اداریہ

سبق جو مل گیا

ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میںبھی لوک سبھا انتخابات کے نتائج سامنے آہی گئے اور اب لوگوں کے سامنے اصل حقائق ہیں جن کے بلبوتے پر ہر شہری کو سیاسی پارٹیوں کی ساکھ کااندازہ ہوتا ہے ۔ ویسے اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو یہی اخذ بھی ہوتا تھا اور اب حقیقت بھی سامنے آہی گئی۔ ریاست میں لوک سبھا انتخابات کے چنائو کی نوٹیفکیشن جاری کیا ہوئی کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ریاست کے سبھی چھ نشستوں پر مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے درمیان طے ہوا کہ جموں کے دو نشستوں یعنی جموں ، ادھمپور اور لداخ کی ایک نشست پر کانگریس کے امیدوار چنائو لڑیں گے اور وادی کے سبھی تینوں نشستوں یعنی اننت ناگ، سرینگر اوربارہمولہ میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار میدان میں رہیں گے اس طرح سے دونوں پارٹیوں نے گٹھ جوڑ کر کے تین تین امیدوار میدان میں اتارے تھے۔
اب جبکہ چنائو نتائج سامنے آگئے اور ریاست کے سبھی نشستوںپر نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد کے مخلوط امیدوار ناکام ہوئے اور ان کی حریف پارٹیوں نے نیشنل اور کانگریس کا ریاست میں صفایا کیا۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے وادی کے سبھی نشستوں پر جیت درج کی جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں نے جموں، ادھمپور اور لداخ کے سیٹیں اپنے کھاتے میں کئے۔ اس طرح سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کا اتحاد ناکام ہوچکا ہے ۔ ان کو پی ڈی پی اور بی جے پی سے سبق مل گیا۔ وادی میں پی ڈی پی کا تینوں نشستوں پرجیت اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ یہ پارٹی وادی کشمیر میں عوام کے تئیں مقبولیت پا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹی وادی کی تینوں سیٹوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی اتنا ہی نہیں ایک عام شہری کو یہ اندازہ احسن طریقے سے ہوتا ہے کہ ریاست میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس دونوں پارٹیوں کے ووٹروں کی تعداد پی ڈی پی کے مقابلے میں بہت کم ہے اوریہ اندیشہ ہے کہ آنے والے اسمبلی الیکشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس کیلئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔