سرورق مضمون

سرینگر میں کاروباری سرگرمیاں بحال

ایک ہفتے کے بعدمزاحمتی قائدین کی تین روز ڈھیل کے پہلے دن اننت ناگ اور کولگام کے کچھ حصوں کو چھوڑ کر شہر سرینگر اور وادی کے دیگر قصبہ جات کے بازاروںمیں اپنی رونق واپس لوٹ آ ئی ہے ۔ اس دوران سڑکوں پر نجی اور کمرشل گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی جاری رہی جبکہ بنکوں، سرکار ی دفاتر تعلیمی اور تجا رتی اداروں میں معمول کا کام کاج ہوا ۔ادھر بجبہاڑہ جھڑپ کے باعث پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر سرینگر بانہال کے درمیان دو روز تک معطل رہنے والی ریل سروس بھی بحال کردی گئی۔ گذ شتہ ہفتے کو دو روز ڈھیل کے بعد سوموار سے جمعہ تک وادی میںپانچ روز تک ہڑتال رہی لیکن بد ھ کوعلیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جاری کردہ اپنے تازہ ہفتہ وار احتجاجی کلینڈ میں ڈھیل میں ایک روز کی توسیع کااعلان کرتے ہو ئے سنیچراور اتوار کے علاوہ سو موار کو بھی ڈھیل دی ہے۔ ڈھیل اورعیدمیلاد النبی کی تقریبات کے سلسلے میں سنیچر کی صبح سے بازاروں میں عرفہ جیسا سمان بند ھ گیا۔شہر سرینگر میں دکانیں ، کاروباری ادارے اور پرائیوٹ تعلیمی ادارے کھل گئے اور سڑکوں پر ٹریفک چلنے لگا۔ بازاروں میںلوگوں نے زیادہ تراشیائے خوردونوش کی ہی خریداری کی۔ٹی آر سی سے لیکر ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ تک جگہ جگہ ریڈہ فروشوں نے اپنا مال سجا رکھا تھا تاہم مارکیٹ میںکل مندی ہی رہی کیونکہ بیشتر لوگ اشیائے خوردنی اور دیگراہم چیزیں خریدنے میں ہی مصروف دکھائی دے رہے تھے۔ پورے شہر سے پولیس اور فورسز کی تعیناتی ہٹائی گئی اورلوگوں کی نقل و حرکت پر عائدپابندیوں کو بھی اٹھایا گیا جبکہ جامع مسجد کا محا صر ہ بھی ہٹا لیا گیا جسکے نتیجے میں پائین شہر اور سول لائنز علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھروں سے باہر آئی اور اشیائے ضروریہ کی بڑے پیمانے پر خریداری کرنے لگے۔ سب سے زیادہ رش سبزی فروشوں اور ضروریات زندگی کی دیگر چیزیں فروخت کرنےوالوں کی دکانوں پر دیکھاگیا اور خریداروں میں خواتین کی خاصی تعداد بھی شامل تھی۔شہر سرینگرمیں سرکاری راشن گھاٹوں پر لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھی گئی اور صبح سے ہی خاص کر خواتین راشن گھاٹوں کے باہر راشن کارڈ لیکر قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آئیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم اے ٹی ایم مشینوں کے باہر بھی گاہکوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آرہی تھیں جہاں سے رقومات نکالنے کے بعد لوگ ضروری چیزوں کی خریداری کےلئے بازاروں کا رخ کررہے تھے۔ادھر شمال وجنوب میںبھی کل زندگی معمول پر آگئی اور کاروباری و ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بحال ہوتے ہی لوگ اشیائے ضروریہ کی خریداری کےلئے بازاروں میں دیکھے گئے۔پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں کل دن بھر لوگوں نے کاروبار جاری رکھا جس دوران سبھی قصبوں کے ساتھ ساتھ گائوں دیہات میں دکانیں کھلی رہیں اور سڑکوں پر نجی اور کمرشل گاڑیوں کی نقل و حرکت دن بھر جاری رہی۔ دونوں اضلاع میں سرکاری اورکئی پرائیورٹ اسکول بھی کھلے رہے ۔ دونوں اضلاع کے جن بازاروں میں رونق دیکھنے کو ملی ان میں کھریو، پانپور، ترال، اونتی پورہ، وین، سنگم،، زینہ پورہ، کیلر اور را جپورہ ، سامبورہ، پاہو،رتنی پورہ، چاڈورہ، کاکہ پورہ، نامن ، لرو، پانپور، کھریو، وانپورہ، پاری گام، کزورہ، لدو، کریم آباد، ایندر، گڈورہ، نیوہ، حسن ونی، رہموہ ،مورن،ڈاڈورہ ، شنکرپورہ اور ددیگر دیہات بھی شامل ہیں میں عام کاروبار بحال ہو گیاجس دوران لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے غذائی اجناس ، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی خرید و فروخت عمل میں لائی ۔جنوبی کشمیر کے بج بہاڑہ آرونی میں دو جنگجووئوں کی ہلاکت کے خلاف اننت ناگ اور کولگام اضلاع کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال کے باعث معمول کی زندگی مفلوج رہی۔
کپواڑہ ضلع میںڈھیل کی وجہ سے صبح ہی دکانداروں نے اپنی دکانیں کھول رکھی تھیں جبکہ سڑکوں پر بھی ٹریفک کی آمدورفت شروع ہوئی اور معمولات زندگی لوٹ آئی جس دوران کل زندگی معمول پر آگئی اور کاروباری و ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بحال ہوتے ہی لوگ اشیائے ضروریہ کی خریداری کےلئے بازاروں میں دیکھے گئے۔ گاندربل،کنگن اورصفا پورہ میں کل لوگوں نے بازاروں کا رخ کرکے خرید و فروخت کی جس کے دوران راشن گھاٹوں پر لوگ لمبی لمبی قطاروں میں راشن حاصل کررہے تھے ۔باندی پورہ قصبے میں کل دن کو صبح سے ہی معمول کا کاروبار شروع ہوا ۔ ، ہندواڑہ، بڈگام میں بھییہی صورتحال ،ٹنگمرگ،کپوارہ ،ہندوارہ، چاڈورہ ،پٹن، ماگام، بیروہ اور وادی کے دیگر قصبہ جات میں دیکھنے کو ملی۔اس د وران مزاحمتی قائدین کی ڈھیل کے دوران شہر سرینگر کے مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام نے مسافروں کی ناک میں دم کردیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک درماندہ رہیں اور مسافروں کو کافی وقت بھی ضائع ہوگیا۔صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گاڑیوں میں سوار مسافروں کی ایک بڑی تعداد کئی کلو میٹر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہوگئی۔
مزاحمتی قائدین کی ڈھیل کے دوران سنیچرار کی صبح سے ہی پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ سڑ کوں پر نمودار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بدترین ٹریفک جام ہواجبکہ ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش میں گا ڑیوں نے اس صورتحا ل کو مزید سنگین بنایا۔ ٹریفک جام سے رام باغ، نٹی پورہ، ایئر پورٹ روڑ، سولنہ، ہفت چنار، گوگجی باغ، راج باغ، جواہر نگر،زیرو برج، ڈلگیٹ، جہانگیر چوک ، بٹہ مالو اور لال منڈی علاقے زیادہ متاثر رہے۔ٹریفک جام کے نتیجے میں سینکڑوں گاڑیاں گھنٹوں پھنسی رہیںجبکہ مریضوں کوہسپتالوں کی طرف لے جارہی گاڑیاں اور سیاحوں کی گاڑیاں بھی ٹریفک جام میں پھنسی رہیں۔ شہر خا ص کے مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کے بدترین نظا رے دیکھنے کو ملے۔ ادھر سنیچرکی صبح قمرواری کے نزدیک ٹریفک جام کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں وقت گذرنے کے ساتھ ہی اضافہ ہوا اور شاہراہ پر آناً فاناً سینکڑوں گاڑیاں درماندہ ہوگئیں۔ اس دوران بانڈی پورہ ، بارہمولہ اور بڈگام کے راستوں سے آنے والی ہزاروں گاڑیاں رُک گئیں اور اسکے نتیجے میں ڈرائیوروں نے دیگرراستوں سے جاکر صورتحال کو مزید سنگین بنادیا۔اس صورتحال کی وجہ سے سرینگر سے آ نے والے مختلف محکموں کے ملازمین بروقت اپنے دفاتر تک نہیں پہنچ سکے، طلاب بھی تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں ناکام رہے جبکہ مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔قمر واری اور فروٹ منڈی بائی پاس میں چھوٹی بڑی مسافر ومال بردار گاڑیاں درماندہ ہوگئیں جبکہ پولیس اور فوج کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایمبولینس گاڑیوں کو بھی سرینگر میں داخل ہونے کاراستہ نہیں ملا۔ دن بھر جاری رہنے والے ٹریفک جام سے جب گھنٹوں تک مسافر بھی درماندہ رہے تو انہوں نے اپنی منزلوں پر پہنچنے کے لئے گاڑیوں سے اتر کر پیدل مارچ شروع کیا۔اس موقعہ پر سینکڑوں مسافروں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ،نے بروقت اپنی منزلوں تک پہنچنے کیلئے پیدل سفر کیاجس کے نتیجے میں ان علاقوں میں پیدل چل رہے لوگوں کی بھاری بھیڑ کے غیر معمولی نظارے بھی دیکھنے کو ملے۔کئی گھنٹوں کے بعد ٹریفک پولیس اہلکار شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن تب تک مسافروں کے گھنٹوں کا وقت ضائع ہوا گیاتھا۔