مضامین

سزائے موت کی پرواہ نہیں

سزائے موت کی پرواہ نہیں

شبنم قیوم
گذشتہ ماہ دہلی میں ایک میڈیکل سٹوڈنٹ کا مسافر گاڑی میں اجتماعی آبرو ریزی کے بعدا س کو سڑک پر پھینکنے کے ساتھ لڑکی کے بوائے فرنڈ کی شدید مارپیٹ کا جو سانحہ پیش آیا اور یہ متاثرہ لڑکی بے ہوشی کی حالت میں ایک مقامی ہسپتال میں داخل کر لی گئی تو چند روز تک کوما میں رہنے کے بعد اس کی موت واقع ہوئی، اس پر دلی کے ساتھ پڑوسی ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، دھرنے دئے گئے، جلسے ہوئے جلوس نکلے، پرائمری سطح سے لے کر یونیورسٹی سطح تک طلبا اور طالبات نے جلوس نکالے احتجاجی مظاہرے کئے، سرکاری سطح پر اس وحشیانہ درندگی پر مذمت کی گئی ، سیاسی لیڈروں اور اپوزیشن نے بھی اس پر کافی شور مچایا، اس ساری صورتحال کو دیکھ کر گینگ ریپ میں ملوث شخص کو سخت سے سخت سزادینے یعنی موت کی سزا دینے کی مانگ کی گئی۔ اغوا کاری اور آبرو ریزی کے قانون میں ترمیم کرکے اس کو سخت بنانے کی تجویزیں پیش کی گئیں، کل ملا کر فیصلہ ہوا گینگ ریپ کے معاملے میں ملوث شخص کو سزائے موت کی سزا کا نہ صرف فیصلہ ہوا بلکہ قانون بھی بننے لگا۔
تب سے لے کر گینگ ریپ میں ملوث شخص کو قتل کی سزا دینے کا فیصلہ طے ہوا اور تب سے لے کر آج تک جب ہم یہ معاملہ ضبط تحریر میں لارہے ہیں، اس میں ذرہ بھی کمی نہیں آئی، آئے دن جو اغوا کاری اور انفرادی و اجتماعی آبرو ریزی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اس کو دیکھ کر یہی اخذ ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو موت کی سزا کی نہ پرواہ ہے اور نہ ہی وہ اس سزا کو خاطر میں لاتے ہیں، یعنی سزائے موت کی ہمیں پرواہ نہیں ہم اپنی خوکیوں بدلیں۔
سزائے موت سے لاپرواہ لوگ آئے دن ایسے حادثات اور واقعات دہراتے ہیں، البتہ ان حادثات اور واقعات میں کم سن بچیوں کا ریپ یعنی پانچ سال کی بچی سے لے کر دس سال کی بچی نہ صرف جنسی درندگی کا شکار بنائی جا رہی ہے بلکہ قتل بھی کر لی جاتی ہے۔ اس بارے میں پورے بھارت میں جو تہذیبی زوال بہت پہلے آچکا ہے۔ وہ پوری طرح پنپنے لگا ہے، یعنی پاک اور خونی رشتے کو پلیٹ کرنا۔
باپ کی طرف سے بیٹی کے ساتھ بھائی کی طرف سے بہن کے ساتھ ، بیٹے کی طرف سے ماں کے ساتھ مباشرت کے جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان کو پڑھ کر یا جان کر انسان ایک گہرے چاہ میں خود کو گرانا چاہتا ہے۔ چونکہ یہ نہایت ہی پاک رشتے ہیں اور ایسے رشتوں کے درمیان جنسی کھیل کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں، ایسے انسان حیوان ہیں، جانور ہیں، کیونکہ حیوانوں اور جانوروں میں رشتے ناطے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔
ہاں! اس تہذیبی زوال میں نہایت ہی پاک رشتے میں زبردستی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یعنی ریب کے دور سے گزرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر وحشی درندہ اور کون ہو سکتا ہے۔
ایسی معصوم کلیان، آدھ کھلے پھول، یعنی جن کی عمر پانچ سے لے کر دس سال کی ہے جو سیکس کے بارے میں نہ کچھ جانتی ہیں اور نہ معلوم ہے ان کے ساتھ یہ کیا اور کیوں ہو رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہم وحشی درندے بھی نہیں کہہ سکتے یہ تو سراسر وحشی درندوں کی توہین ہو گی، کیونکہ وحشی درندے ہوں یا جنگلی جانور وہ اپنی نسل کی کم عمر کے ساتھ مباشرت نہیں کرتے، اُن کے پاس اپنی نسل کی کم سن مباشرت کا تصور بھی نہیں ہے۔ یہ صورت حال کس قدر گھمبیر افسوسناک اور عبرتناک ہے۔ اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا ، اس صورت حال کا ایک اور پہلو بھی ہے، یعنی عشق اور عاشقی میں اپنے والدین بہن بھائی اور لواحقین کو قتل کرنے کے واقعات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس بارے میں ہر یانہ کے روہتک اور اترپردیش کے امروہہ میں بیٹی نے اپنے عاشق کے ہمراہ اپنے اپنے پورے گھر کی فیملی کو قتل کر دیا۔ روہتک میں اہل خانہ کے اور امروہہ میں پورے کنبہ( سات افراد) کا قتل کر دیا گیا۔ اس کنبہ میں معصوم بچے بھی شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے لڑکی نے کھانے میں زہر ملا دیا تھا۔ جب پورا کنبہ ایک طرح سے بے ہوش ہو گیا تو ان کو کلہاڑی سے کاٹ کر ایک ایک کر کے سارے کنبہ کا خاتمہ کیا گیا۔ عاشق اور معشوق کے ہاتھوں اپنے والدین کا بھائی بہنوں کا منظم طریقے سے قتل کرانے کا اور کنبہ کا کنبہ ختم کرانے کے جو حالات اور واقعات سامنے آرہے ہیں۔ اس سے یہی لگتا ہے عشق اور عاشقی میں جوان جوڑے سارے سدھ بدھ کھو کر انتہائی قدم اٹھانے کے دوران اپنے انجام سے بالکل اسی طرح غافل بنے بیٹھے ہیں، جس طرح آبرو ریزی میں ملوث احباب سزائے موت سے لاپرواہ بن رہے ہیں، عشق اورعاشقی کے ساتھ دولت اور جائیداد حاصل کرنے پر اپرٹی ہڑپنے کے لئے بھی اپنے والد اور بھائی کا قتل کوئی نئی بات نہیں۔
اس قسم کا ایک واقعہ ہمارے کشمیر کی راجدھانی سرینگر میں بھی رونما ہوا، جب ایک تاجر باپ کے اکلوتے بیٹے نے باپ کا قتل کر کے اس کی لاش بوری میں بند کر کے دریا کے کنارے ڈالدی۔ اس کے بعد ہماری ریاست میں، ہمارے کشمیر میں اور ہماری وادی میں ایسے واقعات اور حادثات رونما ہوئے جو حیوانیت کے ساتھ وحشیانہ درندگی میں شامل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ ایک دو سال سے اور چند مہینوں سے ہمیں جن المناک اور عبرتناک حالات اور واقعات کا مشاہدہ کرنا پڑا، اس کو ہم کشمیری قوم کے لئے خطرے کی گھنٹی مانتے ہیں۔ اگر ہم نے فوری طور پر یہ خطرہ محسوس نہیں کیا اور اس کا عملی تدارک نہیں کیا تو حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جنسی بے راہ روی، سیکس کا کھیل، عشق اور عاشقی کے ساتھ وحشیانہ درندگی کے واقعات ہمارے کشمیر میں رونما ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ رشتے ناطوں کی مقدس رشتے کی خونی رشتے کی پامالی ہمارے یہاں بھی ہورہی ہے۔ یہاں بھی معصوم بچیوں کو جنسی درندگی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل جو حالات اور واقعات ہم دلی اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں کی راجدھانیوں میں چھوٹے بڑے شہروں میں رونما ہوتے آئے ہیں۔ ہمارے اس کشمیر میں ایک لڑکا ایک مسجد کے امام کے پاس جا کر شکایت درج کراتا ہے اس کا باپ اپنی بیٹی یعنی لڑکے کے بہن کے ساتھ جنسی زیادتی کر رہا ہے۔ اُس کو اس گناہ سے باز رکھا جائے۔ امام صاحب اس شکایت پر اس کے والد کو اپنے پاس بلا کر جب پوچھ لیتا ہے کہ کیا آپ واقعی اپنی بیٹی کو ہوس پرستی کا شکار بنا رہے ہو، تو وہ شرمند ہوئے بغیر اپنے ماتھے پر شکن لائے بغیر امام صاحب کے سامنے اقرار کرتا ہے۔ جیسے اس میں کوئی شرمندگی نہیں۔ کوئی قباحت نہیں، اپنی بیٹی کے ساتھ ، ماں اور بہن کے ساتھ مباشرت کا گھناؤنا کھیل کیا واقعی کشمیر میں داخل ہو چکا ہے۔ کیا یہ خطرے کی گھنٹی نہیں ہے۔ پانچ سال سے لے کر نو دس سال کی معصوم بچی کی آبرو ریزی اور قتل کے بارے میں ہندوستان کے بعض شہروں سے سننے کو ملتے تھے اور ایسا سن کر ہم یقیناًسکتہ میں آکر خود سے پوچھ لیتے تھے یہ کیسی قوم ہے اور ان میں انسانیت کہاں گئی ہے۔ اور یہ حیوان سے بھی بدتر کیوں بن گئے ہیں۔ نہ صرف اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی جو ہرعصمت تار تار کر خونی رشتے کی تذلیل کر رہے ہیں، بلکہ حیوان کے درجے سے بھی بہت نیچے گر کر جو انتہائی شرمناک اور عبرتناک کھیل کھیل رہے ایسا حیوان بھی نہیں کرتا کیونکہ کوئی بھی حیوان کوئی جانور اور کوئی درندہ اپنے کم سن ہم جنس سے مباشرت نہیں کرتا، بلکہ اس مباشرت میں عمر کا لحاظ ضرور رکھتے ہیں، جبکہ انسان پانچ سال سے لے کر 8 سال تک کی معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نہ صرف شکار بناتا ہے بلکہ اکثر حالات میں اس کا قتل بھی کرتا ہے۔ اس طرح وحشیانہ درندگی کا بدترین عمل کرتا ہے چونکہ یہ سب ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے بعض شہروں میں رونما ہوتا آیا ہے۔ اب اس قسم کی وحشیانہ درندگی کا مظاہرہ ہماری اس وادی میں بھی ہونے لگا ہے۔ جس کو عرف عام پر’’ پرِوأر‘‘ کہا جاتا ہے۔ رفیع آباد کے لسر نامی گاؤں میں سات سال کی معصوم بچی کے ساتھ جو وحشیانہ درندگی کا بدترین مظاہرہ ہوا، وہ خطرے کی گھنٹی کے طور پر لے کر اس کا تدارک کرنا پڑے گا اور ایسے وحشی درندوں کو قانونی چکر سے الگ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھلے عام ان کا گوشت کوئے چیل اور گدھ کو کھلانا پڑے گا۔
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔