مضامین

سلیکشن بورڈ کے سابق چیرمین مشتاق احمد پیر کا کارنامہ

کامن انٹرنس ٹیسٹ 2012میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کرکے غیر مستحق امیدواروں کو منتخب کرکے کروڑوں روپے کمانے والےBOPEE کے سابق چیئرمین مشتاق احمد پیر کوکرائم برانچ نے بدھ کو طلب کیا جس کے بعد اس سے پوچھ تاچھ کی گئی۔اس دوران انسپکٹر جنرل پولیس کرائم برانچ نے کہا ہے کہ اس سکینڈل سے جو طلبا متاثر ہوئے ان کے بارے میں فیصلہ کرنا حکومت کا کام ہے تاہم جو بھی کوئی شخص اس فراڈ میں ملوث پایا گیا اْسے بخشا نہیں جائیگا۔کرائم برانچ کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ مشتاق احمد پیر نے کرائم برانچ کے سامنے خود کو پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی جس کے بعد اْسے طلب کیا گیا اور پوچھ تاچھ کا عمل شروع کر دیا گیا۔انسپکٹر جنرل پولیس کرائم برانچ جاوید گیلانی نے مشتاق پیرکے سر نڈر کر نے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ موصوف سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اْسے گرفتار نہیں کیاگیا۔انسپکٹر جنرل نے کہا کہ اس کیس کی ہر زاویے اور تمام پہلو ؤں کو مدنظر رکھ کر باریک بینی سے تحقیقات جاری ہے اور عنقریب مزید گرفتاریاں اور انکشافات بھی متوقع ہیں۔ کرائم برانچ نے پہلے ہی سابق چیئرمین کی جائیداد سے متعلق تمام دستاویزات اپنی تحویل میں لے لئے ہیں جبکہ ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کر لیاگیاہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی آر میں نام شامل ہونے کے باوجود بورڈ کے سابق چیئرمین نے کرائم برانچ کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کی لیکن جب ان کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہا تو انہوں نے بالآ خر سرنڈر کیا۔انسپکٹر جنرل نے ایسے امید واروں جن کو بھا ری رقو مات کے عوض ٹیسٹ میں پا س کرا یا گیا کے متعلق کہا کہ ان کیخلاف کا رروائی کی مجا ز صر ف حکومت ہی ہو گی اور یہ ان کے حد اختیار میں ہو گا کہ ان کو رہا کیا جا ئے یا وہ کسی اور کا روائی کے حقدار ہیں۔ بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ا متحا نا ت‘ 2012 کے دوران حیرت انگیز طور پر درجنوں ایسے امیدواروں کو مختلف پیشہ ورانہ کالجوں میں داخلہ دیا گیا جنہوں نے امتحانات میں کامیاب ہونے کیلئے لاکھوں روپے کی رشوت دی تھی۔اس سکینڈل میں ملوث افراد والدین اور خواہشمند افراد کو ایک ہوٹل میں بلاتے تھے اور ان افراد کے ساتھ ہمیشہ ماہرین کی ایک ٹیم ہوتی تھی جو سوال ناموں کو حل کرتے تھے۔ مشتاق احمد پیر پر الزام ہے کہ انہوں نے CET پیپر65لاکھ روپے میں فروخت کئے اور اس سے5 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی گئی۔یہ پیپر درمیانہ داروں کی وساطت سے فروخت کئے گئے۔ اس سکنڈ ل میں ساجد حسین اور فاروق احمد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔فاروق احمد نا می کلید ی ملز م نے کرائم برانچ کو اہم معلومات فراہم کرنے کی یقین دہانی کراکے سلطانی گواہ بننے کی حامی بھر لی ہے جبکہ کرائم برانچ نے اس سکینڈل میں ملوث ہارون رشید ساکن دیلگام اور علی محمد میر ساکن کنلون بجبہاڑہ کو گرفتار کرنے کیلئے جگہ جگہ چھاپے ڈالے۔کرائم برانچ نے سابق چیئرمین کیخلاف کیس زیرنمبر 24/2013درج کرکے اب تک 15طلاب اور 10 والدین سے پوچھ تاچھ کرکے 24ایسے امیدواروں کی نشاندہی کی ہے جن سے رقومات لیکر انہیں ایم بی بی ایس میں منتخب کروایا گیا۔ ایک روز قبل مشتاق احمد پیر کی جموں اور سرینگر رہائش گاہوں پر چھاپے مار کر اہم دستاویزات ضبط کی گئیں جس کے دوران گاندربل میں انکی اراضی اور فلیٹ نیز جموں اور دہلی میں فلیٹوں کے کاغذات کرائم برانچ نے ضبط کر لئے۔اس دوران سول سوسائٹی سے وابستہ ممبران اور متاثرہ امیدواروں کے والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس دھاندلی اور فراد میں ملوث افسران کے خلاف سخت سے سخت سزا دی جائے جو مستحق افراد کے حقوق پر شب خون مار کر اپنے گھر بھر رہے ہیں۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مشتاق احمد پیر کے متعلق مزید کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے والے ہیں جن میں ان کی بحیثیت بورڑ چیئرمین تقرری کے قانونی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا جائیگا۔