سرورق مضمون

سال 2021-22 کا میزانیہ پیش کیا گیا/ کسان آندولن پر ایوان میں ہنگامہ آرائی

سال 2021-22 کا میزانیہ پیش کیا گیا/ کسان آندولن پر ایوان میں ہنگامہ آرائی

سرینگر ٹوڈےڈیسک
پیر کو وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے نئے سال کا بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کئے ۔ بجٹ ایک ایسی صورتحال کے اندر سامنے لایا گیا جبکہ کووڈ 19 کی وجہ سے ملک کی مالی حالت بہت حد تک کمزور بتائی جاتی ہے ۔ ایک سال کے لاک ڈاون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس نے جہاں غریب طبقے کو حد سے زیادہ متاثر کیا وہاں ملکی معیشت پر بے حد منفی اثرات مرتب کئے ۔ مالی ماہرین کا خیال ہے کہ اس وجہ سے آگے جاکر معیشت میں سدھار آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس طرح کی پیچیدہ مالی حالت کے بیچ سرکار نے نئے سال کا بجٹ سامنے لایا ۔ تمام لوگوں کی نظریں بجٹ تقریر پر لگی تھیں اور لوگ یہ دیکھنے کے لئے بے تاب تھے کہ وزیرخزانہ کس طرح سے معیشت کو بحال کرنے کے اقدامات تجویز کرے گی ۔ اقتدار سے جڑے سیاسی حلقوں نے بجٹ کو آنئدہ کے لئے امید افزا قرار دیا ۔ اس کے بجائے اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بجٹ سے تمام لوگ مایوس ہوگئے ہیں ۔ کانگریس نے بجٹ کو چند لوگوں کے لئے فائدہ مند بجٹ کہا ۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے بجٹ کو عوام دشمن قراردیا ۔ دفاعی بجٹ میں کوئی کمی بیشی نہیں کی گئی ۔ تاہم ریلوے کے لئے بجٹ میں بہت اضافہ کیا گیا۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ کرونا وائرس کی پاداش میں نافذ لاک ڈاون کی وجہ سے ریلوے شعبہ خسارے سے دوچار ہے ۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے یہ رقم مشخص کی گئی ۔ اسی طرح تعلیم اور دوسرے شعبوں کے لئے بجٹ میں مبینہ طور رقوم مشخص کی گئیں ۔ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ بجٹ سے عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ غریب طبقے کی مالی حالت پہلے سے زیادہ پتلی ہوگی ۔ کانگریس کی طرف سے بجٹ پر سابقہ مرکزی وزیر خزانہ پی چدامبرم کی طرف سے تفصیلی تبصرہ کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بجٹ کے اندر کارپوریٹ طبقے کے لئے مراعات رکھی گئی ہیں ۔ اس کے بجائے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی قوت خرید میں بہت کمی آجائے گی۔ اس طرح سے بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہاہے ۔ حکومت نے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد یہ پہلا بہترین بجٹ ہے ۔انکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ۔ اسی طرح یہ بھی الزام لگایا گیا کہ بجٹ میں اقلیتوں کے لئے کوئی راحت نہیں ہے ۔ یہ بات بار بار کہی گئی کہ بجٹ امیرطبقوں کے لئے مخصوص ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ امیروں کی طرف دی گئی ہے ۔ بجٹ میں کئی شعبوں کی نجکاری کی بات کہی گئی ہے ۔ حکومت مخالف حلقوں نے نجکاری کے اس عمل کو ملک بھیجنے سے تعبیر کیا ہے ۔ کئی اداروں اور سرکاری کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں دینے کی راہ ہموار کرنے کے حوالے سے تنقید کی جارہی ہے ۔ اسی طرح کئی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنے میں مدد ملے گی ۔ لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کا بہت نقصان ہوگا ۔ بجٹ تنقید کی زد میں ہے ۔ تاہم حکومت مخالف آوازوں کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے۔ ادھر راجیہ سبھا میں کسان اندولن پر بحث کے دوران ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی ۔

کسان ایجی ٹیشن اور یوم جمہوریہ پر کسانوں کی طرف سے دہلی کے لال قلع میں کی گئی کاروائی پر بحث جمعرات سویرے شروع کی گئی ۔ اپوزیشن کے جن رہنمائوں نے بحث میں حصہ لیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسان قوانین کو واپس لیا جائے ۔ بحث شروع ہونے سے پہلے عام آدمی پارٹی کے تین ممبران ایوان کے ویل میں آگئے اور نعرہ بازی شروع کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کسان قوانین جلد از جلد منسوخ کئے جائیں۔ اسپیکر کی طرف سے انہیں بار بار خاموش رہنے کے لئے کہا گیا ۔ لیکن انہوں نے ایک نہ مانی۔ انہیں دن بھر کے لئے ایوان کی کاروائی سے معطل کیا گیا۔ اس کے بعد ایوان میں کسان اندولن پر بحث شروع کی گئی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کئی لیڈروں نے حکومت کی اس بات پر شدید مخالفت کی کہ کسانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا ہے ۔ کانگریس کے غلام نبی آزاد نے کسانوں کی طرف سے لال قلع پر الگ جھنڈا بلند کرنے کی مزمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے ۔ تاہم انہوں نے کسانوں پر کئے گئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغنے پر حکومت کی کڑی نکتہ چینی کی۔ اسی ڈگ وجے سنگھ نے وزیراعظم کی تنقید کرتے ہوئے انہیں کسان دشمن قرار دیا۔ اس دوران کسان لیڈروں نے دھمکی دی ہے کہ زرعی قوانین واپس نہ لئے گئے تو وہ چالیس لاکھ لوگوں کو لے کر دہلی میں جلوس نکالیں گے ۔ زرعی قوانین کے حوالے سے کسان کسی بھی طرح کی نرمی دکھانے کے لئے تیار نہیں۔ اس وجہ سے مسئلہ دن بہ دن الجھتا جارہاہے ۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے بدھ وار کو چند کابینہ ساتھیوں کے ساتھ اس مسئلے پر مشورہ کیا ۔ تاہم ابھی تک معاملہ صاف نہیں ہورہاہے ۔ ھکومت قوانین کو واپس لینے سے انکار کررہی ہے ۔ ادھر کسان اس وقت تک ایجی ٹیشن ختم کرنے کے لئے آمادہ نظر نہیں آتے جب تک قوانین واپس نہ لئے جائیں ۔ یہ مسئلہ آگے جاکر کونسا رخ اختیار کرے گا تاحال بات واضح نہیں ہے ۔ پوری اپوزیشن کسانوں کے حق میں بیانات دے رہی ہے ۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسان سخت گیر موقف اختیار کررہے ہیں ۔ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ ڈیڑھ سال کے لئے ان قوانین کو معطل کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم کسان ایسی کوئی تجویز ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ زرعی قوانین کو جلد از جلد منسوخ کیا جائے ۔ حکومت ان قوانین کو منسوخ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ابھی تک دونوں فریقوں میں بات چیت کے کئی دور ہچکے ہیں ۔ لیکن کوئی بھی فریق نرمی لانے پر آمادہ نہیں ۔ اس وجہ سے حالات میں کوئی فرق آنے کی ابھی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے گی۔پارلیمنٹ میں اس مدعے پر ہوئے بحث سے اندازہ ہورہاہے کہ ہر کوئی اس پر ناخوش ہے کہ اس بل پر بحث ہونے اور سیلکٹ کمیٹی میں غور کرنے کے باوجود جس طرح سے پاس کیا گیا وہ صحیح طریقہ نہیں۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے بیشتر ممبران نے کسان قوانین میں ترمیم کی ضرورت سے انکار نہیں کیا ۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ممبران اور خاص کر کسانوں سے مشورہ کے بغیر اس قانون کو جس طرح سے عملایا گیا وہ غلط طریقہ ہے ۔ حکومت کو پہلی بار اس طرح کی مزاحمت کا سامنا ہے ۔ دیکھنا ہے کہ وہ اپنی عزت بچانے کے لئے کسانوں کو جھکاتی ہے یا خود نرم پڑتی ہے ۔