اداریہ

سمبل ہلاکتوں پروزیراعلیٰ کو دُکھ

30جون کو سمبل ،بانڈی پورہ علاقے میں دو نوجوانوں کو گولی مارکر ہلاکیا گیا ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب رات دیر گئے کچھ فوجی اہلکارایک گاڑی میں سوار مرکنڈل گاؤں پہنچ گئے ۔گاؤں کا ایک نوجوان گاڑی میں سوار لوگوں کو چور سمجھ بیٹھا اور شور مچانے لگا ، فوجیوں نے اس کے جواب میں گولی چلائی اور عرفان احمد نامی یہ نوجوان موقعے پر ہی ہلاک ہوگیا۔ اس ہلاکت پر اگلے روز احتجاج کرنے کی غرض سے لوگوں نے جلوس نکالا اور نعرہ بازی کرنے لگے ۔ اس دوران وہاں سے فوج کی ایک گاڑی نکلی ۔ مشتعل ہجوم نے اس پر سنگ باری کی ۔ اس سے مشتعل ہوکر فوجیوں نے پھر گولی چلائی اور کوندہ بل کے طارق احمد نامی نوجوان کو ہلاک کیا گیا۔ ان دو نوجوانوں کی ہلاکت پر سارا علاقہ سوگوار ہوا اورلوگ احتجاج کرنے کے لئے گھروں سے باہر آئے ۔ مشتعل ہجوم نے حاجن میں قائم آرمی اسکول کو آگ لگادی اور کئی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا ۔ اس پتھراؤ سے کئی لوگوں کے علاوہ پولیس آفیسر سمیت درجن بھر سپاہی زخمی ہوگئے ۔
سمبل کا یہ علاقی وادی میں اس وجہ سے مشہور ہے کہ یہاں عسکریت کے خلاف پہلا محاذ بنا اور کوکہ پرے کی قیادت میں انقلاب سب سے طاقتور گروہ اسی علاقے میں وجود میں آیا ۔ بعد میں اخوان نام سے عسکریت مخالف یہ گروہ پوری وادی میں منظم ہوا جس سے ہندوستان یہاں کی جنگجو تحریک کی کمر توڑنے میں کامیاب ہوا ۔ اس فورس نے کئی سو مسلم دانشوروں کو ہلاک کرنے کے علاوہ بہت سے جنگجووں کو ماردیا ۔ اس وجہ سے وادی میں سخت دہشت پھیل گیا اور یہ علاقہ سارے عوام کے لئے نوگو ایریا(No Go Area) کے طور جانا جانے لگا ۔ آج اسی علاقے میں فوج نے بغیر کسی اشتعال کے دو نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کردیا ۔ قتل کئے گئے نوجوان عرفان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ فوجی ایک مقامی شخص کے ہمراہ گاؤں میں داخل ہوئے اور فوج کے ساتھ کام کرنے والے اسی شخص نے عرفان کو مروایا ۔ مذکورہ شخص نے خود بھی اعتراف کیا کہ وہ عرفان کی ہلاکت کا عینی گواہ ہے تاہم اس نے از خود عرفان کو ہلاک کرنے سے انکار کیا۔اس نے فوج کو اس قتل کے لئے ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے اس بیان کے بعد پولیس نے فوج کے ساتھ آئے اس شخص کو گرفتار کیا اور تحقیقات شروع کی۔ حریت کے دونوں دھڑوں نے اس تحقیقات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور اس کو محض اشک شوئی قرار دیا ہے ۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نامی مشہور عالمی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے۔اس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فوج کیس کو ملٹری کورٹ میں لینے کی کوشش کرے گی ۔ اسی طرح مرکزی سرکار سے اس میں مداخلت کرنے سے دور رہنے کے لئے کہا گہا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو شک ہے کہ دونوں ادارے کیس کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے۔ حریت (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے 3جولائی کو ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے شمالی کشمیر کے لوگوں سے مرکنڈل اور کوندہ بل جانے کی اپیل کی تھی ۔ لیکن حکومت نے ان کی اس اپیل پر لوگوں کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے اور سڑکوں پر ناکے لگاکر لوگوں کو وہاں پہنچنے نہیں دیا ۔ اس کے باوجود لوگوں میں ان ہلاکتوں پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ احتجاج کررہے۔ علاحدگی پسند لیڈر گھروں میں نظر بند کئے گئے ہیں اورلوگوں کی نقل وحمل پر کڑی نگاہ رکھی گئی ہے ۔ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ فوج کے ہاتھوں ہلاکتوں کو روکنے کا حکومت کے پاس کو ئی طریقہ کار نہیں ہے ۔ فوج جب بھی اور جہاں بھی چاہتی ہے لوگوں کو مار ڈالتی ہے ۔ اس پر لوگ سخت تشویش کا اظہار کررہے ہیں ۔
سمبل ہلاکتوں کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ اس سے کچھ ہی دن پہلے ملک کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے سرینگر کے اپنے ایک دورے کے دوران 1991میں راشٹریہ رائفلز کے ہاتھوں کنن پوشہ پورہ میں ہلاکتوں اور اجتماعی عصمت دری کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ اس نے اعتراف کیا تھا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور اس طرح کے واقعات پیش نہیں آنے چاہئے تھے ۔ لیکن اگلے روز ہی فوج نے بڑی بے دردی کے ساتھ سمبل علاقے میں دو بے گناہ نوجوانوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا ۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ نے اس ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا تاہم یہ بتانے سے انکار کیا کہ ملوث افراد کے خلاف کس قسم کی کاروائی کی جائے گی ۔ ان کے کہنے پر اس علاقے کے ایم ایل اے اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر اکبر لون نے کوندہ بل جاکر وہاں طارق کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور دو لاکھ روپے کا ایکس گریشیا چیک ان کے حوالے کیا ۔البتہ عرفان کے والدین نے کسی قسم کی سرکاری مراعات لینے سے انکار کیا ہے ۔ انہوں نے زوردیا ہے کہ کیس کی تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت ریلیف کی آڑ میں قاتلوں کو بری کرنے کی کوشش کرے گی ۔