نقطہ نظر

…سب سے بڑا روپیہ

کلدیپ نائر
یہ حقیقت کہ بھارتی شہری روپیہ باہر بھیج دیتے ہیں اس وقت بھی سب کو معلوم تھی جب میں نے 60 برس قبل صحافت کا پیشہ اختیار کیا تھا۔ مغربی جرمنی کی حکومت نے ایک مرتبہ ان لوگوں کی فہرست بھی ہمیں بھجوائی تھی جن کے بینک اکاؤنٹ ان کے ملک میں تھے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ جو لوگ ملوث تھے ان کو سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔ سوئٹزر لینڈ کے بینکوں کے اکاؤنٹ جو بہت خفیہ ہوتے ہیں ان کی فہرست بھی حکومت کی درخواست پر ہمیں فراہم کر دی گئی تھی لیکن اس پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ جن لوگوں کی دولت وہاں تھی وہ بہت بااثر لوگ تھے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ پارلیمنٹ میں سیاسی پارٹیوں کو بیرون ملک سے فنڈز ملنے کا سوال اٹھایا گیا جس پر وفاقی وزارت داخلہ نے انکوائری شروع کر دی تھی تاہم اس رپورٹ کو کبھی ظاہر نہیں کیا گیا البتہ غیر سرکاری طور پر یہ سیاسی پارٹیوں کو دے دی گئی جن میں بائیں بازو کی پارٹیاں بھی شامل تھیں اور سب ہی پارٹیوں کے اکاؤنٹ مغربی جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں تھے۔ اب بھارتی بزنس مین اور صنعتکاروں کی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا ہے‘ وہ بھی اسی درجے میں آ سکتے ہیں۔
پانامہ لیکس کے حوالے سے ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے یہ راز فاش کیا۔ میں نے بعض اخبارنویسوں سے بات چیت کی ہے اور مجھے پتہ چلا ہے کہ ان معلومات تک رسائی کے لیے انھیں چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔یہ بات قابل فہم ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے انکم ٹیکس محکمہ، آر بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کے افسران پر مشتمل ایک پینل قائم کیا ہے تا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے ذمے داری کا تعین کرے۔ لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں کیونکہ متعلقہ افراد کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔
چونکہ پوری قوم اس معاملے پر خوف زدہ ہو گئی ہے لہٰذا پارلیمنٹ میں اس بارے میں بحث ہونی چاہیے۔ لیکن پھر بھی یہ معاملہ الزام تراشیوں اور جوابی الزام تراشیوں سے آگے نہیں بڑھے گا کیونکہ تمام کی تمام سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی طور پر اس میں ملوث ہیں۔ پارٹیوں کو اپنا سیٹ اپ درست کرنا پڑے گا اور اس کے لیے انھیں ذرایع تلاش کرنا ہوں گے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ انتخابات کے دوران بہت بھاری رقوم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ریاست کی اسمبلیوں کے الیکشن کے لیے اندازاً 10,000 (دس ہزار کروڑ) روپے کی ضرورت ہوتی ہے ظاہر ہے کہ لوک سبھا کے انتخاب کے لیے اس سے کہیں زیادہ کروڑوں روپے درکار ہونگے۔
حتیٰ کہ انفرادی ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے بھی بھاری کیش یا جنس کی صورت میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر تامل ناڈو میں اگلے ماہ انتخابات ہونے والے ہیں، جہاں بے شمار افراد کو انتخابات کے لیے رقوم کے غیرقانونی لین دین کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بہت سی پارلیمانی کمیٹیوں کو بھاری فنڈ دیے گئے ہیں تا کہ انتخابی لاگت میں کمی کی جا سکے۔ مگر نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اخراجات میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اشتہار بازی پر پابندی لگا دی ہے اس کے علاوہ اور بھی کئی اقدامات کیے ہیں لیکن مجموعی صورتحال پہلے سے بھی کہیں زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ بہتری کی کوئی امید پیدا نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں، بالخصوص حکمران جماعت، انتخاب جیتنے کے لیے ہر قسم کے حربے استعمال کرتی ہے۔
اقتدار کا مطلب صرف اتھارٹی ہی نہیں بلکہ بے پناہ مال و دولت بھی ہے لہٰذا جیتنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے آزادانہ ووٹنگ تو محض ایک ڈھونگ ہے۔ آئین کی رو سے انتخابات میں ذات پات کو اجاگر کرنے کی اجازت نہیں لیکن ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے روپے پیسے کے علاوہ ذات پات کا بھی بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔
وزیر خزانہ ارون جیٹلے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے لیے کوئی مقدس گائے نہیں لیکن یہ محض کہنے کی بات ہے کیونکہ جیٹلے کو بھی بخوبی معلوم ہے کہ جو سیاسی پارٹیوں کو فنڈ دیتے ہیں ان کو چھوا بھی نہیں جا سکتا کیونکہ سیاسی پارٹیاں انھی کی وجہ سے قائم ہوتی ہیں۔ آخر ایک سیاسی پارٹی اس ہاتھ کو کیسے کاٹ سکتی ہے جو انھیں کھلا پلا رہا ہو۔ الیکشن کمیشن نے اپنی کئی رپورٹوں میں شکایت کی ہے کہ امیدوار مقررہ حد سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ ان حدود کا تعین اس طرح کیا گیا ہے کہ اسمبلی کا امیدوار 28 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ نہیں کرے گا جب کہ لوک سبھا کے لیے یہ حد 70 لاکھ فی انتخابی حلقہ کی ہے۔
لیکن امیدوار کئی گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں کیونکہ سیاسی جماعتوں نے اخراجات کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہوئی اور الیکشن کمیشن کوئی ایکشن لینے میں بے یارو مدد گار ہے کیونکہ امیدواروں کی طرف سے جو گوشوارے جمع کرائے جاتے ہیں وہ محض فرضی ہوتے ہیں کیونکہ جس حد تک اخراجات کی اجازت ہوتی ہے ان میں تو رضاکاروں اور گاڑیوں کا انتظام ہی نہیں کیا جاسکتا۔
اگرچہ ٹیلی ویژن نے اخراجات میں کمی کے امکانات پیدا کر دیے ہیں لیکن امیدوار یہ نہیں چاہتے کہ ان کا پیغام ایک اشتہار کی شکل میں جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو اشتہار کے لیے پیسے بہت زیادہ دینے پڑتے ہیں اور دوسرا یہ کہ ووٹر یہ نہیں پسند کرتے کہ انتخابی مہم اشتہارات کی شکل میں چلائی جائے۔ اگر وزیراعظم انتخابی اخراجات کے بارے میں جھوٹے بیانات کو قبول کر سکتے ہیں تب وہ آف شور سرمایہ کاری کو بھی قبول کر سکتے ہیں کہ اس کی قانونی حیثیت پر کوئی شک نہیں۔
یہ الگ بات ہے کہ اس کی اخلاقی حیثیت کوئی نہیں ہے۔ آف شور سرمایہ کاری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ بھارت میں پورا ٹیکس ادا کرنا نہیں چاہتے جس کی آف شور سرمایہ کاری کے ذریعے بچت ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے کاروباری لوگ اور صنعتکار بھاری ٹیکس بچانے کے لیے آف شور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ حکومت نے کئی مرتبہ عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے بیرون ممالک سرمایہ کاری کرنے والوں کو دعوت دی ہے کہ وہ سرمایہ ملک میں لے آئیں لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اتنی بھاری رقوم ملک میں لا کر بھاری ٹیکس بھی ادا کریں؟مجھے یاد ہے کہ1990ء میں میں جب لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر تھا تو بھارت بہت شدت سے زرمبادلہ کی کمی کا شکار تھا۔
میں نے انگلینڈ میں رہنے والے بھارتی نژاد شہریوں سے ذاتی طور پر اپیل کی کہ ان کی بھارت ماتا کو اس وقت ان کی طرف سے زرمبادلہ کی مدد کی شدید ضرورت ہے لیکن میری درخواست پر کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ جو بھی تھوڑا بہت کریں اس کا بہت اچھا بدلہ دیا جائے۔ ایک دفعہ بھارتی حکومت نے بونڈ جاری کیے جس میں وہ سرمایہ کاری کے لیے تیار تھے کیونکہ ان کے نزدیک ملک سے محبت کا بھی انھیں معقول صلہ ملنا چاہیے تھا۔ بہر حال اب وزیراعظم کو پانامہ لیکس کے بارے میں ضرور تحقیقات کرانی چاہیے اور ایسا کرنے میں وہ حق بجانب ہونگے لیکن انھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جن لوگوں نے ٹیکس بچانے کے لیے بیرون ملک سرمایہ کاری کی ہے وہ اپنا سرمایہ بچانے کے کوئی اور طریقے ڈھونڈ لیں گے۔
دراصل تحقیقات اس بات کی کرائی جانی چاہیے کہ آخر بھارتی شہری اپنے مادر وطن سے زیادہ اہمیت روپے پیسے کو کیوں دیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے محض ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ جیسے نعرے کام نہیں آئیں گے۔ یہ نعرہ آر ایس ایس نے گھڑا ہے لیکن اب اسے لوگوں کے دل میں وطن سے محبت جگانے کا طریقہ بھی تلاش کرنا چاہیے۔ مگر وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے جب وہ اجتماعیت کے معاشرے میں یقین ہی نہیں رکھتی جسکا کہ بھارت کے آزادی کے وقت وعدہ کیا گیا تھا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)