اداریہ

سبق جو ’’عاپ ‘‘ سے مل گیا!

10فروری کو دلی اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے کیا آئے کہ ساری قومی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ مقامی سیاسی جماعتیں سکتے میں پڑ گئیں کیونکہ عام آدمی پارٹی نے جو میدان مار لیا وہ دوسری سیاسی پارٹیوں کیلئے کسی دھچکا سے کم ہرگز نہیں ہے۔ ملک کی راجدھانی دلی میں اگر چہ اروندکیجریوال نے عوامی مفاد کے کئی وعدے کئے ہیں جس کی بناء پر اُنہیں 70 سیٹوں میں سے 67 نشستوں پر جیت درج ہوئی ہیں۔ دلی کے عوام نے’عاپ‘ پر اعتماد کیا ہے اور اس وجہ سے دوسری سیاسی جماعتوں کو مسترد کر کے عام آدمی پارٹی کو شاندار کامیابی دلائی۔ اب گیند عام آدمی پارٹی کے پالے میں۔ کیا عام آدمی پارٹی کے کنونیئر اروند کیجریوال دلی کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کر سکے گا دیکھنا باقی ہے؟۔ دلی میں کئی دہائیوں سے کانگریس حکومت کی باگ دوڑ سنبھاتی آئی تھی مگر پچھلے اسمبلی انتخابات میں ارون کیجریوال نے کولیشن حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تاہم کیجریوال کو کولیشن کے ساتھ حکومت کرنا راس نہ آیا جس وجہ سے انہوں نے 49روز کے بعد ہی دلی میں حکومت کو خیربادکیا۔ اس کے بعد سبھی حلقے حالانکہ سیاسی پارٹیاں یہ سوچ رہے تھے کہ کیجریوال نے جو فیصلہ کیا ہے وہ صریحاً غلط تھا۔ مگر دلی کے عوام کو کیجریوال کا فیصلہ پسند اور اب ایک بار پھر ’عاپ‘ پر بھروسہ کر کے بغیر اپوزیشن ایوان میں پہنچایا۔ اس طرح سے سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس کے ساتھ ساتھ بی جے پی کو جو سبق مل گیا وہ یاد رکھنے کے لائق ہے۔ ادھر ریاست میں بھی پی ڈی پی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنا رہی ہے۔ پی ڈی پی نے بھی الیکشن میں بی جے پی مخالف نعرے لگائے اور مودی لہر کو روکنے کی زبردست کوششیں کیں مگر عین وقت پر پی ڈی پی نے مفادات اور مرعات حاصل کرنے کے لئے اسی بی جے پی کے ساتھ ملاپ کر کے حکومت کرنے کا من بنا لیا مگر عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ اب اگر اس بار پی ڈی پی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی مگر آئندہ پارٹی کو عوام کے سامنے پھر جانا ہے اور ممکن ہے کہ ریاست کے عوام بھی دلی والوں کی طرح بیدار ہو جائیں اور اگلے انتخابات میں پی ڈی پی کو بھی یہاں کا عوام سبق دے گا جس کی شروعات دلی میں ہوئی ہیں۔