سرورق مضمون

سال2020 کورونالاک ڈائون کا یادگارسال / امریکہ میں ٹرمپ کی شکست اور عرب اسرائیل دوستی اہم پیش رفت/ جموںکشمیر میں گپکار الائنس اور ڈی ڈی سی انتخابات یاد گار واقعات

سال2020    کورونالاک ڈائون کا یادگارسال / امریکہ میں ٹرمپ کی شکست اور عرب اسرائیل دوستی اہم پیش رفت/  جموںکشمیر میں گپکار الائنس اور ڈی ڈی سی انتخابات یاد گار واقعات

سرینگر ٹوڈےڈیسک
سال 2020 اس وجہ سے ذہنوں پر مسلط رہے گا کہ اس کا ہر دن ایک خطرناک دن ثابت ہوا ۔ اس سال نے جتنی جانیں لیں وہ ہمیشہ یاد رہیں گی ۔ دسمبر 2019 میں اطلاع ملی کہ چین میں ایک وائرس نمودار ہوا ہے جو بہت ہی خطرناک ہے ۔ پہلے پہل کہا گیا کہ ووہان شہر سے پیدا ہونے والے اس وائرس نے خطرناک رخ اختیار کیا ہے اور اب تک کئی لوگوں کو ہلاک کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی چین نے ان شہروں کو بند کیا جہاں اس وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع تھی ۔ اس دوران دوسرے ملکوں کے لوگ اس وجہ سے پریشان ہوئے کہ ان کے عزیز واقارب وہاں کام کررہے تھے ۔ ان کو اپنے گھر بلانے کی کوششیں شروع ہوئیں ۔ چین سے جب لوگوں نے نکلنا شروع کیا تو ان کے ساتھ یہ وائرس پوری دنیا میں پھیل گیا ۔ اس وجہ سے کئی ملکوں میں بڑی تعداد میں لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے اور موت کا شکار ہونے لگے ۔ سال 2020 آگے بڑھتا گیا تو موت کا سایہ بھی پھیلتا گیا ۔ یہاں تک کہ اس وائرس نے ہر شہر ، ہر محلے اور ہرگھر تک اپنا خوف پھیلایا ۔ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے ، گلے ملنے اور چھونے تک کو جان لیوا قرار دیا گیا ۔ کچھ دن اس طرح سے گزرے ۔ لیکن جب مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو کئی ملکوں نے لاک ڈاون کا اعلان کیا ۔ تمام سربراہوں ، وزرا اور دوسرے بڑے لوگوں کے دورے منسوخ کئے گئے اور زندگی کی تمام سرگرمیاں ایک دم معطل کردی گئیں ۔ اس طرح سے دنیا بھر میں چلنا پھرنا ممنوع قرار دیا گیا ۔ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا گیا ۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروس کے بغیر سب کچھ ٹھپ کردیا گیا ۔ تعلیمی ادارے بند کئے گئے۔ تجارتی سرگرمیاں معطل کردی گئیں ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے Pandemic کا اعلان کیا ۔ خطرناک وائرس کو Novel Corona Virus کا نام دیا گیا اور اس سے پھیلنے والی وبائی بیماری Covid 19 کہلائی گئی ۔ اس طرح سے دنیا میں سخت تشویش پیدا ہوگئی اور ہر طرف خوف وہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ۔ سال 2020کو کرونا کا سال کہلانا غلط نہ ہوگا ۔ وبائی صورتحال کی وجہ سے دنیا میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آیا جس کو یاد گار قرار دیا جائے۔ کورونا کے خوف کو لوگ ساری عمر یاد کریں گے ۔ اب تک کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 8 کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں ۔ متاثر ہونے والوں میں 1 کروڑ 80 لاکھ موت کا شکار ہوئے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وائرس کتنا خطرناک ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ ایک سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود اب تک اس وائرس کو قابو میں نہیں کیا جاسکا ۔ اس وائرس نے فٹ پاتھ کے مزدور سے لے کر امریکہ کے صدر تک ہر سطح کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان یہ وائرس امریکہ کے سابقہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے پہنچا ۔ ٹرمپ ہندوستان ایک اہم دورے پر آئے اور ان کے استقبال کے لئے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ جمع کئے گئے ۔ حکومتی وزرا اور اہلکاروں نے امریکی وفد سے ہاتھ ملائے اور وائرس ان میں منتقل ہوگیا ۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اب امریکہ کے سربراہ نہیں رہے ۔ نومبر میں امریکہ میں جو صدارتی انتخابات ہوئے ان میں ٹرمپ کو شکست ہوئی اور جو بائڈن ان انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔ اس طرح سے بائڈن امریکہ کے 46 ویں صدر منتخب ہوئے ۔ پہلے پہل ٹرمپ نے صدارت چھوڑنے سے انکار کیا تھا اور کورٹ جانے کا اعلان کیا ۔ آہستہ آہستہ انہوں نے شکست تسلیم کی اور وائٹ ہائوس چھوڑنے پر راضی ہوئے ۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ امریکہ میں کسی صدر نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کیا تھا ۔ ادھر ہندوستان میں بہار کی ریاست میں انتخابات ہوئے جن میں بی جے پی کی اتحادی پارٹیوں کو کامیابی ملی اور نتیش کمار ساتویں بار بہار کے وزیراعلیٰ بن گئے ۔ اس سے پہلے مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے جہاں بی جے پی حکومت بنانے میں ناکام رہی ۔ جموں کشمیر میں ہوئے ڈی ڈی سی انتخابات میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ۔ یہ جموں کشمیر میں دفعہ370 کے بعد پہلے بڑے انتخابات تھے ۔
جموں کشمیر میں سال 2019 میں اس وقت حالات پر قابو رکھنے کے لئے لاک ڈاون نافذ کیا گیا جب مرکزی سرکار نے دفعہ 370 منسوخ کرکے خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کیا ۔ اس طرح سے یہ سلسلہ سال 2020 میں جاری رہا ۔ تاہم سیاسی حالات میں اس وقت تبدیلی آنے لگی جب سرکار نے مین اسٹریم جماعتوں کے لیڈروں کی نظر بندی ختم کرنے کا اشارہ دیا ۔ پہلے کچھ دوسرے درجے کے لیڈر رہا کئے گئے ۔ تاہم مارچ میں پہلے این سی سربراہ فاروق عبداللہ کو رہا کیا گیا ۔ اس کے بعد ان کے بیٹے عمر عبداللہ کی رہائی عمل میں لائی گئی ۔ اس دوران کشمیر میں کرونا وائرس کا پھیلائو شروع ہوگیا تھا ۔ اس وجہ سے فاروق اور عمر کوئی سیاسی سرگرمی انجام نہیں دے سکے ۔ ان کی رہائش گاہ پر کچھ لوگ آنا شروع ہوئے جنہیں وہاں جمع ہونے سے منع کیا گیا ۔ تاہم حالات بدلنے لگے ۔ اس دوران پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو اکتوبر میں 14 مہینوں کی مسلسل نظر بندی کے بعد رہا کیا گیا ۔ اس کے بعد قریب قریب سارے مین سٹریم لیڈر وں کی نظربندی ختم کی گئی ۔ اس طرح سے سیاسی سرگرمیاں شروع ہونے لگیں ۔ پہلے الطاف بخاری کی قیادت میں بنائی گئی اپنی پارٹی نے سیاسی سرگرمیاں شروع کیں ۔ اس کے بعد بی جے پی کو چھوڑ کر باقی ساری میں اسٹریم پارٹیوں کے لیڈر فاروق عبداللہ کی گپکار رہائش گاہ پر جمع ہوگئے ۔ انہوں نے متحد ہوکر ایک اعلانیہ پر دستخط کئے جس میں 5اگست2019 کو مرکزی سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے اقدام کو غیرقانونی قرار دیا گیا اور جموں کشمیر کی اس سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے کی جدوجہد کا اعلان کیا گیا ۔ بعد میں ایک اور میٹنگ میں اس اتحاد کو پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن کا نام دیا گیا ۔ اس اتحاد نے جموں کشمیر میں ہوئے پہلی بار کے ڈی ڈی سی انتخابات میں حصہ لیا اور 110 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی نے کشمیر میں تین سیٹیں لے کر کل 75 سیٹوں پر جیت درج کی ۔ بی جے پی کی کشمیر میں پہلی بار کامیابی ایک بڑی سیاسی پیش رفت مانی جاتی ہے ۔ اس طرح سے سال 2020 کے کرونا خوف کے باوجود جموں کشمیر میں ہوئے ان انتخابات کو مستقبل کے لئے بڑا اہم سمجھا جاتا ہے ۔ کشمیر میں اس سال دوسرے کئی واقعات پیش آئے۔لیفٹنٹ گورنر کی تبدیلی ، ملی ٹنٹوں اور سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت ، لائن آف کنٹرول پر گولہ باری اور موسم میں بدلائو ۔ تاہم یہ روزمرہ کا معمول ہے ۔ تاہم سیاسی رہنمائوں کی رہائی اورڈی ڈی سی انتخابات کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے ۔