسافروں سے کھچا کھچ بھری ایک مسافر بس تین سوفٹ گہر ی کھا ئی میں جاگری جس کے نتیجے میں53 افراد جابحق ہو ئے ہیں۔ اسی روز سنگم اننت ناگ میں مسلح جنگجوؤں نے اپنی موجود گی کا بھرپور ا حسا س دلاتے ہو ئے سی آر پی ایف کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک سی آ ر پی ایف آ فیسر سمیت دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ۔ اس دوران حملہ آور ایک اہلکار کااسلحہ چھین کرپلک جھپکتے ہی جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔24اپریل کو تابندہ غنی عصمت ریزی و قتل کیس کے معاملے پر سیشن کورٹ کپوارہ نے ایک تحریکی فیصلہ لیتے ہوئے 4 ملوثین کو سزائے موت سنا دی۔نیپال میں 25اپریل کو آئے تباہ کن زلزلے میں دس ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گے تھے اور ہر سو تباہی مچ گئی تھی۔ 25 مئی کو شمالی قصبہ سوپور میں نامعلوم پستول برداروں نے بی ایس این ایل کے شو روم میں داخل ہو کرفائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو بچوں کاباپ ہلاک اور تین دیگر افرد زخمی ہو گئے ۔ اسی روز ٹنگڈار اور کولگام میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑ پ کے دوران لشکر طیبہ کا ایک مقامی جنگجو اورچار فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ۔
26 مئی کو ڈورو سوپورمیں نامعلوم اسلحہ برداروں نے ایک موصیلاتی کمپنی کے ٹاور مالک غلام حسن ڈار کو گوکی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اسی مہینے میں عدالت عالیہ نے رہبر تعلیم سکیم کے تحت محکمہ میں بطور استاد بھرتی ہوئے ایسے تمام افراد کی ملازمت سکرینگ ٹیسٹ میں پاس ہونے سے مشروط کرنے کا فیصلہ صادر کیا تھا جن کی تعلیمی ڈگریاں کسی غیر معروف ادارے یا یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ہوں۔مئی میں ہی لشکر اسلام نامی تنظیم نے بی ایس این ایل اور دیگر موبائل ٹاوروں کو نشانہ بنانے کی کاروائی شروع کی تھی۔
3 جون کو کپواڑہ سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کے دوران چا ر جنگجو جا ں بحق ہوگئے جبکہ کپواڑہ کی توتمار گلی میں دراندزای کی ایک کوشش کے دوران تین جنگجو مارے گئے۔4جون کو جموں کے ستواری علاقہ میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا کے پوسٹر ہٹائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے مشتعل ہجوم پر پولیس فائرنگ سے ایک سکھ نوجوان کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی تھی 9 جون کو سوپور میں نامعلوم اسلحہ برداروں نے محکمہ صحت کے ایک ملازم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔12جون کو سوپور کے مضافاتی علاقہ بمئی میں مقامی ٹریڈرس فیڈریشن کے جوان سال صدر کو نامعلوم اسلحہ برداروں نے گولیاں مار کر جاں بحق کردیا۔14جون کو معراج الدین ڈار ولد محمد احسن پر نامعلوم بندوق برداروں نے گولیاں چلاکر قتل کیا۔ 15 جون نامعلوم افراد نے سوپور میں اعجاز احمد ریشی نامی نوجوان کو ہلاک کیا۔ 16 جون کو بجبہاڑہ میں جنگجوؤں نے ایک پولیس اہلکار کو گوکی مار کر ہلاک کر دیا۔20 جون کو ہائیگام سوپور میں ایک پراسرار دھماکے میں ایک پاکستانی قیدی اور ایک پو لیس اہلکا ر ہلاک ہوا جبکہ اسی روز ٹنگڈار سیکٹر میں ایک جنگجو ہلاک ہوگیا۔22 جون کوکولگام میں جھڑ پ کے دوران ایک عام شہری اور دو جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔
یکم جولائی کو نامعلوم اسلحہ برداروں نے واگہام پلوامہ سے تعلق رکھنے والے43 سالہ محمد یوسف بٹ پر گولی چلا کر ہلاک کر دیا۔4جولائی کواوڑی سیکٹرمیں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جھڑپ میں دوعسکریت پسند او رایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیاہے۔6 جولائی کو ہندواڑہ کے نوگام اور سانبہ سیکٹر میں دو بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہو گئے۔8 جولائی کی شام شوپیان حملہ میں زخمی ہونے والے فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 9 جولائی کو اوڑی سیکٹر میں ایک بی ایس ایف اہلکار ہلاک ہو گیاہے۔12 جولائی کو کیرن سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کے دوران تین جنگجو مارے گئے۔14 جولائی کو کو لگام میں ایک ریٹائیرڈ پولیس آ فیسر کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
24 جولا ئی کو ٹنگڈار سیکٹر میں تین جنگجو اور ایک فو جی اہلکار ہلاک ہو گئے۔25 جولائی کو اننت ناگ میں ایک گرنیڈ دھماکہ میں ایک شہر ی ہلاک اور پانچ زخمی ہو ئے۔4 اگست جنوبی کشمیر کے ترال قصبے کے قریب فوج کے دو گروپوں نے ایک دوسرے کو شدت پسند سمجھ کر گولیاں چلانی شروع کر دیں جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک ہوئے۔
6اگست کو ادھمپور میں گذ شتہ ایک دہا ئی سے اپنی نوعیت کی پہلی عسکری کا روائی کے دوران مسلح جنگجوؤں نے بی ایس ایف کی ایک کا نوائی پر ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر پہلے فائرنگ کی اور بعد میں گرینیڈ میں داغے۔ تصا دم آ رائی کے دوران 2بی ایس ایف اہلکار اور ایک جنگجو ہلاک جبکہ11 بی ایس ایف ا ہلکار زخمی ہو ئے ہیں۔ اس دوران یرغمال شدہ تین شہریوں کو زندہ چْھڑا لیا گیا اور ایک جنگجو کو زندہ گرفتار کر لیا جس کا نام محمد بن قاسم ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں تختہ دار پر چڑ ھا ئے گئے اجمل عامر قصاب کے بعدمبینہ طور زند ہ پکڑ نے والا دوسرا پاکستانی ہے اسی روز گا ندربل میں المناک حادثے کے دوران ایک شل پھٹنے سے ود کمسن بھائی جابحق ہوگئے جبکہ ا یک اور لڑ کا صورہ میں موت وحیا ت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
9 اگست کوسرحدی ضلع کپوارہ کے کرناہ سیکٹر میں دو روز سے جاری جھڑپ میں ایک مقامی فوجی اہلکار ہلاک ہوا اسی شام کا کہ پورہ پلوامہ میں طالب شاہ نامی جنگجو جا ں بحق ہوگیا۔11 اگست کوپلوامہ میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان رات بھر جا ری رہنے والی خونریز معرکہ آرائی لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈراور اسکے ساتھی کی ہلاکت کے بعد احتجا جی مظا ہروں کے دوران بی ایس ایف کی فائرنگ سے بلال احمد بٹ نامی عام شہر ی جا بحق ہو گیا ہے۔14اگست سے جموں میں لائن آ ف کنٹرول اور حد متا رکہ پر پا کستان کی مبینہ شیلنگ سے6 عام شہر ی ہلا ک ہو گئے ہیں۔23 اگست کو ہندواڑہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔25 اگست کو سرحدی ضلع کپواڑہ کے نوگام سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر ہندوپاک افواج کے مابین شدید فائرنگ کے نتیجے میں ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر ہلاک ہوا ہے۔ اسی شام اونتی پورہ میں لیکچرار کو گولی مار ہلاک کر دیا گیا۔26اگست کو کا نگریس کے نائب صدر راہل گا ند ھی ریاست کے تین روزہ دورے پر جموں پہنچ گئے۔28 اگست کو رفیع آ باد بارہمولہ کے گھنے جنگلات میں4جنگجو مارے گئے جس دوران ایک پاکستانی جنگجو کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا۔28 اگست کوجموں کے آ رایس پورہ اور ارینہ سیکٹر وں میں ہند وپاک افواج کے درمیان دوران شب جنگ کا سماں پیدا ہو ا جس دوران آ ر پار کے 10 افراد جابحق اور ایک بی ایس ایف اہلکار22 خواتین اور2 بچوں سمیت65 افراد زخمی ہو ئے ہیں جبکہ متعدد رہا شی مکانوں کو نقصان پہنچا اور درجنوں مویشی بھی از جان ہوئے۔
2 ستمبر کولڈورہ رفیع آ باد اور ہندواڑہ میں فو ج اور جنگجوؤں کے درمیان ایک خونین جھڑ پ میں دو فوجی اہلکار اور6جنگجو مارے گئے جبکہ چار اہلکار زخمی ہو ئے ہیں۔ ان میں سے مارا گیا جنگجو حزب کے باغی گروپ لشکر اسلام کے سربراہ قیوم نجار کا قریبی ساتھی تھا۔ فورسز کا روائی کے نتیجے میں ایک رہاشی مکان تباہ ہو گیا ۔11 ستمبر کو لرہ بل اننت ناگ میں دو جنگجو اور دوفوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ 12 ستمبرکوہی کو پلوامہ میں ایک جنگجو جابحق ہو گیا۔13 ستمبر کو پونچھ میں ایک بی ایس ایف اہلکار مارا گیا۔14 ستمبر کوشمالی قصبہ پٹن میں اس وقت تشدد بھڑ ک اٹھا جب قصبہ سے 5کلومیٹر کی دوری پر ایک میوہ باغ سے گولیوں سے چھلنی تین نوجوانوں کی لاشیں برآ مد ہوئیں جن کی شناخت محمد عامر ریشی ساکن ہردہ شیو سوپور اور پیشے سے ولیل عا شق حسین وانی ساکن لولی پورہ پٹن اور ننوید ساکنسوپور کے بطور ہو ئی ہے۔
18 ستمبرکوشمالی کشمیر میں کنٹرول لائن کے نزدیک گریز سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کے 5 عدم شناخت جنگجو جاں بحق ہوئے، 19ستمبر کو اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب بند وق برداروں کے ہاتھوں مارے گئے باپ کی ہلاکت کے بعد شدید زخمی ہونے والے تین سالہ بیٹے نے اسپتال میں دم توڑ نے خبر پھیل گئی اور ایک ہی گھر سے12 گھنٹوں کے اندرباپ بیٹے کے جنازے اٹھانے سے لوگ دم بخود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ اسی روز ٹنگمر گ کے ایک اور جنگجو کی لاش برآمد ہو ئی ہے۔21ستمبر کوگریز سیکٹر میں گذ شتہ چار روز سے جاری آ پریشن کے دوران ایک اور جنگجو کو ہلاک کیا گیا اور اس آ پریشن کے دوران جیش محمد کے 6 عدم شناخت جنگجوؤں جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
22ستمبر کو اونتی پورہ پلوامہ میں ایک جھڑ پ کے دوران ایک لوڈ کیر ئیر ڈرائیور ہلاک ہوگیاہے۔ستمبر کے مہینے میں اس سال سعودی عرب میں رمی جمارکے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے717حجاج کرام شہیداور 863سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اسی ماہ میں بڑے گوشت پر پابندی لگائے جانے کے احکامات بھی عدالت نے صادر کئے تھے جس کے بعد پورے ملک میں سرکار کے خلاف احتجاج اور دھرنے دئے گے تھے۔اس دوران ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشیدکو اسمبلی میں بی جے پی لیڈرا ن کی طرف سے مار بھی کھانی پڑی تھی۔
3اکتوبر کو علامہ اقبال کے فرزندجسٹس جاوید اقبال لاہور میں فوت ہو ئے اکتوبر میں ہی ریاستی اسمبلی میں ریاستی اسمبلی کے اسپیکر کوپندر گپتا نے آر ایس ایس ممبر ہونے پر فحر محسوس کیا۔اسی ماہ نیشنل کانفرس کے چار ممبران کو اسمبلی میں ہنگامہ کرنے کی پاداشت میں معطل کیا گیا تھا۔8اکتوبر کو بانڈی پورہ میں ایک گریلا طرز حملے کے دوران آٹوموبائیل میں سوار جنگجوؤں نے راجباغ پولیس تھانہ کی ایک خصوصی ٹیم ((SITپر اند ھا دھند فا ئرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس سب انسپکٹر زخمی ہو نے کے بعدسرینگرمیں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔11 اکتو بر کو ہندواڑہ میں جھڑ پ کے دوران ایک جنگجو مارا گیا۔14اکتوبر کو کر شنا گھاٹی سیکٹر میں دراندزی کی ایک کوشش کے دوران ایک جنگجو اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ 15 اکتو بر کوڈوڈہ میں ان دو سابق ایس پی اؤز کو ہلاک کیا گیا جو کئی ماہ قبل اسلحہ لیکر فرار ہو گئے تھے۔18 اکتوبر کو ادھمپور حملہ میں زخمی ہو نے والے زاہد رسول نے دہلی کے اسپتال میں دم توڑ دیا۔21 اکتوبر کو ٹنگمر گ میں ایک مقامی جنگجو مارا گیا۔29 اکتوبرکوکولگام میں فورسز کی ساتھ ایک معرکہ آ رائی کے دوران لشکر طیبہ کے مطلوب ترین ڈویژنل کمانڈر ابو قاسم کو جابحق کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسی روز بانڈی پورہ میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا۔
7 نومبر کو سی آ ر پی ایف کی کاروائی کے دوارن ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔اسی روز وزیر اعظم نرندر مودی نے سرینگر میں جلسہ سے خطاب کے دوران ریاست کو80ہزار کروڑ روپے کا پیکیج دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی انہوں نے چندر کوٹ میں بغلیہاردوم کا افتتاح اور ادھمپور بانہال فور لین شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا۔ 17نومبرکو سرحدی ضلع کپوارہ میں جاری خون ریز جھڑ پ کے دوران ایک فوجی کرنل ہلاک اور ایک ایس اؤ جی اہلکار سمیت دو شدید زخمی ہوئے ہیں۔23 نومبر کومنی گاہ ہایہامہ کپوارہ اور عشمقام اسلام آباد میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان مسلح تصادم آرائیوں میں 4جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔25نومبر کوسرحدی ضلع کپواڑہ میں لائن آ ف کنٹرول کے نزدیک ایک آ رمی کیمپ میں تین جنگجوؤں پر مشتمل ایک فدائین دستے نے اچانک حملہ بول دیاجس کے بعد شروع ہوئی خونین تصادم آرائی قریب7 گھنٹے تک جاری رہی۔ جھڑپ میں تین جنگجو جاں اور ایک شہری جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ فوج کا ایک آفیسر زخمی ہوگیا۔ جھڑ پ کے دوران فوج کی کئی بار کیں اور گا ڑیاں جل کر خاکستر ہوئیں۔
3دسمبر کووزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے ریاست میں نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کی عمل آوری سے متعلق ریاستی کابینہ اجلاس میں لئے گئے فیصلے کا اعلان کیا ۔ 4دسمبر سپریم کورٹ کے سینئر جج تیرتھ سنگھ ٹھاکر نے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ راشٹر پتی بھون کے دربار ہال میں منعقد ایک تقریب میں صدرہند پرنب مکھرجی نے جسٹس ٹھاکر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف دلایا۔جسٹس ٹھاکر نے جسٹس ایچ ایل دتو کی جگہ لی۔4 دسمبر کو پونچھ اور ہندواڑہ میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان دوخونین جھڑپوں میں5جنگجو اور ایک فوجی اہلکار ہلاک زخمی ہواہے۔23 دسمبر کو ادھمپور میں تین کمسن بچے ایک دھماکے کی زد میں آ کر ہلاک ہوگئے۔24 دسمبر کی شام اجس بانڈی پورہ میں امیس احمد شیخ ولد فاروق احمد شیخ ساکن چھتہ پورہ پلوامہ نامی جنگجو مار گیا۔ اسی ماہ کالاکوٹ راجوری میں متنازعہ دیہی دفاعی کمیٹی کے ایک رکن کے ہاتھوں نیشنل کانفرنس یوتھ لیڈر کے قتل کے چار روز بعد اسی ضلع کے بدھل علاقہ میں اسی بے لگام فورس کے ایک اور اہلکار قتل کی ایک لرزہ خیر واردات میں ایک جواں سال خاتون کو اْس کے چارسالہ بیٹے سمیت گولیاں مار کرموت کی ابدی نیند سلادیاجس کے بعد عوامی سطح پر سخت احتجاج درج ہو۔سال کے آخر ی مہینے کی پہلی تاریخ کو ہی کشمیری عوام کو ایک مثبت خبر ملی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات خوشگوارہونے لگے ہیں۔ سال کے آ خر روز یعنی 31دسمبر کو پلوامہ میں دو جنگجو جاں بحق ہو گئے۔