اداریہ

سب کچھ پہلے جیسا نہ ہوا !

۲۰۱۹ کے آخری ایام میں ووہان چین سے شروع ہونے والے وبا کے سفر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ سب کے معمولات بدل گئے ہیں، گھر کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ زندگی آن لائن ہوگئی ہے۔ عندیہ اور نظریہ یہی ہے کہ اس سال بھی وائرس کا پھیلائو ختم نہیں ہو رہا ہے۔ شاید پورے کائنات میں بچے اپنی مائوں سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کیا اب کبھی پہلے جیسا نہیں ہوسکے گا؟ حالانکہ آج سے ٹھیک دو تین ماہ پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ سب کچھ پہلے جیسے ہونے جا رہا ہے مگر اب حالات پھر سے بدلنے لگے اور یہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سب کچھ پہلے جیسا نہیں ہورہا ہے ۔ پہلے وادی میں بھی کورونا کے کیسوں میں لگاتار کمی آرہی ہے اور اب پھر سے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے۔ اس طرح سے یہی اخذ کیا جاتا ہے کہ پہلے جیسا نہیں ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ پہلے جیسا کب تک ہوگا؟ اور کب بچے اور بچیاں اطمینان سے اپنے اپنے اسکولوں میں حاضر ہو کر تدریسی عمل میں شامل ہوں گے۔
پہلے محاذ پر اس وبا کے حملوں کو روکنے والے ماہرین چیخ اٹھتے تھےکہ خدارا انسانوں کی صحت کا خیال کرو۔ صحتِ عامہ پر کاروبار کو ترجیح نہ دو۔ انسان ہوں گے ،صحت مند ہوں گے تو کاروبار ہوگا۔ وہ بجا طور پر کہہ رہے ہیں کہ جب تک آبادی کے تین حصوں کو ویکسین سے ہم کنار نہ کردیا جائے، اس وقت تک سب کچھ نہ ٹھیک نہ کہے بلکہ احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ حالانکہ رپورٹس ہیں کہ اب تک قلیل تعداد میں ہی ویکسین دستیاب کیا گیا، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ابھی فرنٹ لائن ورکروں میں بھی بہت سوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی ۔ جموں کشمیر میں اب کورونا مریضوں کی تعداد پھر سے اچھی خاصی آنے لگی ، تازہ اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں ۷۹ افراد ، جن میں ۱۸ جموں سے اور ۶۱ کشمیر صوبے سے تعلق رکھتے مثبت پائے گئے ۔ اس طرح سے جموں کشمیر میںاب بھی روزانہ اوسطاً سو کے قریب نئے مریض سامنے آرہے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک المیہ سے کم نہیں ہے کہ تقریات، فنکشنوں،میٹنگوں اور مارکیٹوں اور دوسری تقریبات میں سب کچھ پہلے جیسا ہورہا ہے اور اب ماسک پہننے والوں کی شرح بہت محدود ہے بلکہ ماسک پوشی کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
اب کبھی پہلے جیسا نہیں ہوگا؟۔ سوال کرنے والے بچے جب تقریبات، میٹنگوں اور مارکیٹوں میں چلنے پھرنے والے لوگوں کواسی طرح ہجوم در ہجوم دیکھتے ہیں جس طرح سے پہلے دیکھ چکے تھے اور جسمانی فاصلے کو کم ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور کورونا کا کہیں زیادہ ذکر بھی نہیں ہوتا۔ وہ بچے یقیناً کنفیوژن کے شکار ہوتے ہوں گے کہ شاید اُن کی غلط راہنمائی ہو رہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کورونا کے چلتے نہ صرف سکولوں ، بچے اور بچیاں کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ کورونا کا سب سے زیادہ نقصان بے روزگاری بہت بڑھ چکی ہے۔ کیئوں کا کاروبار بند ہواہے۔ شاید ہمارے بچے جوان اپنی عمر کی ابتدا اور عین شباب میں یہ یلغار دیکھ رہے ہیں۔ عمر بھر وہ اس کے اثرات میں محصور رہیں گے۔
تعلیم کی اگر بات ہوگی تو وادی میں تعلیمی اداروں کا بھی نقصان ہو رہا ہے نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ طلبا اور طالبات کا اس حد تک نقصان ہو رہا ہے جس کی تلافی کرنا نا ممکن سا ہے۔ نو نہالوں کا زیادہ ہی نقصان ہو رہا ہے ابتدائی طور تعلیم سے آراستہ ہونے والے بچے جب لگاتار دو برسوں سے گھر میں بیٹھے ہوں گے تو یقیناً ان کا سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ اب جبکہ وادی میں انتظامیہ نے یکم مارچ سے آٹھویں جماعت کے آگے کے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ لیا ہے تاہم حکومت کی طرف سے ایک آرڈر نکالا گیا تھا کہ باقی سکولوں کو ۸ مارچ سے درس و تدریس کے لئے کھالا جائے گا تاہم اب جب کہ۸ مارچ تک دو ہی دن باقی بچے ہیں انتظامیہ نے آرڈر میں ترمیم کر کے چھٹی جماعت کے آگے والے کلاسوں کا سکولوں میں درس و تدریس کے لئے حاضر ہونے کے لئے اعلان کیا ہے، باقی بچوں کو ۱۵ مارچ سے درس و تدریس کےلئے سکول جانے کےلئے کہا گیا ہے۔ حالانکہ ۱۵ مارچ تک ابھی تقریباً دس دن بچے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بچے ۱۵ مارچ کو بھی سکول جا پائیں گے یا نہیں؟ ۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ایک طرف بچے بچیاں کورونا کی ڈر سے خوف محسوس کر رہے ہیں دوسری طرف والدین ایک تذبذب کے شکار ہیں کہ نو نہال بچوں کے تقریباً دو سال مکمل ضائع ہو چکے ہیں۔ جس کا سدباب کرنا ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ نو نہال بچےا ور بچیاں جن کا ابھی ابتدا ہی ہے ان کا مستقبل کیسے بچایا جائے اس کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔