سرورق مضمون

سرینگر سے دہلی تک ا تھل پتھل/ کانگریس کا بیڑہ غرق ، این سی کی بھی ہوا اکھڑ گئی

ڈیسک رپورٹ
پارلیمانی انتخابات شروع ہونے سے پہلے ہی یہ بات صاف ہوگئی تھی کہ اب کی بار کانگریس کو کراری شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔ پورے ملک میں کانگریس کے خلاف لہر چلی تھی اور نریندر مودی کا وزیر اعظم بننا طے ہوگیا تھا۔ انتخابی نتائج نکلنے کی دیر تھی کہ سیاسی پنڈتوں کی تمام پیشن گوئیاں سچ ثابت ہوگئیں اور کانگریس کا ملک سے بسترہ گول ہوگیا۔ کانگریس کے بڑے بڑے لیڈر الیکشن ہار گئے اور بی جے پی اتحاد نے تاریخی فتح حاصل کی۔ اس طرح ملک میں ایک بار پھر سیاسی اتھل پتھل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مودی کے سامنے تمام سیاسی لیڈر ریت کے مہرے ثابت ہوئے اور کوئی بھی ٹک نہ سکا ۔ تیس سال کے بعد مرکز میں پہلی بار کسی ایک پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگئی۔ سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ بھاجپا علاقائی جماعتوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔ یوپی سمیت تمام ریاستوں میں بی جے پی بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ بی جے پی کو283 جبکہ این ڈی اے کو کل337 کل نشستیں حاصل ہوگئیں اس طرح سے کانگریس کو صرف43 جبکہ یو پی اے کو58 حلقوں پر کامیابی ملی ۔
ملک کے ان انتخابی نتائج نے ووٹروں کو زیادہ حیران نہیں کیا ۔ اس طرح کے نتائج کی پیشن گوئی بہت پہلے سے کی جارہی تھی ۔ البتہ جموں کشمیر میں کانگریس نیشنل کانفرنس کو اپنے ساتھ غرق کرے گی ، اس کی بہت کم امید کی جارہی تھی۔ ریاست میں کل چھ نشستوں پر انتخاب ہوا ۔ یہ سب کی سب سیٹیں اپوزیشن نے حاصل کیں۔ این سی کانگریس اتحاد کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ اودھم پور کی سیٹ کے بارے میں سب کہہ رہے تھے کہ کانگریس کے امیدوار غلام نبی آزاد آسانی سے الیکشن جیت جائیں گے ۔ لیکن ووٹ شماری کے پہلے ہی رائونڈ میں ان کے مقابلے میں بی جے پی امیدوار نے بھڑت حاصل کی اور آزاد پیچھے کی طرف چلنے لگی۔ وہ علاقے جہاں آزاد کو یقین تھا کہ انہیں ستر اسی فیصد ووٹ ملیں گے آز اد کے لئے بدشگونی دکھانے لگے ۔ انہیں پہلے ہی مرحلے پر اندازہ ہوا کہ وہ بری طرح سے ہار جائیں گے ۔ آزاد زیادہ دیر کاوٹنگ ہال میں نہ رہ سکے اور دم دباکر بھاگ گئے۔ اس سے برا حال ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا ہوا ۔ نیشنل کانفرنس کو یقین تھا کہ جنوبی اور شمالی کشمیر میں نہ سہی کم از کم سرینگر کی سیٹ وہ ضرور جیت جائیں گے۔ لیکن یہاں بھی ووٹروں نے کامل دکھایا اور این سی کو بری طرح سے شکست ہوئی۔ این سی وادی کی تینوں سیٹیں ہار گئی اور پی ڈی پی ان تینوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔ یہ پہلی بار ہے کہ این سی کو پارلیمنٹ میں ایک بھی نشست نہیں ملی۔ این سی کے لئے اس سے بھاری شکست اب تک کبھی نہ ہوئی ہے ۔ این سی کا خیال تھا کہ ریاست میں بائیکاٹ کی وجہ سے وہ تینوں سیٹیں جیت جائے گی۔ لیکن اس کی امیدوں پر پانی پھر گیا ۔ ڈاکٹر فاروق کے علاوہ محبوب بیگ اور شریف الدین شارق بھی الیکشن ہار گئے ۔ اصل میں یہ این سی حکومت کے خلاف ووٹ ہے اور لوگوں نے عمر عبداللہ کو پیغام دیا کہ انہیں ظلم و جبر اور استحصالی حکومت تسلیم نہیں ہے۔ یہ عمر عبداللہ وزارت کی ناقص کارکردگی کانتیجہ ہے کہ اس کو کسی ایک بھی سیٹ پر کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اس کے برعکس پی ڈی پی اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس کی لیڈر محبوبہ مفتی نے کامیابی سے الیکشن مہم چلائی اور تینوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ان کی اس کامیابی سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ریا ست میں اگلی حکومت پی ڈی پی کی ہوگی ۔ این سی کے دن قریب آگئی ہیں اور اس کی موت یقینی معلوم ہوتی ہے ۔
ملک بھر میںکانگریس کے الیکشن میں ہارنے کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ اس میں رشوت ستانی اور مہنگائی کو بنیادی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ بات بڑی اہم ہے کہ نریندر مودی نے کامیابی سے اپنے لئے میدان ہموار کیا۔ مودی نے ان تمام لیڈروں کو ایک ایک کرکے پارٹی سے دور کیا جن کے خلاف عوام میں کسی طرح کی نفرت پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح مودی نہرو خاندان کے خلاف مہم چلانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے لوگوں کو بتا یا کہ سونیا اور راہول ہرگز ان کے لئے کوئی بہتر گورنمنٹ نہیں دے سکتے ہیں۔ انہوں لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں لائیں گے ۔ انہوں نے عوام کو بتا یا کہ گجرات ان کی نگرانی میں معاشی طور بہت آگے بڑھا ۔ ان کو حکومت کا موقعہ دیا جائے تو ملک سے غربت کا خاتمہ ہوگا۔ یہی وجوہات رہیں کہ انہیں پورے ملک میں لوگوں کی حمایت ملی اور انہوں نے این ڈی اے اتحاد کو تاریخی کامیابی دلائی۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ کس طرح سے گجرات سے نکل کر دہلی میں اپنا دبائو قائم کریں گے ۔