مضامین

سال 2015 کے آخری روز ’ آئینہ مدارس جموں وکشمیر‘ کی رسم رونمائی

سال 2015 کے آخری روز ’ آئینہ مدارس جموں وکشمیر‘ کی رسم رونمائی

سال 2015 کے جاتے جاتے یعنی 31 دسمبر کو اخلاص ویلفیئر سوسائٹی ترال کے اہتمام سے ٹائیگور ہال سرینگر میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی کی تازہ تصنیف ’’ آئینہ مدارس جموں وکشمیر‘‘ کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔ تقریب کی صدارت معروف معالج ڈاکٹر غلام قادر علاقہ بند نے کی۔ جبکہ معروف کالم نوس زیڈ جی محمد نے کتاب پر تبصرہ کیا۔ ڈاکٹر جوہر قدوسی نے حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی کا لکھا ہوا اظہار تشکر پڑھ کر سنایا، اس کے علاوہ پروفیسر محمد اشرف نے مصنف اور کتاب کے بارے میں آگہی دی ۔ تقریب پر مفتی نذیر احمد قاسمی نے مدرسوں کے اہمیت کو اُجاگر کیا، اس موقعے پر کتاب کے مصنف ڈاکٹر نثار احمد بٹ نے اپنے خطاب میں بتایا

کب، کیوں اور کیسے ؟
11ستمبر 2001ء کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر (World Trade Centre) پر حملہ کیا گیا۔اس کے بعد مدارس کی شبیہ کو ایک مخصوص رنگ میں پیش کرنے کی مہم چلائی گئی تاکہ مسلمانوں کو اسلامی تشخص اور ان کی تہذیب سے دورکیاجائے اور اسپین کی طرح انہیں دینی تعلیم سے محروم کرکے انکی آئندہ کی نسلوں کو اسلام پر باقی نہ رہنے دیا جائے ۔اس سلسلے میں آئے دن ان مدارس اسلامیہ کے تعلق سے طرح طرح کے منفی شگوفے ہوا میں چھوڑے گئے اور مدارس اور اہل مدارس کے تئیں مسلمانوں خاص طور پر محسنین مدارس کو گمراہ اور بدگما ن کیا جانے لگا۔ کبھی مدارس کے وجود کو زمانہ کے ساتھ نہ چلنے والے فرسودہ نظام سے تعبیر کیا گیا۔کبھی علماء و اہل مدارس پر بے ہُنر طلبہ کی کھیپ کو دھرتی کا بوجھ بنانے کا الزام لگایا گیا۔ لیکن جب معاندین اسلام اور ان کے غلط پروپگنڈوں کے شکار کچھ مسلمان بھائیوں نے دیکھ لیا کہ مدارس سے متعلق علماء اور طلباء کی شکل میں یہ دیوانے اپنے ہدف سے پیچھے ہٹنے والے نہیں تو مدارس اور اس کی انتظامیہ پر سوالات کھڑے کئے جانے لگے اور چند برسوں سے اس میں کافی تیزی آگئی ہے۔ مدارس مخالف قوتوں نے اب مدارس چلانے والوں اور علماء پر بداخلاقی اور مالی بددیانتی کے الزامات لگانے کو بہترین ہتھیار تصور کرلیا۔
جب احقر نے ترال کی چودہ سو سالہ تاریخ “آئینہ ترال ” ساڑھے تین سال میں ایک ہزارمیل پیدل سفر کرکے اپنے مرشد حضرت مولانا کلیم صدیقی مدظلہ العالیٰ کی سرپرستی میں 2009ء میں مکمل کی اور اوّل جنوری 2010 ؁ء کو وہ کتاب منظر عام پر آئی تو احقر کا حوصلہ بڑھا ۔چناچہ حضرت کی خواہش تھی کہ جموں و کشمیر کے مدارس پر بھی کام کیا جائے اور احقر نے مدارس پر لکھی بہت سی کتابوں کا جائزہ لیا ۔
آسانی کے لئے مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم دندی پورہ میں موجود ریکارڈ کی بنیاد پر ایک نمونہ بنایا گیا۔
اس sample copy(نمونہ) کو مولانا کلیم صدیقی مدظلہ العالیٰ نے منظور کرکے فرمایا کہ تمام مکتبہ فکرکے مدارس کی ڈائریکٹری اسی نمونہ کے مطابق بنائی جائے ۔ 16فروری 2011 ؁ء کو احقر نے سرینگر سے سفر شروع کرکے اپریل 2011 ؁ء کے اختتام تک پورے جموں و کشمیر کا پہلا سفر کیا اور حضرت کی ایماء پر دوسرا سفر اپریل 2013 ؁ء میں شروع کیا ۔اس سفر میں حضرت نے فرمایا کہ انٹرویو کی صورت میں ہرادارے سے معلومات اکٹھے کی جائیں۔اس سفر میں معاون تحقیق یوسف الاعظم ساتھ رہے۔ احقر نے یہ سفر جموں سے شروع کیا اور جموں خطے میں ہر ادارے تک پہنچنے کی کوشش کی ۔اس کے بعد مئی میں کشمیر کا سفر کیا ۔ اس سفر میں احقر کو تین تین بیلٹ لگانے پڑے کیونکہ احقر Multiple discsکا شکار ہے اور لمبا سفر طبی نقطہ نگاہ سے منع ہے ۔اس بار حضرت کی دعاؤں سے کافی کامیابی ملی ،البتہ سفر کے آخری دنوں میں سوپور میں ناصاف پانی پینے سے یرقان کی بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ دو مہینوں کا سفر مکمل ہوا ۔صرف چند ایک ادارے رہ گئے جہاں احقر ذاتی طور جا نہ سکا ۔اس سفر میں فجر کی نماز کے بعد کام شروع کرکے رات ساڑھے گیارہ بجے تک جاری رہتا تھا ۔تقریباً دو مہینوں کی راتیں انہی مدارس میں گذارنی پڑیں ۔مجموعی طور پر سارے جموں و کشمیر کا 22ہزار کلومیٹر کا سفر کیا۔
جموں و کشمیر میں مدارس کی شروعات
کشمیر میں 1339 ؁ء سے 1586 ؁ء تک 247سال پر محیط شاہمیری اور چک سلاطین کی حکومت کا دور رہا ہے ۔اس عہد میں تعلیم عام تھی ۔سلاطین اور امراء نئے مدارس کھولنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جاتے تھے ۔ ان مدرسوں کا نظام اور نصاب تعلیم ہندوستان ، ترکستان اور ایران کے مدرسوں کا سا تھا ۔عام طور پر پانچ سال کی عمر میں بچہ کو مدرسہ میں بٹھایا جاتا جہاں وہ عربی حروف تہجی سے روشناس ہوکر قرآن پڑھنا سیکھتا۔ اس کے بعد اس کو علوم متداولہ مثلاً علم الکلام ،علم التوحید ،تفسیر ،حدیث ، فقہ کا مطالعہ کرنا پڑتا ،طبعی علوم بھی پڑھائے جاتے اور تیر اندازی ، شمشیر زنی اور گھوڑ سواری بھی سکھائی جاتی۔ اداروں کے صدر سر بر آوردہ علماء ہوتے اور ہندوستان ، ہرات، ترکستان سے طلبہ آکر ان سے فیض حاصل کرتے ۔
شہاب الدین کشمیر کے سلاطین میں پہلا سلطان تھا جس نے وادی کے مختلف حصوں میں مدارس قائم کئے ۔
قطب الدین نے تخت نشین ہونے پر اپنی نئی راجدھانی قطب الدین پور میں ایک کالج قائم کیا ۔یہ کالج سکھوں کے عہدِ حکومت تک قائم رہا ،لیکن سرکاری سرپرستی کی کمی کی وجہ سے اس کو بند کرنا پڑا ۔قطب الدین کے عہد میں ایک اور مدرسہ تھا جس کا نام عروۃ الو ثقی تھا ۔قطب الدین کے لڑکے اور جانشین سکندر نے بہت سے اسکول کھولے اور اپنی تعمیر کردہ جامع مسجد کے ساتھ ایک کالج اور دارالاقامہ کی بنیاد رکھی تھی۔
وادی میں توسیع تعلیم کے لئے جس سلطان نے سب سے زیادہ کام کیا وہ زین العابدین تھا ۔
اس نے نوشہر میں اپنے محل کے پاس ایک اسکول کھولا۔یہ ادارہ سترہویں صدی کے نصف تک قائم رہا ۔ اس کے علاوہ سلطان نے زین گیر میں ایک کالج اور اسلام آباد کے قریب دچھن پور میں ایک بڑا مدرسہ قائم کیا تھا ۔زین العابدین کو تعلیم سے اتنی دلچسپی تھی کہ وادی کے باہر بھی تعلیمی اداروں کو مالی امدادفراہم کرتا تھا ۔ سیالکوٹ کے مدرسۃ العلوم کو اس نے 6لاکھ روپے اور اس کی ملکہ نے اپنا بیش قیمت گلوبند دیا تھا ۔مدرسوں کے علاوہ سلطان نے تکنیکی اسکول بھی کھولے جہاں عوام کو کاغذ سازی ،جلد بندی اور دوسرے فنون جن کی داغ بیل سلطان نے ملک میں ڈالی تھی ، سکھائے جاتے ۔سلطان حسن شاہ نے ڈل جھیل کے کنارے پکھری بل میں مدرسہ دارالشفاء قائم کیا تھا ۔
زین العابدین نے ایک دارالترجمہ بھی قائم کیا تھا جس میں فارسی کی کتابیں سنسکرت میں اور سنسکرت کی کتابیں فارسی میں ترجمہ ہوتی تھیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں کوئی دارالترجمہ قائم نہ تھا اور کشمیر کا دارالترجمہ اکبر اعظم کے دارالترجمہ سے صدیوں پہلے قائم ہوچکا تھا ۔ کشمیر کے سلاطین نے رقم کثیر صرف کرکے باہر سے کتابیں منگو اکر اپنے دارالحکومت میں ایک شاندار لائیبریری قائم کی تھی ۔
سلطان کے عہد میں شری در نے جامی کی تصنیف “یوسف ذلیخا “کا سنسکرت میں ترجمہ کرنا شروع کیا تھا جو 1505 ؁ء میں مکمل ہوا
،سنسکرت میں اس کو” کتھا کوتک” کہتے ہیں ۔ سلطان کے حکم سے ملا احمد نے”مہابھارت ” اور کلہن کی تصنیف “راج ترنگنی”کا فارسی میں ترجمہ کیا ۔
زین العابدین نے اپنے آدمیوں کو ہندوستان، عراق اور ترکستان قلمی نسخوں کی خریداری کے لئے بھیجا ۔اگر قلمی نسخوں کے مالک ان کو فروخت کرنے پر راضی نہ ہوتے تو اس کی ہدایت تھی کہ ان کی نقل لے لی جائے اور نقل کرنے والوں کو کافی معاوضہ دیا جاتا ۔سنسکرت کے قلمی نسخے بھی کا فی تعداد میں خریدے گئے اور وہ تمام نسخے جو سکندر کے عہد میں ہندوستان بھیج دیے گئے تھے ، زین العابدین کی کوشش سے واپس لائے گئے۔اکثر علمی امور میں سلطان زین العابدین کو اکبر اعظم سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
سلطان سکندر کے عہد میں مزدور اور باورچی تک شعراء اور مصنفین بن گئے ۔عورتوں نے حصول تعلیم میں نام پیدا کردیا۔تاریخ ، طب، نباتات ، کیمیاء اور کوئی بھی علم ایسا نہ تھا جو اس وقت مدارس میں پڑھایا نہ جاتا ۔
خاندان شاہ میر کی طرح چک حکمران بھی تعلیم کے بہت بڑے سرپرست تھے ۔چناچہ حسین شاہ نے حسن شاہ کے قائم کردہ مدرسۂ دارالشفاء ،میں کافی ترمیم و اضافہ کیا۔ حسین آنگن میں مدرسہ حسین شاہ قائم کرکے سلطان حسین شاہ چک نے زین پور کی جاگیر اس مدرسہ کے لئے وقف کردی ۔ اس کو اب خانقاہ نقشبندی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یہ خواجہ بازار سرینگر میں واقع ہے۔ اس کالج کو پہلے خانقاہ کبروی کے نزدیک کوہ ماران کے دامن میں قائم کیا گیا تھا ۔یہی وہ کالج ہے جس میں حضرت شیخ حمزہ مخدومی ؒ نے تعلیم حاصل کی تھی ۔
اس مختصر جائزے کے بعد یہ رائے دینے میں ہم حق بجانب ہوں گے کہ سلاطین کشمیر نے علم و ادب کی ترقی کے لئے قابل قدر خدمات انجام دیں ۔یہ وہ وقت تھا جب یورپین قومیں خون ریزی اور دہشت گردی میں مشغول تھیں اور کشمیر علم و ادب کا گہوارہ بن چکا تھا ۔
آئیے آئینہ مدارس کے کچھ اہم پہلوؤں کے متعلق آپ حضرات کو کچھ جانکاری فراہم کرؤں ۔آئینہ مدارس A4سائیز کے 1520صفحات اور دو جلدوں پر محیط ہے جس میں پہلے جلد میں 748اور دوسرے میں 752صفحات ہیں ۔
جلد اول میں عہد نبوی کے مدارس ،اسلام کی تاریخ میں مدارس کا آغاز ، ہندوستان میں مدارس کا آغاز ، جموں و کشمیر میں مدارس کی شروعات ، خاندان شاہمیر اور چک دور کے مدارس اور دیگر مضامین کے علاوہ صوبہ جموں کے اضلاع :ادھمپور، پونچھ ، جموں ، ڈوڈہ، راجوری ،رام بن ، ریاسی ، سانبہ ،کٹھوعہ اور کشتواڑ کے مدارس ، لداخ کے مدارس ، مقدس شخصیات جیسے حضرت علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کا خاندان ، مولانا یوسف شاہ کشمیری ؒ ، میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہؒ ، مولانا سید میرک شاہ کشمیری ؒ ، اور دیگر مقتدر علمائے کشمیر اور عربی علوم و ادب کے فروغ میں شیخ یعقوب صرفی ؒ ، شیخ حبیب اللہ حبی نوشہری ؒ ، عبدالرشید شوپیانی ؒ ، اور علامہ انور شاہ کشمیری ؒ کا حصہ شامل ہے۔اس کے علاوہ مشہور داعی اسلام حضرت مولانا محمد کلیم صدیقی مدظلہ عالی کی دعوت دین کے متعلق مخصوص مضامین شامل ہیں ۔
دوسرے جلد میں صوبہ کشمیر کے دینی مدارس جن میں کشمیر یونیورسٹی سے رجسٹرڈ مدارس مثلاً مدینۃ العلوم درگاہ ، اسلامیہ اورینٹل کالج راجوری کدل ، حنفیہ عربی کالج نور باغ ، اورینٹل کالج باغ دلاور سرینگر ،جامعہ البنات لعل بازار اور مدرسہ تعلیم الاسلام ترال کے علاوہ تمام ضلعوں یعنٰی اننت ناگ ، بارہمولہ ، بڈگام ، بانڈی پورہ، پلوامہ ، سرینگر ، شوپیان ، کپواڑہ ، کولگام ، اور گاندربل میں موجود دینی مدارس کا تفصیل سے ذکر ہے ۔
کل 499مدارس میں سے 49نے تعاون نہیں کیا ۔اس لئے اس کتاب میں 450دینی مدارس کا تفصیل سے ذکر ہے جس میں نام مدرسہ، محل وقوع ، پس منظر ، طلباء کی تعداد (ابتدا اور رواں سال) ،ملازمین کی تعداد (ابتداء اور رواں سال) ،مشاہرہ ماہانہ (ابتداء اور رواں سال) ،نصاب تعلیم ،نظام تعلیم (تعلیمی سال ، تعلیمی زبان ، امتحانات، داخلہ کا موسم ، سالانہ اجتماع ، دیگر پروگرام) ، انتظامی حیثیت ، زمین کا رقبہ و تعمیرات ، ذریعہ آمدنی ،سالانہ خرچہ (قیام و طعام مع مشاہرہ) ،ادارے کی حیثیت، شعبہ نشر و اشاعت کی کارکردگی ،ادارے کے کل فیض یافتہ گان کی تعداد ،فارغ شدہ حفاظ اور علماء کی تعداد ، ادارہ کی زیر نگرانی مکاتب اور شاخیں، رجسٹریشن ، کتب خانہ، کمپیوٹر لیب ،عصری اسکول ، اعزازات ، شعبہ جات ، علاقائی ترتیب پر ادارے کے فارغ شدہ حفاظ و علماء کی تعداد ، اہم و قدآورعلمی و دینی شخصیات کی تشریف آوری ، اہم سرکاری و سیاسی عہدیداران کی مدرسہ میں آمد اور دیگر امور شامل ہیں۔
450 مدارس میں صوبہ جموں کے 186اور صوبہ کشمیر کے 264 ہیں جن میں رابطہ مدارس کے 340، کشمیر یونیورسٹی سے رجسٹرڈ6، دیگر مکاتب فکر کے 76،ندوۃ العلماء کے 6، جمعیت اہلحدیث کے 10اور جماعت اسلامی کے 12مدارس شامل ہیں۔ان مدارس کے 369موسسین کی مکمل و مدلل سوانح حیات بھی شامل ہے جن میں رابطہ مدارس کے 278اور دیگر مکاتب فکر کے 91ہیں۔کشمیر یونیورسٹی سے رجسٹرڈ مدارس کے بغیر ان دینی اداروں میں مجموئی طور پر 24,665اقامتی طلباء زیر تعلیم ہیں جن کے لئے 4646اساتذہ اور 1126دیگر عملہ مامور ہیں۔ان اداروں سے مجموئی طو ر قریباً 1,35000افراد فیض یاب ہوئے ہیں ۔19ہزار حفاظ کرام کے علاہ 2500علماء و مفتیان بھی فارغ ہوئے ہیں ۔ان اداروں کے تحت 14,788مکاتب چل رہے ہیں ۔ان مدارس کی علماء کی طرف سے 210تصانیف منظر عام پر آئی ہیں۔جن میں 188مصنفین کا تعلق رابطہ مدارس سے ہے۔ ان مدارس کی لائیبریریوں میں3,90,000کتابیں موجود ہیں ۔94مدارس میں عصری سکول بھی قائم ہیں جن میں سے 64کا تعلق رابطہ مدارس سے ہے ۔ 108اداروں میں کمپیوٹر سہولیات بھی دستیاب ہیں ۔دو اداروں میں CCTVکیمریلگے ہیں ۔
طرح طرح کی رکاوٹوں اور منفی پروپگنڈوں کے باوجود احقر نے دیکھا کہ جموں و کشمیر میں یہ مدارس اسلامیہ پوری قوت و جوش عمل کے ساتھ دین حق کی تعلیم و اسلام کی اشاعت میں مصروف ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ چند دہائیوں سے ان مدارس نے علمی و باطنی سطح پر بھی ترقی کی ہے اور ظاہری طور پر بھی انہیں وقار و ترقی حاصل ہوئی ہے ۔اس لئے اسلام و مدارس مخالف قوتوں کا بے چین ہوجانا فطری ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کبھی کبھی کلمہ گو بھائی بھی ایسی طاقتوں کا آلہ کار بن جاتے ہیں اور ان ہی کی زبان بولنے لگتے ہیں ۔جب کہ غورکرنے والی بات یہ ہے کہ کشمیر کے اس وقت کے پولیس انسپکٹر جنرل(موجودہ ڈائیریکٹر جنرل) “کے راجندرا” کی یہ بات مسلم اخباروں میں نقل کی گئی کہ پولیس کوآج تک کوئی بھی ایسا ملی ٹنٹ نہیں ملا جس نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی ہو۔ چوں کہ مدارس نے واضح طور پر ریاست میں خود کو ملی ٹینسی سے الگ رکھا ہے ،وہ خود کو مذہبی تعلیم و تدریس پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں ،اس لئے ہمیں ان کے چلائے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہی مدارس ہیں جن کی وجہ سے اسلام اور اسلامی تعلیم زندہ ہے اور اسلامی تشخص باقی ہے ۔علماء اور اہل مدارس کو ایسے حالات سے گھبرانا چاہئے نہ کسی طرح کی مایوسی کا شکار ہونا چاہئے کیونکہ جس قرآن کریم کی تعلیم میں وہ مصروف ہیں اس کے بقاء کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے۔ ان سالوں میں کئی مزید ادارے قائم ہوئے ہونگے جن کو اس ریسرچ میں شامل نہیں کیا جاسکا اور نہ ان اداروں کو جن کے متعلق احقر کو کوئی انفارمیشن نہیں تھی۔بعض ادارے وہ بھی ہیں جنہوں نے تعاون نہیں کیا ۔جموں و کشمیر میں انہی دینی مدارس کا نتیجہ ہے کہ علم دین کا سلسلہ نسل در نسل جاری ہے جو کسی قوم کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ علم دین کا تسلسل یا استمرار براہ راست یا بالواسطہ طورپر اگر مدارس نہیں کریں گے تو مسلمانوں کی بعد کی نسلوں میں تعلیم دین کا تسلسل ٹوٹ جانے کا خطرہ ہے۔ اس کی ایک مثال جموں و کشمیر میں سلاطین کشمیر (شاہمیری دور اور چک دور) کے بعد کا منظر ہے جبکہ ان اداروں کی سرکاری سرپرستی ختم ہوئی اور سکھ ، ڈوگرہ دور سے یہ ادارے زوال کا شکار ہوئے
اسی طرح اسپین میں سیاسی اقتدار کے خاتمہ (1492ء) کے بعد مسلمان ہزاروں کی تعداد میں باقی رہے ۔جو حادثہ پیش آیا وہ یہ نہیں تھا کہ اسپین سے مسلمانوں کا وجود مٹ گیا ،جو بات ہوئی تھی وہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلوں میں تعلیم دین کا تسلسل (استمرار ) ٹوٹ گیا جیسا کہ معلوم ہے مسلم اسپین میں علم کو بہت زیادہ فروغ ہوا مگر یہ سارا کام وہاں حکومت وقت کی سرپرستی میں ہورہا تھا ۔تعلیم و تدریس اور اشاعت دین کا سارا کام حکومت کرتی تھی ۔یہ کام اتنا زیادہ بڑھا کہ کہا جاتا ہے کہ اس زمانہ میں اسپین کے مسلمان تقریباً سو فی صد تعلیم یافتہ ہوگئے تھے ۔حکومت کے خاتمہ کے بعد جب تعلیمی سرپرستی ختم ہوئی تو اس کے ساتھ تعلیم کا سارا نظام بھی ختم ہوا ،اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ بعد کی مسلم نسلوں میں علم دین کا تسلسل ٹوٹ گیا ۔نسل در نسل یہ انقطاعی حالت قائم رہی ۔یہاں تک کہ لوگ اپنی دینی شناخت کھوبیٹھے ۔اسپین کے مقامی معاشرہ میں وہ اس طرح ضم ہوگئے کہ انہیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ ان کے آباو اجداد پہلے کبھی مسلمان تھے۔
انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا تو یہاں کی مسلم نسلوں کے لئے بھی اسی قسم کا خطرہ پیدا ہوگیا۔بالغ نظر اور صاحب فراست علماء نے حکومت کے تعاون کے بغیر عام مسلمانوں کی مدد سے تعلیم دین کا نظام چلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان اسپین جیسے حالات سے مکمل طور بچ گیا اور آئندہ بھی بچنے کی صورت یہی ہے کہ ان مدارس کو کبھی بھی سرکار کی تحویل میں نہیں دیا جائے ۔ شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے بھی فرمایاہے:
“ان مکتبوں اور مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو ،غریب مدرسوں کے بچوں کو انہی مدرسوں میں پڑھنے دو
اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا ؟ اب جو کچھ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ،اگر ہندوستان کے مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈر اور الحمراء اور باب الاخوتین کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے اثر کا کوئی نقش نہیں ملتا ،ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا ۔”
نامساعد بلکہ معاندانہ صورتحال کے باوجود جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے یہ روایتی مدارس جس خوش اسلوبی سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہے ہیں وہ قابل تحسین ہے اور خوش آئند بھی ۔ اس کتاب میں ہر مکتبہ فکر کے اداروں کو زمانی اعتبار کے لحاظ سے درج کیا گیا ہے ۔
احقر کی آج تک لکھی گئی تمام تصانیف (35عدد) صدقہ جاریہ ہیں اور ان کی آمدنی اخلاص ویلفیئر سوسائٹی ترال کشمیر کو جاتی ہے جو کہ قرآنک ایجوکیشن ،دعوت اور خدمت خلق کا ادارہ ہے اور 1991 ؁ء سے احسن طور کام کررہا ہے ۔
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ملت کے لئے نفع بخش سرمایہ ،اہل علم کے لئے ایک عمدہ رجع اور علمی ذخیرہ بنائے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ احقر کی خطاؤں کو درگزر کرتے ہوئے اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور کتاب کو قبولیت عطا فرمائے ۔ (اپنا خیال رکھئے گا)
آپ کا
ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی