اداریہ

سبھی طبقوں کا خیال رکھنے کی ضرورت

کشمیر میں78 دنوں سے جاری برہان ایجوٹیشن میں نہ صرف اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا ہے بلکہ88لوگ جان بحق ہوگئے جبکہ 15 ہزار کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ وادی میں جاری اس شورش میں اب تک نہ صرف سرکار کو بھاری خسارہ میں جانا پڑا بلکہ اس شورش میں عوام کو بھی نہ صرف مالی بلکہ جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔ وادی میں ایسے لوگوں کی زیادہ تعداد ہے جو اس دوران روزی روٹی سے بھی محروم ہو گئے ہیں ۔ آج کی یہ احتجاجی لہر 2008 اور 2010 کی ایجوٹیشنوں سے الگ دکھ رہی ہے۔2010 کے مقابلے میں آج کی یہ لہر بالکل برعکس ہیں ،88 شہری ہلاکتیں ہونے سے ہر طرف آگ و آہن ہی نظر آتا ہے اور کہیں سے بہتری کی اُمید ہی نظر نہیں آتی ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کی اس ایجوٹیشن جو 8جولائی کے بعد سے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی دو ساتھیوں سمیت جان بحق ہونے کے بعد سے شروع ہوئی ہیں،88لوگ مارے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں ایک بڑی تعداد جو اس شورش میں اپنی بینائی بھی کھو بیٹھے اور کئی زخمی عمر بھر کے لئے ناکارہ بن گئے اور کہیں ایک چلنے پھرنے کے بھی قابل نہیں رہے، کہیں ایک سوچنے سمجھنے کے لائق بھی نہیں رہے اور کہیں ایک زندہ ہو کر بھی مرے ہوئے ہیں،اس لحاظ سے عوامی حلقوں میں ایک لہر سی چل رہی ہے کہ اب اگرچہ حریت لیڈروں کی طرف سے ہڑتال کے طور 29 ستمبر تک احتجاجی کلینڈر جاری کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد بھی ہڑتال کھلنا مشکل ہی لگتا ہے، ایک اندازے کے طور عوامی حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ اس ایجوٹیشن میں قریباً پندرہ ہزار سے زائد خاندان براہ راست متاثر ہوئے ہیں اور یہی اندازہ ہے کہ کم از کم متاثرہ خاندان آج کی اس ایجوٹیشن کو جاری رکھنے کے حق میں ہوں گے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیر گیس، پیلٹ یا بلٹ سے متاثر ہوئے خاندان سے کئی گنا زیادہ خاندان پیٹ کا جنگ بھی لڑ رہے ہیں اور وہ بھی سب سے زیادہ قربانی دے رہے ہیں مگر ان کو قربانی دینے کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ وادی میں پیلٹ، بلٹ یا فاقہ کشی کے طور متاثر ہو نے والے سبھی لوگوں کا خیال رکھا جائے۔