مضامین

سعودیہ کا قانون اور غیر ملکی ملازمین کے مسائل

سہیل انجم
اس وقت سعودی عرب میں پاسپورٹ دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانوں کے باہر تپتی دھوپ میں غیر ملکی ملازمین کا ہجوم ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ ایجنٹوں کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔ غیر سعودی ورکرس کے مملکت سعودیہ سے انخلاء کا سلسلہ جاری ہے۔3جولائی تک حکومت نے عام معافی کا اعلان کر رکھا ہے۔ جو غیر قانونی کارکن اس رعایت سے فائدہ اٹھائیں گے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ لیکن اس مدت کے گزر جانے کے بعد اگر کوئی غیر قانونی طور پر رہائش اختیار کرتے اور کام کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت ترین کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ نطاقت قانون کیا ہے اور اس نے بیرونی کارکنوں میں خوف و ہراس کیوں پیدا کررکھا ہے۔ در اصل مملکت سعودی عرب میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور بیرونی کارکنوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں کی وزارت محنت نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے ایک نیا قانون لاگو کیا ہے۔ جس کے تحت تمام مقامی کمپنیوں کے لیے یہ لازم کر دیا گیا ہے کہ وہ دس بیرونی کارکنوں پر ایک سعودی کارکن رکھیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گی تو ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ اس تعلق سے حکومت نے کمپنیوں کے لیے ایک تیس نکاتی چارٹر بھی جاری کیا ہے۔ جس میں بہت سے ضابطے بنائے گئے ہیں اور کمپنیوں کے لیے ان کی پابندی لازمی کردی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو سعودی نوجوان بے روزگار ہیں انھیں کام سے لگایا جائے۔ اس کے علاوہ جو بیرونی کارکن غیرقانونی طریقے سے وہاں رہ رہے اور کام کر رہے ہیں ان کو نکالا جائے۔
اس قانون کے نافذ ہوتے ہی غیر قانونی تارکین وطن میں بھگدڑ مچ گئی ہے اور وہ کسی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے خود کو حکام کے سپرد کر رہے ہیں۔ یعنی وہ مذکورہ قانون اور حکومت کی دی ہوئی رعایت سے فائدہ اٹھا کر اپنے اپنے وطن کو لوٹنا چاہتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی تارکین سعودی عرب میں رہ رہے او رکام کر رہے ہیں۔ تین جولائی کو رعایتی مدت ختم ہونے کے بعد تلاشی مہم شروع ہوگی اور جو لوگ غیر قانونی طور پر رہتے ہوئے پائے جائیں گے ان پر جرمانہ بھی کیا جائے گا اور دو سال کی قید بھی ہوگی۔ تاہم ایسے لوگوں کو رعایت دی گئی ہے جو 3 جولائی 2008سے پہلے عمرہ کرنے گئے تھے اور غیر قانونی طور پر وہیں رہ گئے۔ ان کو گھروں میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کو ان کے ملک واپس کیا جا رہا ہے ان کی انگلیوں کے نشان لیے جا رہے ہیں۔ عام طور پر جن لوگوں کے فنگر پرنٹس لیے جاتے ہیں ان پر ایک خاص مدت کے اندر سعودی عرب میں داخلے پر پابندی ہو جاتی ہے۔ لیکن نئے قانون کے تحت جن کے فنگر پرنٹس لیے جا رہے ہیں ان کو اس تعلق سے سہولت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایسے لوگ جو غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں وہ اگر وہاں اپنی بیویوں کو بھی رکھے ہوئے ہیں تو ان کو وہاں گھروں میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
در اصل یہ معاملہ اس وجہ سے اٹھا کہ ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں سے بہت سارے لوگ عمرہ کرنے جاتے ہیں اور ان میں سے کافی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد وہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ وہ چوری چھپے گھروں یا فیکٹریوں میں سال دو سال کام کرتے ہیں اور اس کے بعد منظر عام پر آجاتے ہیں۔ یعنی وہ باہر نکل آتے ہیں اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ پولیس ان کے اقامہ اور ویزہ کی جانچ کرے اور جب ان کے پاس کوئی دستاویز نہ ملے ، جو کہ ملنے والی نہیں، تو وہ ان کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دے۔ ایسے لوگوں کو جو غیر قانونی طور پر رہتے ہوئے پائے جاتے ہیں انھیں حکومت جیل میں ڈالنے کے بعد چند دنوں کے اندر باہر نکال دیتی ہے اور اپنے خرچے سے ان کو ان کے ملک واپس بھیج دیتی ہے۔ ہندوستان سے اس طرح وہاں قیام کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو عمرے کے ویزا پر جاتے ہیں، خفیہ طور پر رک کر سال دو سال کام کرتے ہیں، اپنے گھر پیسہ بھیجتے ہیں اور جب طبیعت اوب جاتی ہے تو پولیس سے پکڑوا کر ہندوستان واپس آجاتے ہیں۔یہ افواہ بھی گرش کر رہی ہے کہ جب پولیس والوں کو اس منظم پلاننگ کا احساس اور علم ہوا تو انھوں نے ایسے لوگوں سے کمائی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور اب وہاں برسوں سے کام کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک ریکٹ بن گیا ہے۔ اب ایسے ایجنٹ پیدا ہو گئے ہیں جو پولیس سے خود کو پکڑوا کر واپس جانے کے خواہش مند لوگوں سے پیسہ لینے لگے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا پولیس سے تال میل ہوتا ہے اور جب وہ پولیس کو بتاتے ہیں کہ اتنے لوگ مل گئے ہیں تو پولیس مبینہ طور پران لوگوں کو کسی خفیہ مقام پر بلاتی ہے کہ وہاں لے کر آجاؤ۔ اور جب وہ ان لوگوں کو وہاں لے کر جاتے ہیں تو رشوت میں ملی رقم سے اپنا کمیشن کاٹ کر باقی رقم ایجنٹ حضرات پولیس والوں کے حوالے کر دیتے ہیں اور پولیس والے ان لوگوں کو جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ چند دنوں کے بعد وہ حکومت کے ٹکٹ پر اپنے ملک واپس آجاتے ہیں۔
لیکن اب جو قانون وضع کیا گیا ہے اگر اس پر دیانتداری سے عمل کیا گیا تو ایجنٹوں اور پولیس والوں دونوں کی کمائی بند ہو جائے گی۔ البتہ اس وقت ان ایجنٹوں کے وارے نیارے ہو رہے ہیں جو پاسپورٹ، اقامہ اور دوسرے کاغذات بنوانے کا کام کرتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے جہاں اقامہ کے لیے پانچ سو ریال لیے جاتے تھے وہیں اس وقت اس کام کے لیے ڈھائی تین ہزار ریال لیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جب ایجنٹوں سے بات کی گئی تو ان کا کہنا ہے کہ اقامہ بنوانے کی کوئی فیس مقرر نہیں ہے۔ یہ وقت اور حالات پر منحصر ہے کہ اس کے لیے کب کتنی فیس لی جائے۔ چونکہ اس وقت اقامہ بنوانے والوں کی بھیڑ لگ رہی ہے اور سب کو مقررہ مدت کے اندر کاغذات چاہئیں اس لیے زیادہ فیس لی جا رہی ہے۔ سعودی عرب میں مختلف ملکوں کے لوگ کام کرتے ہیں۔ اس وقت وہاں ہندوستان کے بیس لاکھ سے زائد لوگ کام کر رہے ہیں۔ وہ بڑی مقدار میں زر مبادلہ ہندوستان بھیجتے ہیں۔ لیکن اب جبکہ یہ نیا قانون نافذ ہو گیا ہے جس کا نام نطاقت یعنی نظام کو ’’سعودیانے‘‘ کا عمل ہے، تو ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی کارکنوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ لیکن یہ وہی لوگ ہیں جو عمرہ کے ویزے پر جاتے ہیں اور غیر قانونی طریقے سے وہاں ٹھہر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں اکثریت کیرالہ کے لوگوں پر مشتمل ہے۔
ریاض میں ہندوستانی سفارت خانہ پر ایسے لوگوں کی زبردست بھیڑ لگ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر نے ہندوستانیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ آئیں اور وطن واپس جانے والوں کے سلسلے میں کیے جانے والے سرکاری کام میں مدد کریں۔ رپورٹوں کے مطابق چار سو ہندوستانی سفارت خانہ پہنچے ہیں اور وہ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ سفیر نے ایک بار پھر اس کا اعلان کیا ہے اور یہاں ہندوستان سے دس افسروں کو بھی بھیجا گیا ہے کہ وہ سفارت خانہ میں آنے والی درخواستوں پر جلد از جلد کارروائی کریں۔ گزشتہ ہفتے جب وزیر خارجہ سلمان خورشید نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو اس وقت آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ 75ہزار ہندوستانیوں نے وطن واپس ہونے کی درخواست سفارت خانے میں بھیجی ہے۔ اس کے لیے کئی جگہوں پر کلیکشن سینٹر بنائے گئے ہیں تاکہ لوگوں کی درخواستیں لے کر انھیں سفارت خانے میں جمع کیا جائے۔
جہاں تک بے روزگاری کا سوال ہے تو حکومت کا فکر مند ہونا فطری ہے۔ اور ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو روزگار مہیا کرے اور اگر اس سلسلے میں کچھ بیرونی کارکنوں کو واپس بھی کرنا پڑے تو واپس بھی کرے۔ لیکن جانکاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی کارکنوں اورمزدوروں کی زیادہ سے زیادہ موجودگی کی وجہ سعودی افراد خود ہیں۔ در اصل وہ اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم چونکہ سعودی ہیں اس لیے ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے اسٹیٹس اور ہمارے وقار کے خلاف ہو۔ وہاں رہائش پذیر بیرونی باشندوں کے مطابق وہاں کے شہری چھوٹا موٹا کام کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایسے کاموں کے لیے غیر ملکی مزدور کافی ہیں۔ انھیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ پر تعیش زندگی گزارنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اسی لیے وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتے جسے اپنے لیے توہین آمیز سمجھتے ہوں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسا مزاج بن جائے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ نطاقت قانون پھیلی ہوئی بے روزگاری کو روک سکے گا۔ اگر کمپنیاں اپنے یہاں دس فیصد سعودی کارکنوں کے لیے ریزرویشن نافذ کر دیں تو بھی اس کی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ دس فیصد سعودی کارکن یا مزدور انھیں مل ہی جائیں گے۔ بہر حال اس قانون کے بہانے ہی سعودی حکمرانوں کو اپنے عوام کے مزاج کو سمجھنے کا ایک موقع ملے گا اور اگر وہ اپنے یہاں بے روزگاری ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ اور اچھی بات ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں اس قانون کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔