خبریں

سزائے موت کے خاتمے پر غور

اقوام متحدہ نے سزائے موت کے خاتمے پر غور شروع کر دیا۔ سیکرٹری جنرل جون میں اس پر تبادلہ خیال کرینگے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے سزائے موت کیخلاف پانچویں عالمی کانفرنس کے موقع پر پیغام میں کہا کہ سزائے موت کے مکمل خاتمے کی ہر خطے نے حمایت کی ہے اور تمام عدالتی نظام، روایات اور مذہبی پس منظر کے برعکس ہے۔ حال ہی میں 150 سے زائد ریاستوں نے سزائے موت کو ختم کر دیا یا اس پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال 174 اقوام متحدہ ممبر ریاستوں میں سزائے موت ختم کی گئی ہے۔ بان کی مون نے کہا کہ ان مثبت رحجانات کے باوجود مجھے تشویش ہے کہ کچھ ریاستوں میں سزائے موت پر عملدرآمد جاری ہے اور ہر سال ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی جاتی ہے جو عالمی معیارات کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سزائے موت جن اقدامات کیلئے استعمال ہوتی ہے ان میں زیادہ سنگین نوعیت کے جرائم شامل نہیں جیسے منشیات کے جرائم ہیں اور چند ریاستوں میں ان جرائم کے مرتکب کیخلاف سزا پر پابندی جاری رکھے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جون کے آخر میں نیویارک میں اقوام متحدہ پینل تبادلہ خیال کرے گا۔