خبریں

سال 2020ایک دردناک سال ثابت

سال 2020ایک دردناک سال ثابت

دنیا بھر کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر کےلئے بھی سال 2020ایک دردناک سال ثابت ہوا جس میں جموں کشمیر میںمتعددتبدیلیاں رونماءہوئیں اور سینکڑوں انسانی جانیں بھی تلف ہوئیں۔ سال 2020 اپنی خوشیوں، شادمانیوں، مسرتوں سے زیادہ تلخیوں، دکھ و درد، رنج و غم کیلئے یاد کیا جاتا رہے گا۔ اسی سال دنیا بھر میں پھیلی کورونا وائرس کی وبا اور اس وبا پر قابو پانے کیلئے نافذ کئے گئے لاک ڈاون اور طرح طرح کی پابندیوں نے پوری انسانیت کو مصیبت زدہ، خوف زدہ کردیا ہے۔ سال 2020 نے مانو پشیمانی، پریشانی، حیرانی کی ایک نئی داستان تحریر کی ہے۔سال 2020میں جموں کشمیر میں 203جنگجو جاں بحق ہوئے جبکہ اس مدت میں 43عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں ۔ جبکہ جموں کشمیر میں کووڈ 19کی وجہ سے 1800سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ اس دوران ہندوپاک افواج کے مابین 5ہزار سے زائد بار آر پار گولہ باری کے واقعات پیش آئے ۔
سال 2020 نے مانو پشیمانی، پریشانی، حیرانی کی ایک نئی داستان تحریر کی ہے۔ ویسے تو ہرجاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ لیکن سال۲۰۲۰ میں جس پیمانے پر جانیں ضائع ہوئی ہیں اس سے درد و کرب، دکھ و درد میں اضافہ ہوتا ہوا دکھائی دیا ہے۔دنیا بھر کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی کووڈ19نے تباہی مچادی اور کووڈ 19کی وبائی بیماری سے1885افراد ازجان ہوئے ہیں ۔ اسی طرح جموںکشمیر میںہندوپاک کے مابین لگنے والی سرحدوں پر بھی گزشتہ 17برسوں میںسب سے زیادہ گولہ باری کے واقعات درج ہوئے ہیں ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 2020 گزشتہ 17سالوں میں سب سے زیادہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں ۔ یکم جنوری 2020سے دسمبر 28تک قریب 51,00مرتبہ ہندوپاک افواج کے مابین گولہ باری ہوئی جس میں 36انسانی جانیں تلف ہوئیں اور اس مدت میں 130افراد زخمی ہوئے جن میں سے متعد زخمی زندگی بھر کے لئے اپاہج بن گئے۔ سال 2020میںتشدد آمیز واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا جس دوران جموں کشمیر میں سال 2020میں مجموعی طور پر 203عسکریت پسند فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں مارے گئے جبکہ ان میں 166مقامی جنگجو بھی شامل ہیں اس مدت میں 43عام شہری بھی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین ہوئی جھڑپوں میں مارے گئے اور 92افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یکم جنوری 2020سے دسمبر 28تک 49عسکریت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ 9جنگجوؤں نے فوج کے آگے ہتھیار ڈالے ہیں۔سال 2020میں سیاسی طور پر بھی جموں کشمیر کےلئے خصوصی رہا جس میں پہلی بار ڈی ڈی سی انتخابات منعقد کئے گئے جس میں قریب گزشتہ 30برسوں بعدلوگوںکی کافی تعداد نے گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالے سال 2020میں مین سٹریم لیڈران کی رہائی بھی عمل میں لائی گئی ۔