اداریہ

سنسنی خیزانکشافات

فوج کی ایک رپورٹ جس میں ریاستی زراعت کے وزیر غلام حسن میر پر نیشنل کانفرنس کی حکومت گرانے کے لئے ا یک کر وڑ 19 لاکھ روپے کی رقم حاصل کرنے کاانکشاف کیا گیاہے۔ اس سنسنی خیز انکشاف میں سابق فوجی سربراہ ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ نے ملٹری انٹیلی جنس کا خصوصی یونٹ قائم کر کے ریاست میں مخلوط سرکار میں شامل وزیر غلام حسن میر کو خفیہ فنڈ سے ایک کروڑ19لاکھ روپے فراہم کئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا یہ رقم سابق جنرل نے ریاستی وزیر کو عمر عبداللہ سرکار کا تختہ پلٹنے کیلئے دیا تھا۔ ریاست میں یہ خبر آتے ہی نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اس کا فوری طور رد عمل ظاہر کیا اورکہا کہ انکشافات نظر انداز نہیں کئے جاسکتے اور یہ معاملہ عدالتی یا سی بی آئی کی تحقیقات کے دائرے میں لایا جائے گا۔وانی نے معاملے کی اعلیٰ سطح سی بی آئی یا سپریم کورٹ کے کسی جج کے ذریعہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اگر واقعی سابق فوجی سربراہ نے یہ کوشش کی تو ظاہر ہے کہ یہ انسانیت سوز ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ویسے ان کوششوں سے متعلق ہوئے انکشاف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا معاملہ بن گیا ہے۔ انکشافات اس لحاظ سے کافی تشویشناک ہیں کیونکہ2010میں کشمیر یوں کا خون پانی کی طرح بہایاگیا۔ ایک سو پچیس کے قریب بے گناہ نوجوانوں اس ایجی ٹیشن میں جان بحق ہوئے۔
عوامی حلقے اب یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ملک کے فوجی سربراہ جب اس قسم کی کارروائیاں انجام دے سکتا ہے تو ایک چھوٹے درجے کے افیسر یا جوان کیا کچھ کر سکتا ہے ۔عوام اس انکشاف پر کافی شش و پنج میں ہے کہ آئے روزیہاں نوجوانوں کی گرفتاریاں ،لاپتہ اور کئی نوجوانوں کو حراست میں لے کر جان بحق کیا جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے ۔